نئی دہلی:
دہلی ہائی کورٹ نے دہلی فساد کے معاملے میں دیوانگنا کالیتا ، نتاشا ناروال اور جامعہ ملیہ اسلامیہ کے طالب علم آصف اقبال تنہا کوضمانت دے دی ہے۔ انہیں شمال مشرقی دہلی تشدد معاملے میں یو اے پی اے ایکٹ کے تحت گزشتہ سال گرفتار کیا گیا تھا۔ انہیں ضمانت دیتے ہوئے ہائی کورٹ نے کہا’احتجاجی مظاہرہ کرنا دہشت گردی نہیں ہے‘ ضمانت اس بنیاد پر دی گئی ہے کہ اپنا پاسپورٹ کو سرینڈر کریں گے اور ایسی کسی بھی غیر قانونی سرگرمیوں میں شامل نہیں ہوں گے جس سے جانچ کسی بھی طرح متاثر ہوتی ہے ۔
قابل ذکر ہے کہ نتاشا ناروال اور دیوانگنا کالیتا دہلی میں قائم خواتین کے حقوق گروپ ’ پنجرا توڑ‘ کے ممبر ہیں، جبکہ آصف اقبال جامعہ ملیہ اسلامیہ کا طالب علم ۔ غور طلب ہے کہ فروری 2020 میں دہلی میں ہوئے فساد میں 50 سے زیادہ لوگوں کی موت ہوگئی تھی۔ تشدد کے دوران کئی دکانوں کو پھونک دیا گیا تھا اور عوامی جائیداد کو نقصان پہنچایا گیا تھا۔ متنازع شہریت ترمیمی قانون کو لے کر یہ تشدد ہوا تھا۔

نتاشا ناروال کو گزشتہ ماہ اپنے والد مہاویر ناروال کی آخری رسومات ادا کرنے کے لیے تین ہفتے کے لیے عبوری ضمانت منظور کی گئی تھی۔ مہاویر کمیونسٹ پارٹی کے سینئر ممبر تھے اور کورونا وائرس کے انفیکشن میں آنے کی وجہ سے ان کی موت ہوگئی تھی۔ نتاشا 31 مئی کو حکم کے مطابق جیل واپس لوٹی تھی، نتاشا اور دیوانگنا کو تشدد سے جڑے سازش کے معاملے میں گزشتہ سال فروری میں گرفتار کیا گیا تھا ۔ انہیں اس سے پہلے بھی اسی طرح کے الزامات دہلی کے جعفر آباد علاقے میں شہریت ترمیمی قانون کے فساد سے متعلق معاملے میں گرفتار کیا گیا تھا، لیکن ضمانت دے دی گئی تھی۔ پہلی ضمانت ( بیل) کے حکم کے بعد ہی دہلی پولیس نے نتاشا اور دیوانگنا کو دوسری بار گرفتار کرلیا تھا۔











