نئی دہلی :(ایجنسی )
شمال مشرقی دہلی میں سال 2020 میں فسادات کے مقدمات کی سماعت کے لیے قائم خصوصی عدالت نے دہلی پولیس پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔ عدالت نے کہا کہ دہلی پولس کے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عدالت میں حاضر نہیں ہو رہے ہیں جس کی وجہ سے کیس کی سماعت میں تاخیر ہو رہی ہے۔
وریندر بھٹ کی عدالت نے شمال مشرقی دہلی کے ڈی سی پی کو نوٹس جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس معاملے میں نئے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر کو مقرر کیا جانا چاہئے جو پولیس کے ساتھ کھڑے ہوں۔ اس نوٹس کے ایک ہفتے کے اندر ڈی سی پی کورٹ کو رپورٹ دیں۔
ایف آئی آر نمبر 59/20 جس میں سرکاری وکیل امت پرساد کو سرکار بمقابلہ سلمان اور دیگر کیس میں پیش ہونا تھا، لیکن وہ ہائی کورٹ میں پیش نہیں ہوئے کیونکہ وہ دوسری سماعت میں مصروف تھے۔ جس کے بعد ڈی کے بھاٹیہ کو بلایا گیا لیکن انہوں نے پیش نہ ہونے کا اظہار کیا۔ اس کے بعد مدھوکر پانڈے کو بلایا گیا لیکن ان کی طرف سے کوئی مثبت جواب نہیں آیا۔
ایڈیشنل سیشن جج بھٹ نے کہا کہ فساد ایک حساس معاملہ ہے جس کے لیے خصوصی عدالت قائم کی گئی تھی۔ فسادات کے تمام معاملات دہلی پولیس نے اسپیشل پبلک پراسیکیوٹرز کی ایک ٹیم کو سونپے تھے تاکہ مقدمے کی سماعت مناسب طریقے سے ہوسکے۔
لیکن عدالت کو کئی بار پتہ چلا ہے کہ اسپیشل پبلک پراسیکیوٹر عدالت میں پیش نہیں ہوتے، جس کی وجہ سے سماعت التوا کا شکار ہے۔ جس کی وجہ سے کیس نمٹانے میں تاخیر ہو رہی ہے۔
اپوزیشن کے وکیل نے سرکاری وکیل کی عدالت میں عدم پیشی پر بھی سوالات اٹھائے۔ عدالت میں وکلا کی عدم پیشی کے باعث سماعت میں تاخیر ہو رہی ہے اور ان کے موکل جیل میں ہیں۔
عدالت نے خط میں کہا کہ اس سے پہلے بھی نارتھ ایسٹ ڈی سی پی کو وکلاء کی غیر حاضری کے حوالے سے اقدامات کرنے کو کہا گیا تھا۔
بتا دیں کہ دہلی فسادات کی جانچ کے لیے کئی بار عدالت دہلی پولیس کو پھٹکار لاچکی ہے۔ کڑکڑڈوما عدالت نے سابق کونسلر طاہر حسین کے بھائی سمیت تین ملزمان کو بری کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’پولیس موثر تحقیقات کا ارادہ نہیں رکھتی۔ تفتیشی ایجنسی نے صرف عدالت کو اندھا کرنے کی کوشش کی ہے اور کچھ نہیں۔ یہ کیس ٹیکس دہندگان کی محنت کی کمائی کا بہت بڑا ضیاع ہے۔ اس معاملے کی تحقیقات کا کوئی حقیقی ارادہ نہیں ہے۔‘
قابل ذکر بات یہ ہے کہ 6 دسمبر کو عدالت نے دہلی فسادات کیس میں پہلی بار کسی کو قصوروار ٹھہرایا تھا۔ دنیش یادو کو آتش زنی کے معاملے میں مجرم قرار دیا گیا ہے، جسے عدالت 22 دسمبر کو سزا سنائے گی۔









