گوہاٹی : (ایجنسی)
آسام کے ضلع درنگ میں تجاوزات ہٹانے کے دوران تشدد اور پولیس فائرنگ میں 2 افراد کی ہلاکت کے معاملے میں ایک نیا موڑ آگیا ہے۔ وزیراعلیٰ ہمنت بسوا سرما نے اب دعویٰ کیا ہے کہ پورے واقعے میں پاپولر فرنٹ آف انڈیا (پی ایف آئی) کا رول شک کے دائرے میں ہے۔ وزیراعلیٰ نے کہا کہ انٹیلی جنس رپورٹ پورے واقعہ میں پی ایف آئی کے ملوث ہونے کی طرف اشارہ کر رہی ہے۔ اس سے قبل وزیراعلیٰ نے کہا تھا کہ تجاوز کاروں نے علاقے میں مندر کی زمین پر بھی قبضہ کیا ہوا تھا ۔
سی ایم ہیمنت نے الزام لگایا کہ جس جگہ پر تشددہوا وہاں پر تجاوزات جاری رکھنے کے لیے کچھ لوگوں نے گزشتہ تین مہینوں میں 28 لاکھ روپے جمع کئے تھے ۔ انہوں نے آگے کہا کہ لیکن جب وہ تجاوزات کو ہٹائے جانے سے نہ روک سکے تو انہوں نے لوگوں کو جمع کیا اور ہنگامہ کیا۔
آسام کے وزیراعلیٰ کا یہ بھی دعویٰ ہے کہ واقعے سے ایک دن پہلے پی ایف آئی کے ارکان نے بے گھر افراد کے خاندانوں کو کھانا فراہم کرنے کی آڑ میں تجاوزات والی جگہ کا دورہ کیا تھا۔ ان کے پاس 6 لوگوں کے نام ہیں۔ انہوں نے کہاکہ تجاوزات کو لوگوں کی رضامندی کے بعد ہی ہٹایا جا رہا تھا ،لوگوں سے پوری مہم کو بغیر کسی مخالفت کے کامیاب بنانے کےلیے کہا گیا تھا ۔ انہوں نے اس کا وعدہ بھی کیا تھا، لیکن اگلے دن لوگوںنے ہنگامہ کھڑا کردیا۔
وزیراعلیٰ نے کہا کہ کوئی بھی 30 سیکنڈ کی ویڈیو سے ریاستی حکومت کو نیچا نہیں دکھاسکتے۔ آپ کو دیکھنا پڑے گا کہ اس سے پہلے کیا تھا اور اس کے بعد کیا ہوا ،اگر ہمارے پولس اہلکار اس میں شامل تھے تومیں ان کے خلاف کارروائی کروں گا ۔









