گروگرام:(آر کےبیورو)
گروگرام مسلم کونسل اور جمعیۃ علما ءضلع گروگرام کا ایک سہ رکنی وفد آج گروگرام میں کھلے میں نماز کی ادائیگی کو لے کر ہریانہ کے وزیر اعلیٰ منوہر لال کھٹر کے نو منتخب چیف سکریٹری وجے کوشل سے چنڈی گڑھ میں ملاقات کی اور ان سے گروگرام مسئلے کو حل کرنے کی درخواست کی۔وفد نے ان کے ذریعہ ہریانہ کے وزیر اعلیٰ کو ایک خط بھی روانہ کیا جس میں ذکر ہے کہ ’’گروگرام میں سال2018 میں 108 جگہوں میں ہورہی نماز جمعہ کے مقامات کو ہندو اور مسلمانوں کے ذمہ داروں کی موجودگی میں انتظامیہ کی طرف سے 37 مقامات کو نامزد کیاگیا ، جہاں پر اس وقت سے لے کرسبھی 37 مقامات پر پرامن طور سے نماز جمعہ ادا کی جارہی تھی لیکن گزشتہ دو ماہ سے کچھ شرپسند عناصر ہنگامہ مچار ہے ہیں، جس کی وجہ سے نہ صرف دو کمیونٹی کا بھائی چارہ تیزی سے متاثر ہو رہا ہے بلکہ ملک اور بیرون ملک بھی اس کے برے اثرات مرتب ہو رہے ہیں۔جو کہ ہمارے ملک اور ریاست کی حکومت اور ہم سب کے لیے انتہائی شرم کی بات ہے۔
اس سلسلے میں گروگرام مسلم کونسل اور جمعیۃ علماء ضلع گروگرام کا مشورہ ہے کہ سبھی عید گاہ، قبرستان اور مساجد سمیت وقف پراپرٹی کی سینکڑوں ایکڑ زمین آزاد کراکر مسلمانوں کے حوالے کی جائے، تاکہ نماز جمعہ اور دونوں عیدوں کی نماز ادا کرنے میں پیدا ہورہی دشواریوں اور سنگین مسئلے کا مستقل حل ہوسکے، اس کے علاوہ یہ بھی تجویز ہے کہ گروگرام کے 113 سیکٹر میں سے ہر سیکٹر میں مسجد کےلیے جگہ الاٹ کی جائے۔ یا پھر مسلم اکثریتی علاقوں میں مسجد کے لیے زمین الاٹ کی جائے تاکہ اس کا مستقل حل نکل سکے۔ اس کے علاوہ گروگرام کے سوہنا روڈ سے متصل سیکٹر49میں حج ہاؤس کی جگہ پر فوری طور پر حج ہاؤس تعمیر کی جائے تاکہ ریاست کے حاجی اپنا حج ہاؤس حاصل کرسکیں۔اس کے علاوہ حج ہاؤس کی تعمیر سے بھی فائدہ ہوگا، لوگوں کی بڑی تعداد حج ہاؤس میں جمعہ کی نماز بھی ادا کر سکے گی۔
اس کے علاوہ شیتلا ماتا مندر علاقہ کی مسجد کو انتظامیہ نے سال 2018 سے سیل کر دیا ہے۔اسے جلدازجلد کھولی جائے۔ مسجد انجمن نیو گروگرام کے سیکٹر57میں سال 2004 میں بنائی گئی ہے۔ وہ بھی عدالت میں الجھ گیا ہے۔ اس پر بھی گروگرام مسلم کونسل اور جمعیۃ علماء گروگرام آپ کی توجہ مبذول کرواتی ہے۔آپ سے گزارش ہے کہ صرف امید اور امید ہی نہیں، بلکہ مجھے یقین ہے کہ آپ ریاست بھر کے مسلمانوں کے اس پریشان کن مسئلے کو حل کریں گے، خاص طور پر پورے ملک سے گروگرام کے، جو شہر کی تعمیر میں حصہ لے رہے ہیں۔









