لکھنؤ :(ایجنسی)
مرکزی وزیر اجے مشرا ٹینی کے استعفیٰ کے مطالبہ کو لے کر دہلی سے لکھنؤ تک زبردست ہنگامہ برپا ہے۔ لوک سبھا اور راجیہ سبھا میں اس معاملے پر ہنگامہ آرائی کے بعد کانگریس اور ایس پی لیڈر لکھنؤ میں سڑک پر اتر آئے ہیں۔
اتر پردیش کانگریس کمیٹی کے صدر اجے کمار للو اور لیجسلیچر پارٹی لیڈر آرادھنا مشرا کی قیادت میں سڑک پر اترےپارٹی لیڈروں نے ٹینی کو برخاست کرو کے نعرے لگائے۔ انہوں نے ہاتھوں میں اس مانگ کو لے کر لکھے گئے پوسٹر بھی اٹھا رکھے تھے ۔
ایس پی کارکنوں نے مرکزی حکومت سے ٹینی کو ہٹائے جانے کی مانگ کرتے ہوئےمظاہرہ کیا۔
دریں اثناء کانگریس کے رکن پارلیمنٹ راہل گاندھی نے لوک سبھا میں کہا کہ وزیر لکھیم پور کھیری معاملے میں ملوث ہیں۔ راہل نے کہا،’انہوں نے کسانوں کو مارا ہے، انہیں سزا ملنی چاہئے۔ وزیر کو حکومت سےباہر کیا جانا چاہئے۔ وہ مجرم ہیں ۔ ان کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے۔‘‘
اس معاملے میں جانچ کے لیے تشکیل دی گئی ایس آئی ٹی کی رپورٹ آنے کے بعد اپوزیشن سرکار پر حملہ آور ہو گئے ہیں۔ ایس آئی ٹی نے کہا ہے کہ یہ واقعہ کسانوں کے قتل کرنے کی سوچی سمجھی سازش تھی۔ اس معاملے میں سپریم کورٹ کی پھٹکار ، کسانوں اوراپوزیشن کے دباؤ کےبعدمعاملے کے کلیدی ملزم ٹینی کےبیٹے آشیش مشرا کو پولیس نے گرفتار کرلیاتھا۔ لیکن ٹینی کی برخاستگی کی مانگ کولے کر اپوزیشن بضد ہے۔
لکھیم پور کھیری واقعہ میں کسانوں کو گاڑیوں سے روند دیا گیا تھا۔ اس واقعے میں کل 8 لوگوں کی موت ہوئی، جن میں سے 4 کسان ہیں۔ کسانوں کے ساتھ بی جے پی کے تین کارکنوں شبھم مشرا، شیام سندر نشاد اور ہری اوم مشرا کو بھی ہجوم نے مار ڈالا۔ اس واقعے میں ایک صحافی کی بھی موت ہو تھی ۔









