دہرا دون:(ایجنسی)
ہرید وار کی ایک سیشن عدالت نے پیر کو متنازع یتی نرسنگھانند کو ضمانت دے دی۔گزشتہ سال دسمبر میں ہری دوار میں منعقدہ دھرم سنسد میںمسلمانوں کی نسل کشی کی دھمکی دی گئی تھی۔ اس کا اہتمام نرسنگھانند نے کیا تھا۔ اس معاملے میں وہ اور وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن سنگھ تیاگی جیل میں ہیں۔ نرسنگھانند کی ضمانت کا حکم ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج بھارت بھوشن پانڈے نے دیا ہے۔
سیشن کورٹ نے ضمانت کی درخواست کی ₹50,000 کی دو ضمانت اور مساوی رقم کے ذاتی بانڈ کے ساتھ مشروط اجازت دی ہے۔ ضمانت دیتے ہوئے عدالت نے کچھ شرائط بھی مقرر کی ہیں: ملزم کو حکم دیا جاتا ہے کہ وہ مجسٹریٹ کے سامنے حلف نامہ داخل کرے گا کہ اس حکم کے بعد کوئی بھی ایسی تقریر نہیں کی جائے گی جس سے معاشرے میں نفرت پیدا ہو اور فرقہ وارانہ ہم آہنگی خراب ہو۔ اور نہ ہی ایسی کسی تقریب کا حصہ ہو گا، جس کا بنیادی مقصد مختلف گروہوں کے درمیان دشمنی کو فروغ دینا اور ہم آہنگی کی بحالی کو متعصبانہ طور پر متاثر کرنا یا کسی جرم سے ملتی جلتی نوعیت کے جرائم کا ارتکاب کرنا ہے۔
ملزم نرسنگھانند کو جانچ کے دوران تفتیشی افسر(آئی او) کےذریعہ جانچ میں تعاون کے لیے بلائے جانے پر ان کے حکم کے مطابق جانچ افسر کے سامنے پیش ہوناہوگا۔ جانچ کے دوران ہر مہینے کی 10 تاریخ کو اپنی موجودی کی اطلاع مقامی پولیس اسٹیشن کو دینی ہوگی یعنی حاضری لگانی ہوگی۔
وہ بلاواسطہ یا بالواسطہ طور پر ترغیب دینے، دھمکی دینے میں ملوث نہیں ہوگا اور نہ ہی تفتیش کے دوران گواہوں پر منفی اثر ڈالے گا۔ دوران تفتیش وہ متعلقہ عدالت؍مجسٹریٹ کی اجازت کے بغیر بیرون ملک نہیں جائے گا اور اگر ملزم کے پاس پاسپورٹ ہے تو وہ سات دن کے اندر اپنا پاسپورٹ انکوائری آفیسر کے حوالے کرے گا۔
عدالت نے کہا کہ ضمانت کی اس درخواست کے حکم سے کیس کے میرٹ پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔ نرسنگھانند کی طرف سے وکیل نارائن ہر گپتا پیش ہوئے تھے۔










