اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

تاریخ کو مسخ کرنے کا خطرناک کھیل

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر, مضامین
A A
0
تاریخ کو مسخ کرنے کا خطرناک کھیل
134
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر:شکیل رشید

تونصابی کتابوں سے مغل اور مسلم تاریخ کا ’صفایا‘ کردیاگیا!

مودی اور بی جے پی کی مرکزی سرکار کے اس عمل کو محض’ تاریخ کا بھگوا کرن‘ کہنا درست نہیں ہے ۔ نہ ہی اسے ’تعلیمی پروپگنڈہ‘ کہنا، مکمل سچ ہے ۔ یہ عمل ’ صفائے‘ کا عمل ہے ، ’تطہیر‘ کا عمل ہے ۔ اسے ایک مذہب اور ایک فرقے کی ’ نسل کشی ‘ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ ظاہر ہے کہ جس کی تاریخ کا صفایا کردیا جائے گا ، اس کی نسل کہاں باقی رہ سکے گی ، مٹ جائے گی ۔

ابھی کوئی ایک ہفتہ قبل ہی یہ خبر آئی ہے کہ ’سینٹرل بورڈآف سیکنڈری ایجوکیشن‘ (سی بی ایس ای) نے نصاب کی کتابوں سے افریقی- ایشیائی خطوں میں اسلامی مملکتوں کے پھلنے پھولنے اور قیام سے متعلق ابواب ہٹادیئے ہیں ، ساتھ ہی ساتھ بھارت میں مغل حکومت کے ابواب بھی نکال دیئے ہیں۔ مزید جو ابواب ہٹائے گیے ہیں ، وہ ’ناوابستہ تحریک‘ ’ سرد جنگ‘ اور ’ صنعتی انقلاب‘ سے متعلق ہیں ۔ ایک باب ’غذائی تحفظ‘ سے متعلق ہے ، اس میں سے ’زراعت پر گلوبلائزیشن کے اثرات‘ کے عنوان سے ایک موضوع تھا ، اسے بھی ہٹادیاگیا ہے ۔ ایک حصہ مذہب ، فرقہ پرستی ،سیاست اور سیکولر ریاست کا تھا ، اس حصے سے اردو زبان کے مشہور انقلابی شاعر فیض احمد فیض کی نظموں کو ہٹادیاگیا ہے ۔ یہ ابواب ’تاریخ‘ اور ’ سیاست‘ کی نصابی کتابوں میں شامل تھے ۔ تبدیلیاں ’نیشنل کونسل آف ایجوکیشنل ریسرچ اینڈ ٹریننگ‘ ( این سی ای آرٹی) کی تجاویز پر کی گئی ہیں ۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف سی بی ایس ای کی نصابی کتابوں میں تبدیلیاں کی گئی ہیں ، صوبائی تعلیمی بورڈوں نے بھی نصابی کتابوں میں تبدیلیاں کی ہیں ، مہاراشٹر کی مثال لے لیں جہاں بی جے پی اور شیوسینا کی سابقہ حکومت میںمہاراشٹر اسٹیٹ ایجوکیشن بورڈ نے ساتویں اور نویں جماعتوں کی ’ تاریخ‘ کی نصابی کتابوں سے مغل دور کو حذف کیا اور درسی کتابوں میں ’ مراٹھا دور، بالخصوص شیواجی کے دور‘ کو مکمل طور پرشامل کیا تھا۔ مہاراشٹر کی تاریخ کی درسی کتابوں سے تاج محل ، قطب مینار اور لال قلعے کا تذکرہ مکمل طور پر غائب ساہے ۔ ہاں بوفورس گھوٹالے ، ایمرجنسی وغیرہ کے ذکر کو شامل کردیاگیا تھا۔

سوال یہ ہے کہ یہ تبدیلیاں کس لیے ہیں ؟

اس سوال کا جواب مودی کی مرکزی اور بی جے پی کی صوبائی حکومتوں کے ’ اعمال ناموں‘ پر ایک نظر ڈال کر بخوبی ہوجاتا ہے ۔ اترپردیش کی مثال لے لیں ، وہاں جب سے یوگی آدتیہ ناتھ وزیراعلیٰ بنے ہیں ۔۔۔ اب تو یہ ان کا دوسرا ٹرم ہے ۔۔۔انہوں نے اُن تمام شہروں کے ناموں کو ، جو مسلم شناخت کو ظاہر کرتے تھے ، تبدیل کرنا ، یا یہ کہہ سکتے ہیں کہ حرفِ غلط کی طرح مٹانا شروع کردیا ہے ۔ فیض آباد ضلع کا نام ایودھیا کردیا گیا ہے ، الہ آباد کا نام پریاگ راج رکھ دیا گیا ہے ، مغل سرائے ریلوے اسٹیشن کو دین دیال اپادھیائے جنکشن کردیاگیا ہے ۔ علی گڑھ کا نام ہری گڑھ کرنے کی تیاری ہے ۔۔۔ تاکہ جس طری اکبرالہ آبادی کو اکبر پریاگ راجی کردیا گیا اسی طرح علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کو ہری گڑھ مسلم یونیورسٹی کردیا جائے ۔ ابھی ابھی بی جے پی کے کئی لیڈروں نے یہ تجویز پیش کی ہے کہ دہلی کے اطراف کے 40گاوؤں کے نام تبدیل کردیئے جائیں۔ اس تجویز کو آگے بڑھانے میں دہلی بی جے پی کے صدر آدیش گپتا پیش پیش ہیں ۔ ہوایہ ہے کہ حال ہی میں جنوبی دہلی کے محمد پورنام کے ایک گاؤں کا نام تبدیل کرکے مادھو پورم رکھا گیا ہے ، اس کو بی جے پی اور سنگھی ایک بڑی کامیابی مان رہے ہیں اور یہ مطالبہ کررہے ہیں کہ مزید 40 گاوؤں کے نام تبدیل کردیے جائیں ۔ فہرست تیار کرلی گئی ہے اور جلد ہی ناموں کی تبدیلی کی تجویز دہلی حکومت کو ، بذریعہ کارپوریشن بھیج دی جائے گی ۔ آدیش گپتا کا کہنا ہے کہ یہ نام ’غلامی کی علامت ہیں‘ اور یہ کہ ’ لوگ خود ان ناموں کی تبدیلی کے خواہاں ہیں‘ ۔ حالانکہ دہلی کی کیجریوال سرکا رنے بی جے پی پر یہ کہہ کر سخت تنقید کی ہے کہ جب بی جے پی کارپوریشن پر خود حکومت کررہی تھی تب یہ نام کیوں تبدیل نہیں کیے گیے ؟ لیکن اندازہ یہی ہے کہ ناموں کو تبدیل کردیا جائے گا ۔ ناموں کی تبدیلی کا یہ عمل ہر اس ریاست میں ہورہا ہے جہاں بی جے پی کی حکومت ہے ۔ مہاراشٹر میں بھلے بی جے پی کی حکومت نہ ہومگر شیوسینا ، وزیراعلیٰ ادھو ٹھاکرے جس کے سربراہ ہیں ،عرصۂ دراز سے اورنگ آباد کا نام سمبھاجی نگر کرنے کا مطالبہ کرتی چلی آرہی ہے ، ممکن ہے کہ یہ مطالبہ پھر شدت اختیار کرے ، اور اس بار اسے مہاراشٹر نونرمان سینا کے سربراہ راج ٹھاکرے اور بی جے پی کے لیڈران اٹھائیں ۔

مسلم ناموں کی تبدیلی کے اس عمل کا مقصد کیا ہے ؟ ا س سوال کا جواب بہت ہی آسان ہے ، لوگوں کے حافظے سے اس سچ کو کہ اس ملک پر مسلمانوں نے تقریباً آٹھ سو سال حکومت کی ، مغلوں کی حکومت تین سوسال رہی ، نکال دیا جائے ۔ لوگوں کے ذہنوں سے یہ بات کھرچ کر پھینک دی جائے کہ مسلم حکمرانوں نے اس ملک کو سونے کی چڑیا بنانے میں اہم کردار ادا کیا تھا۔ یہاں تعمیرات کے فن کو عروج پر پہنچایا تھا او رملک کو لال قلعہ وتاج محل جیسی عالیشان عمارتیں دی تھیں ۔ ادب وثقافت کو مالا مال کیا تھا ۔ اور یہ کہ ان کے دورِ حکومت میں مذہبی جبر کے واقعات شاذونادر ہی ہوتے تھے ، وہ گنگا جمنی تہذیب کے نمائندے تھے ۔مغل تاریخ مٹانے کا مقصد اس بات پر زور دینا بھی ہے کہ اس ملک کی ترقی میں مسلمانوں کا کوئی حصہ نہیں ہے ۔ اور یہ بھی بتانا ہیکہ ملک کی آزادی میں نہ ان بادشاہوں کا کوئی حصہ ہے اور نہ ہی مسلمانوں کا ۔ خیر ، مسلم مجاہدین آزادی کے ناموں کا ، درسی ونصابی کتابوں سے ، نکالے جانے کا عمل تو بہت پہلے شروع ہوگیا تھا، اتنا پہلے کہ آج مسلمانوں کی جو نئی نسل ہے اسے بھی یہ پتہ نہیں ہے کہ اس ملک کی آزادی کے لیے مسلمانوں کی قربانیاں کیا ہیں! انہیں یہ نہیں پتہ کہ مغل بادشاہ بہادر شاہ ظفر کو اس لیے رنگون میں قید کیا گیا تھا کہ وہ مجاہد آزادی تھے اور صرف قیدہی نہیں کیاگیا تھا ان کے دوبیٹوں کے سروں کو کاٹ کر طشت میں سجاکر ان کے سامنے پیش کیاگیا تھا۔ سچ یہی ہے کہ ہندوستان کی آزادی کی کہانی اور تاریخ مسلمانوں کے خون سے لکھی گئی ہے۔ دہلی کے انڈیا گیٹ پر 95,300 مجاہدین آزادی کے نام تحریر ہیں جن میں سے 62,945 نام مسلم مجاہدین آزادی کے ہیں ۔ آزادی کی جدوجہد تو 1780ء میں ہی شروع ہوگئی تھی جب مجاہد آزادی ٹیپوسلطان نے انگریزوں سے ٹکر لی تھی۔ اب تو درسی اور نصابی کتابوں سے ٹیپو سلطان کا نام ہٹانے کی بھی تجویز آگئی ہے ، بلکہ کرناٹک میں جہاں بی جے پی کی سرکار ہے ، اس پر عمل شروع ہوچکا ہے ۔ہماری آج کی نسل نہ تو اشفاق اللہ شہید کو جانتی ہے ، نہ ہی امیر حمزہ ، مولانا محمود حسن ، مولانا کفایت اللہ ، مولانا برکت اللہ بھوپالی کو ۔ حد تو یہ ہے کہ مولانا آزاد اور مولانا محمد علی جوہر ومولانا حسرت موہانی تک کو بھلا دیاگیا ہے ۔ اور آنے والے دنوں میں تو یہ نام لوگوں کو قطعی یاد نہیں رہیں گے ۔ تو اب ہویہ رہا ہیکہ جن کی ایک روشن تاریخ ہے انہیں ہی تاریخ سے حذف کیا جارہا ہے ، اور جن کی کوئی تاریخ نہیں ہے ، جیسے کہ سنگھ پریوار ، جونہ آزادی کی لڑائی میں شامل تھا اور نہ ہی آزادی کی تحریک میں ، وہ انہیں تاریخ میں شامل کررہا اور کروا رہاہے جن کانہ ملک کی ترقی میں اہم کردار ہے نہ ہی قوم کی ترقی میں ۔

ظاہر ہیکہ جس قوم کی تاریخ مٹادی جائے گی وہ قوم ازخود مٹ جائے گی ۔ آر ایس ایس کی ، بی جے پی کی مرکزی وصوبائی حکومتوں کے توسط سے یہی کوشش ہے کہ اس ملک کی مسلم تاریخ کو مٹادیا جائے ، تاکہ اس ملک کے مسلمان بغیر کسی تاریخ کے رہ جائیں ۔ یہ بھی ’ نسل کشی‘ کا ہی ایک طریقہ ہے ۔ اسے ’تطہیر‘ اور ’صفایا‘ بھی کہا جاسکتا ہے ۔ اس ’ تطہیر‘ اور ’ صفالے‘ کے عمل کو آگے بڑھانے کے لیے گذشتہ 98 سالوں سے کوشش جاری ہے اور آنے والے دوسالوں میں اس پر مکمل طور پر عمل درآمد کی تیاری ہے ۔ دوسال بعد 27ستمبر 2025ء کو آر ایس ایس کے قیام کو پورے سوسال مکمل ہوجائیں گے ، اس کے لیڈروں نے آزاد ، جمہوری، سیکولر بھارت کو ’ ہندوراشٹر‘ میں تبدیل کرنے کے لیے سوسال کی مدت طے کی تھی، لہٰذا سوسال ہوتے ہی یہ ملک مکمل’ ہندوراشٹر‘ میں تبدیل ہوجائے گا ۔ ہوسکتا ہے کہ ایسا نہ ہوسکے کہ ظلم بہت دنوں تک نہیں چلتا ،لیکن ان کی پوری کوشش یہی ہے۔ تین سال قبل 2019 میں انگریزی زبان میں ایک کتاب آئی تھی جس کا نام ہے ’ دی آر ایس ایس روڈ میپ فور دی ٹوئینٹی فرسٹ سنچری‘ یعنی اکیسویں صدی کے لیے آر ایس ایس کا منصوبہ ۔ یہ کتاب سنیل امبیکر کی لکھی ہوئی ہے ، جو سنگھ کے اعلیٰ درجہ کے ’ پرچارک‘ اور کھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد( اے بی وی پی) کے، جو بی جے پی کی طلباء تنظیم ہے ، آرگنائزنگ سکریٹری ہیں ، ان کی اس کتاب میں ایک باب ’ بھارت کی تاریخ‘ کے عنوان سے ہے ۔ اس باب میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ یہ جو تاریخ آج پڑھائی جاتی ہے اس میں نہ ’سوتنترا‘ ( آزادی) ہے اور نہ ہی ’ سوادھرما‘ ( اپنا خود کا دھرم) لہٰذا یہ تاریخ ’بھارتیتا‘ کے خلاف ہے، مسخ ہے ، اس میں سے قبائلی تاریخ نکال دی گئی ہے ، لہٰذا اسے درست کرناہے۔اورسنگھ تاریخ کو ’ درست‘ کرنے کا مشن لے کر آگے بڑھ رہا ہے ۔ وہ کہتے ہیں کہ ہندوستانی تاریخ کو تحریر کرنے کا منصوبہ بڑا ہی اہم ہے ، اور اس سوال پر غور ضروری ہے کہ ہمارے اقدار کیا تھے ؟ اس سوال کے جواب میں وہ ویدوں اور اپنشدوں کی بات کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ ’’ہندوستان کا دھارمک اتہاس (تاریخ) ایک خزانہ ہے ۔‘‘ وہ سوشل ہسٹری‘ یعنی ’ سماجی تاریخ‘ کا بھی ذکر کرتے ہیں اور بتاتے ہیں کہ آر ایس ایس ’ اکھیل بھارتیہ اتہاس سنکلن یوجنا‘ کے تحت ، تاریخ کےسوالوں کے جواب کھوجنے اور جواب دینے کے لیے محضوص تاریخی منصوبوں پر کام کررہا ہے ۔ یہ کام کیا ہے ؟’’مسخ بھارتی تاریخ کو درست کرنا‘‘۔ اسے اگر میں ’’مسخ تاریخ کو مزید مسخ کرنا‘‘ کہوں تو شاید زیادہ درست ہوگا۔ وہ بتاتے ہیں کہ ’’تعلیم کا بھارتیہ کرن کیا جائے گا ‘‘ اس میں ’’پرواسی بیانیہ کی شمولیت ہوگی‘‘ اور ’’متعصبانہ تعبیرات کو حذف کردیا جائے گا ۔‘‘ وہ رام مندر کی بھی بات کرتے ہیں اور نئے میوزیم گھروں کی بھی تاکہ ’’گمشدہ تاریخ کی بازیافت کی جاسکے ‘‘ ۔ تو یہ ہے پورا منصوبہ ، اور سال 2022-23ء سے اس منصوبے پر عمل شروع ہورہا ہے ۔ ابھی تو درسی کتابوں سے ہی مسلم اور مغل نام ہٹاکر فرقہ پرستی اور فرقہ وارانہ خلیج کو مزید وسیع کرنے کا خطرناک کھیل شروع ہوا ہے ، آگے آگے دیکھئے ہوتا ہے کیا!

(یہ مضمون نگار کے ذاتی خیالات ہیں)

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN