اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

گاندھی کے بھارت اور گوڈسے کے ہندواستھان میں تصادم

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
گاندھی کے بھارت اور گوڈسے کے ہندواستھان میں تصادم
70
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:مولانا عبد الحمید نعمانی

آج کی تاریخ میں گاندھی کے بھارت اور گوڈ سے کے ہندو راشٹر میں زبردست ٹکراؤ چل رہا ہے ، گوڈ سے بسااوقات حاوی ہوتا نظر آتا ہے ۔ لیکن گوڈ سے کے اثرات کو ختم کرنے کی کوشش تکثیری سماج کے حامل بھارت کے حق میں ہے ۔ گوڈسے اور دیگر برہمن وادیوں، کی راہ میں گاندھی جی اوران کا فکرو عمل بڑی رکاوٹ رہی ہے ، ان کی فرقہ پرستی اور مسلمانوں کو اول نمبر کا دشمن کہنے اور دلت تحریکات کے رخ کو موڑنے اور بے اثر کرنے کے پس پشت کئی طرح کے اسباب ہیں ، ان کا تاریخی ، سماجی اور سیاسی تناظر میں بہتر تجزیہ و مطالعہ کی ضرورت ہے ۔ اس سے حال کے فرقہ وارانہ کھیل کو سمجھنے میں بڑی مدد ملے گی ، آج کا بڑا معاملہ یہ نہیں ہے کہ گوڈ سے نے گاندھی کو مارا تھا بلکہ بڑاسوال یہ ہے کہ گوڈ سے نے گاندھی کو کیوں مارا تھا؟ اگر اصل سوال کا صحیح جواب مل جائے تو تقریباً تمام ہندو تو وادی گوڈسے کے ساتھ اور گاندھی کے خلاف اور الگ نظر آتے ہیں ، لیکن چالاکی اور منافقت یہ ہے کہ نام گاندھی کا لیا جا تا ہے اور کام گوڈ سے کا کیا جا رہا ہے ، اگر گوڈ سے کے عدالت اور دیگر مواقع پر دیے بیانات اور اعتراضات کا جائزہ لیا جائے تو یہ حقیقت سامنے آتی ہے کہ گوڈ سے کے مسلمانوں کے متعلق اور گاندھی کے سلسلے کے تمام الزامات و اعتراضات وہی ہیں جو آر، ایس ایس ، بی ،جے پی اور دیگر ہندو تووادی عناصر عائد کرتے ہیں ، گوڈ سے اور ہندو تو وادی لوگوں کے طرز فکر و عمل میں کوئی زبادہ فرق و اختلاف نہیں ہے ، یتی نر سنہا نند جیسے انتہا پسند کم عقل کھلے عام گوڈ سے (ساورکر) کو اپنا آدرش مانتے ہیں ، لیکن جو آئین ہند کے سایہ میں اقتدار کا سکھ ،شکتی سے جڑے رہنا چاہتے ہیں وہ اخلاقی جرات کا مظاہرہ کرنے کے بجائے منافقت سے کام لیتے ہوئے گاندھی کے نام پر امن کو مسترد کرتے ہوئے گوڈ سے کی راہ پر سعادت مندی سے گامزن ہیں ، یہ سنگین معاملہ دیس کو کمزور کرنے اور غلط سمت میں لے جانے والا ہے ، رام ، ہنومان کے نام پر نفرت انگیز ماحول سازی سے کسی سیاسی پارٹی کو کچھ فوائد یقینا مل رہے ہیں ، لیکن بھارت اور اس کے تکثیری معاشرہ کا انہدام ، ناقابل تلافی اجتماعی نقصان ہے ، گاندھی کے بھارت اور گوڈ سے ، گولولکر کے ’’ہندواستھان” میں کھلا تضاد و تصادم ہے ، گاندھی جی نے تسلسل کے ساتھ فرقہ وارانہ ہم آہنگی اور ہندو مسلم کے درمیان بہتر تعلقات پر مبنی اپنے خوابوں کے بھارت بنانے پر زور دیا ہے ، آزادی کے پہلے ، آزادی کے دوران اور آزادی کے بعد بھی انھوں نے رد عمل فرقہ پرستی اور کسی ایک فرقہ ، مذہب کا بھارت بنانے کی کوششوں کو غلط اوربُرے خواب سے تعبیر کیا ہے ۔

اقلیتوں اور کمزورں کی حمایت و تائید، ان کے نزدیک ، خوشامد پسندی اور بے جا طرف داری نہیں بلکہ انصاف پسندی اور حق پر ستی کا ثبوت و اظہار ہے ،گاندھی جی نے اپنے سپنوں کے بھارت، فرقہ وارانہ اتحاد اور عدم تشدد پر بہت تفصیل سے لکھا بولا ہے ، اس حوالے سے گاندھی جی عالمی حیثیت اختیار کرچکے ہیں ، دنیا کے تمام ممالک کے سامنے اور وہاں سے بھارت میں آنے والی قابل ذکر شخصیات کے سامنے انھیں پیش کیا جاتا ہے ، آر، ایس ایس اور بی، جے پی کے لیے اس کے سوا کوئی متبادل نہیں ہے ، ساورکر ، گوڈ سے ، گولولکر میں سے کسی کو ابھی تک ملک کے تکثیری معاشرے اور دنیا کے سامنے لانے کی ہمت و جرات نہیں ہے ۔ یہ اور بات ہے کہ بھارت کو گوڈ سے ، گولولکر کا ’ہندواستھان‘ بنانے کی پوری پوری کوشش کی جارہی ہے ، گاندھی جی نے کہا ہے ’ہم میں سے بعض خدائے رحیم کی بے حرمتی کر رہے ہیں اور مذہب کے نام پر وحشیانہ حرکات کے مرتکب ہور ہے ہیں ، میں جانتا ہوں کہ نہ تو قتل و خوں ریزی اور نہ برادر کشی کسی مذہب کی حفاظت کرسکتی ہے ، جو مذہب ، مذہب کہے جانے کے قابل ہو گا ، اس کی حفاظت ، صرف پاکیزگی نفس ، انکساری اور بے خوفی سے ہی کی جاسکتی ہے ، کوئی سمجھوتا جو ان شرطوں سے آزاد ہو، محض ایک دفع۔ الوقتی ہوگا۔( ینگ انڈیا ۔ 16جون 1927)

ایک اور موقع پر گاندھی جی نے کہا تھا ،’’جہاں تک مجھے معلوم ہے تقریباً135 مساجد توڑی گئی ہیں ، ان میں سے بعض کو مندر بنا لیا گیا ہے ۔ ایک مسجد کناٹ پلیس کے پاس ہے جو کسی کے نظر سے پوشیدہ نہیں رہ سکتی ہے ، اس پر ایک سہ رنگی جھنڈا اڑ رہا ہے ، اس میں ایک بت رکھ کر مندر بنایا گیا ہے ، میں مساجد کی ایسی تمام بے حرمتی کو ہندو دھرم پر ایک دھبہ سمجھتا ہوں‘‘۔ (جریدہ ہریجن ،30نومبر 1947ء)

تمام ہندتووادی اس طرح کے معاملات میں گاندھی جی کے بر خلاف ، ناتھو رام گوڈسے کے ساتھ کھڑے نظر آتے ہیں ،گرچہ سب کے سب گوڈسے کا نام نہیں لیتے ہیں ، ان میں سے بڑی تعداد آر ، ایس ایس اور بی ، جے پی میں شامل ہیں ، گاندھی کا نام لیتے ہیں،یہ محض اپنے غلط کاموں پر پردہ ڈالنے کے لیے ہے ۔ جب کہ کام اصلاًگوڈ سے کا کیا جاتا ہے ۔ آر، ایس ایس اور بی ، جے پی والوں میں اخلاقی جرات اور دیانت داری کی بڑی کمی ہے کہ وہ کھل کر گوڈ سے ، گولولکر ، ساورکر کا گاندھی جی کے مقابلے میں نام نہیں لیتے ہیں اور گاندھی سے خود کو جوڑکر پیش کر تے ہیں ، ان کا چرخہ ، چشمہ اور سابر متی آشرم پوری دنیا کو دکھایا جاتا ہے لیکن ان کے سپنوں کے بھارت کے بر خلاف "ہندواستھان” کی تشکیل کے لیے ہر ممکن طریقے استعمال کیے جارہے ہیں، اسلام اور مسلمانوں کو الگ کر کے جو بھارت بنانے کی راہ ہموار کی جارہی ہے ، اس کا گاندھی اور تکثیری معاشرے کے حامل سب کے بھارت سے کوئی تعلق نہیں ہے ، یہ کچھ مراٹھی فرقہ پرست برہمن وادیوں کی خواہشوں ، امنگوں کے مطابق شرمناک پیشوا راج کی واپسی اور اس میں پورے بھارت کو بدلنے کے کھیل کا حصہ ہے ، اس کھیل کی راہ میں گاندھی جی سب سے بڑی رکاوٹ ہے، اس رکاوٹ کو دور کرنے کی کوششیں کئی سطحوں پر شروع کی گئیں ، پہلے تو ان کی حیثیت ختم کرنے اور اکثریت میں نفرت پھیلانے کی مہم کاآغاز کیا گیا ، اس سلسلے میں نہرو اور سیکولر سوچ کے دیگر لیڈروں کو نشانے پر رکھا گیا ، گاندھی جی کے سکریٹری پیارے لال نے ’مہاتما گاندھی دی لاسٹ فیز‘ میں لکھا ہے کہ نوجوانوں کے ذہن کو تیار کرنے کے لیے گاندھی جی کے ساتھ نہرو اور دیگر کانگریسی لیڈروں کی تصویریں ان کے جوتوں میں رکھوائی جاتی تھیں ۔ (دیکھیں کتاب کی جلد دوم صفحہ914 مطبوعہ نوجیون پبلیشنگ ہاؤس احمد آباد 1958)

پھر اگلے قدم کے طور پر گاندھی جی کو قتل کر دیا گیا ۔ اس سے پہلے بھی کئی جان لیوا حملے کیے جا چکے تھے ، اگر گوڈ سے اور آج کے ہندو تو وادیوں کے الزامات دیکھیں تو دونوں میں بڑی مماثلت نظر آتی ہے ، اس صورت حال کو بدلنا تمام انصاف پسند اور اخوت و مساوات نواز ہندستانیوں کی ذمہ داری ہے ۔ اگر گاندھی کے سپنوں کے بھارت، سب کے بھارت کو گوڈ سے ، گولولکر کے ہندواستھان میں بدلنے سے نہیں روکا گیا تو ان لوگوں کے ہاتھوں بھارت یر غمال ہو کر بد صورت ہوجائے گا جن کا آزاد بھارت کی تعمیر و تشکیل میں کوئی حصہ نہیں رہا ہے ۔

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN