نئی دہلی :(ایجنسی)
سپریم کورٹ نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا ہے کہ وہ تین ماہ میں فیصلہ کرے کہ آیا 2020 میں دہلی فسادات کو بھڑکانے والی مبینہ نفرت انگیز تقاریر پر ایف آئی آر درج کی جائے گی یانہیں۔ عدالت آج ایک درخواست کی سماعت کر رہی تھی۔ عرضی میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر سمیت چار بی جے پی لیڈروں نے مبینہ طور پر اشتعال انگیز تقریریں کی ہیں اس لیے ان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جائے۔
عرضی گزشتہ سال دہلی میں ہوئے تشدد کے تین متاثرین نے دائر کی ہے۔ انہوں نے بی جے پی کے کپل مشرا، پرویش ورما اور ابھے ورما کے ساتھ ساتھ وزیر کھیل انوراگ ٹھاکر کے خلاف ایف آئی آر درج کرنے اور خصوصی تحقیقاتی ٹیم (ایس آئی ٹی) سے تحقیقات کا مطالبہ کیا ہے۔
سپریم کورٹ کے دو رکنی بنچ جسٹس ایل ناگیشور راؤ اور جسٹس بی آر گوائی نے دہلی ہائی کورٹ سے کہا کہ وہ اس معاملے کی جلد اور زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی مدت میں سماعت کرے۔ درخواست میں یہ بھی کہا گیا کہ ہائی کورٹ ’کارروائی میں تاخیر‘ کر رہی ہے۔
متاثرین نے اسی دہلی ہائی کورٹ کے حوالے سے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے، جس پر گزشتہ سال فروری میں فسادات کے چند دن بعد سماعت کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ کپل مشرا، انوراگ ٹھاکر، پرویش ورما کے خلاف اشتعال انگیز تقریر کا مقدمہ درج کیا جائے۔ جسٹس ایس مرلی دھر اور تلونت سنگھ کی بنچ نے تشار مہتا سے بھی کہا کہ وہ پولیس کمشنر کو مشورہ دیں کہ وہ بی جے پی لیڈران انوراگ ٹھاکر، پرویش سنگھ ورما اور کپل مشرا کے مبینہ نفرت انگیز بیانات پر ایف آئی آر درج کریں۔ تاہم بعد میں اس معاملے کی سماعت ایک اور بنچ کرنے لگی ۔
ہائی کورٹ نے یہ حکم کپل مشرا کی ایک ویڈیو وائرل ہونے کے بعد دیا تھا۔ اس ویڈیو میں نظر آرہاتھا کہ کپل مشرا ایک پولیس افسر کے پاس کھڑے ہو کر دھمکی دے رہے ہیں۔ لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے وہ پولیس افسر سے کہتے ہیں، ’’میں یہ بات آپ سب (حامیوں) معرفت سے کہہ رہا ہوں، ہم ٹرمپ کے جانے تک پرامن طریقے سے جا رہے ہیں لیکن اس کے بعد ہم آپ کی بات نہیں سنیں گے اگر راستے خالی نہیںہوئے تو …. ٹھیک ہے؟ بتادیں کہ تب اس وقت کے امریکی صدر ڈونلڈٹرمپ ہندوستان کے دورے پر آئے تھے ۔
دہلی انتخابات کے دوران بی جے پی لیڈر اور مرکزی وزیر انوراگ ٹھاکر نے بھی اشتعال انگیز نعرہ لگایا تھا۔
اسی دہلی فسادات کے معاملے میں، عرضی گزاروں نے اب جانچ کے لیے دہلی کے باہر کے افسران کے ساتھ ایک آزاد ایس آئی ٹی کی تشکیل کی بھی مانگ کی ہے۔این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کےمطابق سینئر ایڈووکیٹ کالنن گونسا لویس نے کہاکہ ’عرضی گزار امید کھو رہے ہیں ۔ جامعہ کے طلباء کے لیے کیا انصاف ہے؟ دہلی فسادات کےمتاثرین کے لیے کیاانصاف ہے؟ طلباکو بے رحمی سے پیٹا گیا…. سر پھوڑ گیا۔‘
جسٹس راؤ اور گوائی نے کہا، ’ہم ہائی کورٹ سے اپیل کرتے ہیں کہ رٹ پٹیشن کا جلد سے جلد فیصلہ کیا جائے…زیادہ سے زیادہ تین ماہ کی مدت میں۔









