نئی دہلی :(ایجنسی)
دہلی میں گزشتہ 24 گھنٹوں میں کورونا کے 17,335 نئے معاملے سامنے آئے ہیں۔ یہ تعداد پچھلے سال 8 مئی کے بعد آنے والے نئے کیسز میں سب سے زیادہ ہے۔ وہیں دہلی میں کورونا انفیکشن کی شرح فی الحال 17.73 فیصد ہے، جو گزشتہ سال 11 مئی کے بعد سب سے زیادہ پازیٹیو شرح ہے۔
فی الحال، کورونا کے بڑھتے اعداد و شمار کو دیکھتے ہوئے،دہلی میں جمعہ کی رات10 بجے سے ’منی لاک ڈاؤن‘ یعنی ویک اینڈ کرفیو جاری ہے۔ ویک اینڈ کرفیو پیر کی صبح 5 بجے تک جاری رہے گا۔ 3 جنوری تک کورونا کے انفیکشن کی شرح 6 فیصد سے اوپر پہنچ گئی تھی جس کے بعد گریڈڈ رسپانس ایکشن پلان (GRAP) نے یلو الرٹ جاری کیا تھا۔
پازیٹیویٹی شرح سے پتہ چلتا ہے کہ ٹیسٹ کیے جارہے ٹیسٹ میں کل کتنے مریض پازیٹیو آرہے ہیں۔ اس کا زیادہ ہونا یہ بتاتاہے کہ انفیکشن تیزی سے پھیل رہا ہے۔ دہلی میں پازیٹیویٹی شرح 17.73فیصد ہے ،یعنی جو کل ٹیسٹ ہوئے ہیں اس میں 17.73 فیصد لوگ پازیٹیو ہیں۔
پیرکو ہوگی ڈی ڈی ایم اے کی میٹنگ
دہلی میں کورونا کے بڑھتے ہوئے خطرے کے پیش نظر، دہلی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (ڈی ڈی ایم اے)کی پیر کو میٹنگ ہو گی۔ میٹنگ میں کورونا کے حالات کے پیش نظر کچھ مزید سخت فیصلے کیے جا سکتے ہیں۔ اس سے قبل منگل کو ڈی ڈی ایم اے کی میٹنگ ہوئی تھی جس میں ویک اینڈ کرفیو لگانے کا اعلان کیاگیا تھا۔ ویک اینڈکرفیو کے دوران ضروری خدمات میں شامل لوگوںاور ضروری ایشیا کو چھوڑ کر پیر صبح 5 بجے تک سب کچھ بند رہے گا۔
دہلی حکومت نے ویک اینڈ کرفیو کے دوران ضروری سامان اور خدمات کی فراہمی سے وابستہ کچھ لوگوں کو اپنا جواز شناختی کارڈ دکھا کر باہر آنے کی اجازت دی ہے، لیکن جن لوگوں کو ان دو دنوں کے دوران کوئی ہنگامی کام ہے،تو وہ ڈی ایم آفس میں درخواست دے کر پاس جاری کرا سکتے ہیں۔ درخواست کے لیے دہلی سرکار کی ویب سائٹ www.delhi.gov.in پر اپلائی کرنا ہوگا۔
انہیں E-PASS جاری کروانا ہوگا
اس کے علاوہ الیکٹریشن، کارپینٹر، واٹر سپلائی جیسی خدمات فراہم کرنے والے پرائیویٹ ورکرز کے لیے ای پاس جاری کیا جائے گا۔
اخبار کے ہاکر، آئی ٹی سروس اور بینک ملازمین کو بھی کرفیو کے دنوں کے لیے ڈی ایم آفس سے اجازت لینی ہوگی۔
پھلوں اور سبزیوں، دودھ، ادویات اور طبی آلات کے سپلائی کرنے والوں کو بھی متعلقہ ڈی ایم آفس سے ای پاس جاری کروانا ہوگا۔
وہیں گھروں میں کام کرنے والے لوگوں (باورچی، باغبان، صفائی والا وغیرہ) کے لیے ویک اینڈ پر کوئی رعایت نہیں دی گئی ہے۔ دہلی کے وزیر صحت نے واضح کردیا ہے کہ ہفتے کے آخر میں کرفیو کے دوران لوگ دو دن تک کام کرنے والوں کے بغیر بھی انتظام کر سکتے ہیں۔
دہلی میں ویک اینڈ کرفیو کے دوران مستثنیٰ لوگوں کی فہرست
1- ضروری اور ہنگامی خدمات میں شامل افسران اور ملازمین کو کرفیو کے دوران اپنی جواز شناخت ظاہر کرنے پر ویک اینڈ اور نائٹ کرفیو سے چھوٹ دی جائے گی۔
2- حکومت ہند، اس کے ماتحت دفاتر اور PSUs کے افسران بھی اپنے شناختی کارڈ دکھا کر سفر کر سکیں گے۔
3- سپریم کورٹ، ہائی کورٹ اور دہلی کی تمام عدالتوں کے عملے کے ساتھ ساتھ وکلاء عدالتی انتظامیہ کی طرف سے جاری کردہ اپنی جواز شناخت یا اجازت نامہ دکھا کر وہاں سے جا سکیں گے۔
4- دہلی میں دیگر ممالک کے سفارت کاروں کے دفاتر میں خدمات انجام دینے والے افسران اور ملازمین کو بھی چھوٹ دی جائے گی ۔
5- تمام ہیلتھ ورکرز جیسے ڈاکٹرز، نرسنگ اسٹاف، پیرا میڈیکس اور اسپتال کی دیگر خدمات جیسے کہ تشخیصی مراکز، لیبز، کلینک، فارمیسی، فارماسیوٹیکل کمپنیاں، میڈیکل آکسیجن سپلائی کرنے والے عملہ کو شناختی کارڈ دکھا کر جانے کی اجازت ہوگی۔
6- جواز شناختی کارڈ اور ڈاکٹر کے نسخے کی بنیاد پر آٹینڈر کے ساتھ ساتھ حاملہ خواتین اور دیگر مریضوں کو بھی صحت خدمات کے لیے جانے کی اجازت ہوگی۔
7- کووڈ19-ٹیسٹ یا ویکسینیشن کے لیے جانے والوں کو بھی شناختی کارڈ پیش کرنے پر باہر نکلنے کی اجازت ہوگی۔
8- ہوائی اڈوں، ریلوے اسٹیشنوں، بین ریاستی بس ٹرمینس سے آنے یا جانے والے مسافروں کو ٹکٹ دکھانےپر سفر کرنے کی اجازت ہے۔
9- الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا کے میڈیا اہلکاروں کو جواز شناختی کارڈز دکھانے پر آمد روفت کی اجازت ہوگی۔
10- طلباء کو امتحان میں شرکت کرنے اور امتحانی ڈیوٹی کے لیے تعینات عملے کو شناخت، ایڈمٹ کارڈ دکھانے پر جانے دیا جائے گا ۔
11- شادی کارڈ کی سافٹ یا ہارڈ کاپی پیش کرنے پر، 20 افراد کو شادی کی تقریب میں شرکت کی اجازت ہو گی۔











