نئی دہلی :(ایجنسی)
لوک سبھا ممبر پارلیمنٹ اور اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ کرنے والے دونوں ملزمان نے اتر پردیش پولیس کو دیے گئے ایک بیان میں کہا ہے کہ اس نے پہلے بھی تین بار حملے کی منصوبہ بندی کی تھی لیکن وہ اپنے ارادے میں کامیاب نہیں ہو سکے۔ جمعرات کو میرٹھ سے دہلی واپس آتے ہوئے اسد الدین اویسی کی گاڑی پر فائرنگ کی گئی تھی، جس کے بعد پولیس نے سچن شرما اور شبھم نامی دو ملزمان کو گرفتار کیا تھا۔
پولیس میں درج ایف آئی آر کے مطابق دونوں ملزمان نے ابتدائی طور پر پولیس کو تسلی بخش جواب نہیں دیا۔ لیکن جب پولیس نے اسے بتایا کہ یہ واقعہ سی سی ٹی وی میں قید ہو گیا ہے تو ملزم سچن نے معافی مانگی اور سارا واقعہ بیان کیا اور بتایا کہ اس نے اس کی مکمل منصوبہ بندی کیسے کی تھی۔
پولیس کو دیے گئے بیان میں ملزم سچن نے کہا کہ میں بڑا لیڈر بننا چاہتا تھا اور میں خود کو سچا محب وطن سمجھتا ہوں۔ مجھے اویسی کی تقریریں ملک مخالف لگتی تھیں۔ میرے دل میں اس کے لیے نفرت بھر گئی تھی۔ اس نے پولیس کو مزید بتایا کہ وہ اویسی کےسفرپرنظر رکھنے کےلیے اے آئی ایم آئی ایم کے ڈاسنا صدرکےرابطہ میں تھا۔ جس کےبعد اس نے فیصلہ کیا کہ وہ کسی تشہیر مہم کے دوران ہی اویسی پر حملہ کرے گا۔ اس کے بعد اسنے سہارنپور کےرہنےوالے شبھم سے رابطہ کیا ۔ وہ شبھم کوکئی سالوںسے جانتا ہے ۔
ایف آئی آر میں درج بیان کے مطابق سچن نے کہا کہ اس نے اویسی پر حملے کی منصوبہ بندی کرنے کے بعد شبھم کو فون کیا۔ شبھم 28 جنوری کو غازی آباد آیا اور ہم دونوں ویب سٹی کے قریب ملے۔ شبھم اپنے دوست کے ساتھ رہ رہا تھا۔ ہم دونں نے مل کر اویسی کو مارنے کا فیصلہ کیا اور صحیح وقت کا انتظارکرنے لگے۔
اس کے بعد دونوں 30 جنوری کو غازی آباد کے شہید نگر پہنچے، جہاں اویسی کا جلسہ ہو رہا تھا۔ وہ دونوں ایک ہی دن اپنے پلان کو عملی جامہ پہنانا چاہتے تھے لیکن بھیڑ کی وجہ سے دونوں نے اپنا منصوبہ ملتوی کرنے کا فیصلہ کیا۔ پولیس کو دیئے گئے بیان میں سچن نے یہ بھی بتایا کہ پہلا منصوبہ ناکام ہونے کے بعد وہ دونوں جمعرات کو میرٹھ کے گولا کنواں بھی گئے۔ یہ دونوں اویسی کو مارنے کے ارادے سے وہاں پہنچے تھے لیکن بھیڑ کی وجہ سے پھر دونوں کو اپنا منصوبہ ملتوی کرنا پڑا۔
بعد میں وہ دونوں کٹھور بھی پہنچ گئے لیکن وہاں بھی بھیڑ ہونے کی وجہ سے وہ اپنے ارادے کو انجام نہیں دے پائے۔ اس کے بعد دونوں کو پتہ چلا کہ اویسی اپنی سفید ایس یو وی میں دہلی جا رہے ہیں۔ ایف آئی آر کے مطابق ان دونوں نے اس معلومات کا علم ہوتے ہی حملہ کرنے کا فیصلہ کیا کیونکہ وہ نہیں جانتے تھے کہ انہیں ایک اور موقع کب ملے گا۔
سچن نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ شام کے وقت جیسے ہی اسد الدین اویسی کی گاڑی چھجارسی ٹول پر آئی اور ٹول پر آہستہ آہستہ گزر رہی تھی۔ اسی وقت میں اور شبھم نے اتفاق کیا اور اویسی کو مارنے کے لیے ان کی گاڑی کو نشانہ بناتے ہوئے گولیاں برسانا شروع کر دیں۔ جیسے ہی میں نے پہلی گولی چلائی، اویسی نے مجھے گولی چلاتے ہوئے دیکھا اور وہ جان بچانے کے لیے گاڑی کے نیچے بیٹھ گئے۔ پھر میں نے اس کی گاڑی پر گولی مار دی۔ مجھے اویسی کی موت کی امید تھی۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی کہا کہ انہیں نہیں معلوم کہ شبھم نے کتنی گولیاں چلائیں کیونکہ اس کے بعد دونوں مختلف سمتوں میں بھاگے۔
شبھم نے پولیس کو یہ بھی بتایا کہ اس کی بندوق جام ہو گئی اور وہ ایک راؤنڈ سے زیادہ فائر نہیں کر سکا۔ ایف آئی آر کے مطابق دونوں نے پولیس کو بتایا کہ وہ نہیں جانتے کہ اویسی کیسے بچ گئے۔










