نئی دہلی :(ایجنسی)
چیف جسٹس آف انڈیا این وی رمن نے صحافیوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر کوئی صحافی خود کو کسی نظریے یا حکومت (اسٹیٹ) سے جوڑتا ہے تو یہ اس کی بربادی کا نسخہ ہے۔
سی جے آئی رمن کا یہ بیان ایسے موقع پر آیا ہے جب ملک کے تمام نامور صحافی ٹی وی سے لے کر اخبارات تک حکومت اور حکمراں پارٹی کی حمایت کرتے نظر آ رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ انہیں ’گودی میڈیا‘ کا نام دیا گیا۔ عوامی مسائل ٹی وی چینلز کے مباحثوں اور اخبارات کے صفحات سے غائب ہو رہے ہیں۔چیف جسٹس نے یہ بات ڈیجیٹل میڈیم کے ذریعے ممبئی پریس کلب کے ایک ایوارڈ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔ وہ 10ویںریڈلنکس ایوارڈ تقریب میں ورچوئل مہمان خصوصی تھے ۔ ممبئی پریس کلب صحافت میں نمایاں کام کرنے والوں کو ریڈ لنک ایوارڈ پیش کرتا ہے۔
چیف جسٹس رمن نے کہا کہ بہتر جمہوریت اسی وقت ترقی کرے گی جب اس ملک کا میڈیا آزاد اور نڈر ہوگا۔ لیکن میڈیا نے نظریاتی تعصبات سے گریز کیا۔ آج کل خبروں میں نظریاتی رجحان اور تعصب صاف نظر آرہا ہے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ صحافی بھی کسی جج کی طرح ہوتے ہیں۔ جس طرح جج اپنے نظریے اور عقائد کو بالائے طاق رکھتے ہوئے کسی سے متاثر ہوئے بغیر فیصلے کرتے ہیں، اسی طرح پریس کو بھی ہونا چاہیے۔ صحافی صرف حقائق بیان کرتے ہیں اور معاملے کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ پریس کو عدلیہ پر اعتماد ہونا چاہیے۔
سی جے آئی نے کہا، ’’ان دنوں عدالتوں کے فیصلوں کی سوشل میڈیا پر اپنے طریقے سے تشریح کی جا رہی ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ میڈیا عدلیہ پر اعتماد کرے اور اسے ایسے حملوں سے بچائے۔ میڈیا اور عدلیہ کو ایک دوسرے کے ساتھ چلنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ ہمیں مشن جمہوریت اور ملکی مفاد کی خاطر مل کر چلنا ہے۔










