نئی دہلی :(ایجنسی)
کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی اور پارٹی جنرل سکریٹری پرینکا گاندھی واڈرا نے جمعہ کو دہلی میں اتر پردیش اسمبلی انتخابات کے لئے کانگریس کا یوتھ منشور جاری کیا۔ اسے ریکروٹمنٹ قانون سازی کا نام دیا گیا ہے۔
اس موقع پر راہل گاندھی نے کہا کہ بی جے پی حکومت کے گزشتہ 5 سال کے دور حکومت میں اتر پردیش میں 16 لاکھ نوجوانوں کا روزگار ختم ہوا ہے۔ انہوں نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے کہا تھا کہ وہ 2 کروڑ لوگوں کو روزگار دیں گے لیکن ایسا نہیں ہوا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش کے نوجوانوں کو ایک نئے وژن کی ضرورت ہے اور یہ کام صرف کانگریس ہی کر سکتی ہے۔
کانگریس نے پہلے خواتین کے حقوق کی لڑائی کی بات کرتے ہوئے اعلان کیا تھا کہ اس مرتبہ اتر پردیش میں کانگریس 40 فیصد خواتین کو پارٹی کا امیدوار بنائے گی اور اب اس نے نوجوانوں کے لئے ایک وژن دستاویز جاری کیا جس میں نوجوانوں کی نوکریوں سے لے کر ان کے کھیل، تعلیم اور صحت پر زور دیا۔
پریس کانفرنس کے دوران کانگریس کا انتخابی منشور جاری کرتے ہوئے پارٹی کے سابق صدر راہل گاندھی نے اپنے خطاب میں مودی حکومت کو ہدف تنقید بنایا۔ راہل گاندھی نے کہا کہ موجودہ حکومت صرف اور صرف صنعت کاروں کے ہاتھ مضبوط کرنے کا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کا کام نفرت پھیلانا نہیں ہے اور پارٹی جھوٹے وعدے نہیں کرتی بلکہ لوگوں کو جوڑنے کا کام کرتی ہے۔
راہل گاندھی نے کہا کہ ہم آپ کو روزگار کس طرح سے دلائیں گے یہ سب ہم نے اس انتخابی منشور میں لکھا ہے۔ اس منشور کو تیار کرنے کے لئے کانگریس پارٹی نے ریاست کے نوجوانوں سے بات کی ہے اور ان کے خیالات کو جانا ہے اور اسے اس منشور میں ڈالا ہے۔ راہل گاندھی نے کہا کہ اتر پردیش میں ہر 24 گھنٹے میں تقریباً 880 نوجوان روزگار کھو دیتے ہیں۔ بی جے پی کے گزشتہ 5 سالوں میں تقریباً 16 لاکھ نوجوانوں نے روزگار کھویا ہے۔
دریں اثنا، کانگریس کی جنرل سکریٹری اور انچارج یوپی پرینکا گاندھی نے کانگریس کا انتخابی مشور جاری کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ یوپی میں سب سے بڑا مسئلہ نوجوانوں کا روزگار ہے لہٰذا کانگریس کے منشور کا نام ’بھرتی ودھان‘ رکھا گیا ہے۔
پرینکا گاندھی نے کہا کہ اردو اساتذہ، سنسکرت کے اساتذہ، آنگن باڑی اور آشا وغیرہ کی خالی اسامیوں کو پر کیا جائے گا۔ بھرتی کے عمل سے نوجوانوں کا بھروسہ ٹوٹا ہے اسے بحال کرنے کے لئے تمام مقابلہ کے امتحانوں کے فارم کے لئے فیس معاف ہوگی اور بس ٹرین کا سفر مفت ہوگا۔
پرینکا گاندھی نے مزید کہا کہ ایک جاب کلینڈر جاری ہوگا، جس میں بھرتی کے اشتہار، امتحان، تقرر کی تاریخیں درج ہوں گی اور اس کی خلاف ورزی کرنے پر سخت کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ریزرویشن میں گھوٹالہ کو روکنے کے لئے ہر بھرتی کے لئے سماجی انصاف کے مبصرین تعینات ہوں گے۔
پرینکا گاندھی نے بتایا کہ کانگریس کا یہ دستاویز صرف روزگار فراہمی کی بات نہیں کرتا بلکہ یونیورسٹیوں میں انتخابات کرانا، کھیلوں کے لئے سہولیا ت فراہم کرانا، کھیلوں کے لئے اکیڈمی قائم کرنا، اسکالرشپ کو بڑھنا اور ضرورتمندوں تک کیسے پہنچے اس کو یقینی بنانا، نوجوان اپنا کاروبار کیسے شروع کر سکتے ہیں، صنعتی کلسٹر بنانا، قرض دینا اور صحت کو کیسے بہتر بنایا جائے اس پر تفصیلی بات کرتا ہے۔ انہوں نے اس موقع پر ایک اہم پہلو پر بھی توجہ دلائی کہ ریاست میں نوجوانوں کی ایک آبادی نشہ کی جانب جا رہی ہے اس کو کیسے روکا جائے اور اس کی لت سے متاثرین کو نجات دلانے کے لئے کیمپ لگائے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اس سے لڑنے کے لئے لکھنؤ میں ایک مرکز قائم کیا جائے گا۔ پرینکا گاندھی نے یہ بھی کہا کہ کانگریس کی کوشش ہے کہ منفی باتوں سے پرہیز کیا جائے اور نوجوانوں کے مستقبل کے لئے کوشش کریں۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی پارٹیاں فرقہ وارانہ اور ذات پات کی بات کر رہی ہیں لیکن کانگریس ترقی کی بات کر رہی ہے۔
نوجوان انتخابی منشور میں کانگریس کے وعدے
مقابلہ کے امتحانوں کے امیدواروں کو بس اور ریل میں مفت سفر کی سہولت ہوگی
خواتین کے لیے 8 لاکھ سرکاری ملازمتیں فراہم کی جائیں گی
تمام مقابلہ جاتی امتحانات کی فیس معاف کی جائے گی
ریاست کے 20 لاکھ نوجوانوں کے لئے روزگار
اساتذہ کی 1.50 لاکھ خالی آسامیاں پر کی جائیں گی
نوجوان کاروباریوں کو ترجیح دی جائے گی
سیڈ اسٹارٹ اپ فنڈ کے لیے 5 ہزار کروڑ روپے واگزار ہوں گے











