گروگرام: (ایجنسی)
گروگرام میں نمازجمعہ کو لے کر تنازع تھمنے کا نام نہیں لے رہا ہے۔ گزشتہ ہفتے گروگرام کے سیکٹر 12 میں جہاں ہر بار جمعہ کی نماز ادا کی جاتی تھی وہاں پر ہندو تنظیموں نے گووردھن پوجا کی اور آج صبح سےہی ہندو تنظیموں کے لوگ نماز پڑھنے والی جگہ پر بیٹھ کر مونگ پھلی کھا رہے ہیں۔ پچھلی بار یہاں پوجا کے لیے گوبرکےاپلے لگے تھے، اسےہندو تنظیموں نے نہیںہٹانے دیا۔ ہندو تنظیموں کا کہنا ہے کہ کسی بھی قیمت پر نمازنہیں ہونے دیں گے۔ وہیں اس معاملہ میں مسلم تنظیم کارروائی نہی کرنے کا الزام لگا رہے ہیں۔ ہندو تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ ہم یہاں والی بال کورٹ بنائیں گے ۔
واضح رہے کہ بی جے پی کے لیڈر کپل مشرا گروگرام سیکٹر 12-اے میں اس مقام پر گووردھن پوجا میں شامل ہوئے تھے، جہاں مسلم برادری کے لوگ ہر ہفتہ نماز جمعہ ادا کیا کرتے تھے۔ اس پوجا کا انعقاد ہندو تنظیم، سنیکت ہندو سنگھرش سمیتی نے کیا تھا۔ عوامی مقام پر نماز ادا کرنے پر اعتراض کرتے ہوئے مشرا نے کہا کہ اگر مختلف مذاہب، مسلک اورفرقے کے لوگ ہرہفتہ ایک دن کھلےمقام پر قبضہ کرلیتے ہیں،تو اس کے نتائم میں تمام سڑکیں اور پارک ہند ہوجائیں گے ۔ ہمیں سڑک پر چلنے، اپنے دفتر ،اسپتال ،کام کی جگہ جانے اور کاروبار چلانے کی آزادی چاہئے۔ اگر ایک برادری کے لوگ ہر ہفتہ اس آزادی کو چھین لیں، تواجازت نہیں دی جاسکتی ہے ۔ دنیا میں کہیں بھی اس کی اجازت نہیں ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ گروگرام کے سیکٹر12 میں 29 اکتوبر کو جمعہ کی نمازادا کرنے میں مبینہ طور پر خلل ڈالنے کے لیے جمع ہوئے تقریباً 30 لوگوں کو پولیس نے کچھ وقت کے لیے حراست میں لے لیاتھا۔ علاقے میں بھاری تعداد میں پولیس فورس کی موجودگی کے درمیان اہم طور پر مختلف ہندوتنظیموں کے مظاہرین نے گزشتہ جمعہ کو ’ جے شری رام‘ اور ’ بھارت ماتا کی جے‘ کے نعرے لگائے تھے۔ حالانکہ مسلم برادری کے لوگ نماز ادا کرنے کے لیے مقام پر پہنچتے رہے۔ تین سال پہلے ضلع انتظامیہ نے شہر میں مسلمانوں کے لیے جمعہ کی نماز ادا کرنے کے واسطے 37 مقام نشان زد کئے تھے جس کے بعد کچھ ہندوتنظیموں نے مخالفت کی تھی۔ کچھ مہینےپہلے ایک گروپ نے کھلے میں نماز پڑھنے کی مخالفت شروع کی، جس کے بعد گزشتہ ایک مہینے سےجمعہ کو مظاہرے ہو رہےہیں۔









