نئی دہلی :(ایجنسی)
2020 کے دہلی فسادات میں پولیس اہلکار پر بندوق لہراتے ہوئے جس شاہ رخ پٹھان کی تصویر کافی وائرل ہوئی تھی، اسی کو پناہ دینےکےلیے جمعہ کو کلیم احمد نام کے شخص کو دہلی کی ایک عدالت نے سزا سنائی ہے۔ بتادیں کہ یہ دہلی فسادمیں سنائی گئی پہلی سزا ہے۔
درحقیقت کلیم احمد نے رضاکارانہ طور پر اپنے جرم کا اعتراف کیا جس کے بعد کلیم کو آئی پی سی سیکشن 216 (کسی ایسے ملزم کو پناہ دینا جو حراست سے فرار ہو گیا ہو یا جسے گرفتار کرنے کا حکم دیا گیا ہو) کے تحت سزا سنائی گئی ہے۔ ایڈیشنل سیشن جج امیتابھ راوت نے اپنے حکم میں کہا، ’مجرم کلیم احمد نے عدالت میں اپنے کیے پر افسوس کا اظہار کیا ہے اور اس نے راحت مانگی ہے یہ بھی کہا ہے کہ اسے شاہ رخ پٹھان نے گمراہ کیا تھا۔
عدالت نے کہا کہ کلیم احمد نے فسادات میں حصہ نہیں لیا، بلکہ ملزم شاہ رخ پٹھان کو واقعہ کےبعد فرار ہونےکے لیے پناہ دے دی۔ جج نے کہاکہ کلیم 17-03-2021 سے07-09-2021تک حراست میں تھا، جبکہ اس جرم کی زیادہ سے زیادہ سزا تین سال ہے،اس کے ساتھ جج نے کلیم کے گناہ قبول کرنےبعداسے اتنا ہی سزا دی۔ جتنی وہ حراست میں کاٹ چکا تھا۔ ساتھ ہی اس پر 2000روپے کا جرمانہ بھی لگایاگیا۔ اس کے بعد شاہ رخ پٹھان پر آئی پی سی کی دفعہ147، 148، 149، 216، 307، 353 اور دیگر دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا ہے۔









