سیتا پور:(ایجنسی)
اترپردیش اسمبلی انتخابات 2022 کے لئے پہلے مرحلے کی ووٹنگ ہوچکی ہے اور مختلف سیاسی جماعتیں دوسرے مرحلے کی ووٹنگ کی تیاریوں میں مصروف ہیں۔ اس کے ساتھ ہی ریاست میں انتخابی تشدد کے حادثات بھی دھیرے دھیرے بڑھنے لگی ہیں۔ پہلے امیدواروں پر حملے کی خبریں سامنے آئی تھیں اور اب انتخابی میدان میں تال ٹھوک رہے امیدواروں کے حامیوں کے درمیان پُرتشدد جھڑپ ہونے کی خبریں سامنے آرہی ہیں۔ تازہ معاملہ سیتا پور ضلع کا ہے۔ یہاں بی جے پی اور سماجوادی امیدواروں کے حامی آپس میں بھڑ گئے۔ پُرتشدد ٹکراؤ میں لاٹھی-ڈنڈوں کے ساتھ ہی دھار دار ہتھیار سے بھی ایک دوسرے پر حملے کئے گئے۔
واضح رہے کہ پہلے مرحلے کی ووٹنگ کے دوران بھی بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے حامیوں اور کارکنان کے درمیان پُرتشدد جھڑپ ہونے کی خبر سامنے آرہی ہے۔
اطلاع کے مطابق، پُرتشدد جھڑپ کا یہ حادثہ بسواں کوتوالی علاقے کے پپری گاؤں کا ہے۔ مارپیٹ کے دوران لاٹھی-ڈنڈوں کے ساتھ ہی دھار دار ہتھیار کا بھی استعمال کیا گیا۔ پُرتشدد ٹکراؤ میں زخمی لوگوں کو سی ایچ سی میں بھرتی کرایا گیا ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ سیتا پور میں ووٹ مانگنے کو لے کر بی جے پی اور سماجوادی پارٹی کے امیدوار کےحامی آپس میں بھڑ گئے۔ بات اتنی بڑھ گئی کہ دونوں فریق کی طرف سے جم کر لاٹھی ڈنڈے اور دھار دار ہتھیار چلنے لگے۔ مارپیٹ کے دوران دونوں فریق کی طرف سے چار لوگ شدید طور پر زخمی ہوگئے، جنہیں علاج کے لئے سی ایچ سی میں داخل کرایا گیا ہے۔
اطلاع پاکر بی جے پی امیدوار نرمل ورما کوتوالی پہنچے اور پولیس کو جانکاری دے کر کارروائی کرنے کا مطالبہ کیا۔ اس کے بعد پولیس نے دونوں فریق کی طرف سے تحریر لے کر مقدمہ درج کرلیا ہے۔ یہ پورا معاملہ بسواں کوتوالی علاقے میں پپری سہدیوا گاؤں کا ہے۔ پپری سہدیوا گاؤں کے رہنے والے بی جے پی حامی رامو اور دوسرا فریق سماجوادی حامی نسیم کے درمیان ووٹ مانگنے کو لے کر تنازعہ ہوگیا۔ تنازعہ کے سبب دونوں طرف سے جم کر لاٹھی ڈنڈے اور دھار دار ہتھیار چلے۔ اس میں رامو سمیت چار لوگ شدید طور پر زخمی ہوگئے۔ وہیں حادثہ کی اطلاع ہونے کے بعد بی جے پی امیدوار نرمل ورما کوتوالی پہنچے اور منصفانہ کارروائی کئے جانے کا مطالبہ کیا۔ پولیس نے دونوں فریق کی تحریر پر مقدمہ درج کرکے زخمیوں کو علاج
کے لئے اسپتال میں داخل کروایا ہے۔










