اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسرائیل اور حماس سے براہ راست سوال!

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
اسرائیل اور حماس سے براہ راست سوال!
71
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

عبدالسلام عاصم

مہذب دنیا کی انکھوں کے سامنے غزہ پر خوفناک اسرائیلی آتشیں حملے اور حماس کی راکٹ باری کا سلسلہ زائد از ایک ہفتے سے جاری ہے۔ روزانہ لاشیں گر رہی ہیں جن کے تعداد بظاہر سو دوسو کے درمیان ہے لیکن بہ باطن ہزاروں زندگیاں تباہ ہو چکی ہیں۔
امریکہ، سعودی عرب، یورپ، ایران، روس اور ترکی کے علاؤہ ایسے تمام ممالک اورحلقے جو متاثرہ خطے میں کسی بھی اختلاف کو انسانی جانوں کے بدترین زیاں سے بچا سکتے ہیں، وہ مستقل اپنے محدود مفادات کو آگے بڑھانے یا بچانے میں لگے ہوئے ہیں۔ آج سعودی عرب کے طلب کردہ اجلاس میں کیا کچھ ہوا، اس پر لکھنا کالم ضائع کرنے کے برابر ہوگا اس لئے بہتر ہے کہ اسرائیل اور حماس سے براہ راست سوالات کئے جائیں۔
اسرائیل کی صیہونی حکومت سے یہ پوچھا جائے کہ کیا یہ ممکن ہے کہ کوئی چالیس لاکھ کی آبادی والے متعلقہ خطے کے ہر فلسطینی شہری کا نام و نشان مٹا کر یا انہیں وہاں سے بے دخل کر کے اُس جگہ یہودی آبادکاری کی جا سکتی ہے! اور کیاکسی ہمسائیگی کے بغیرایک صیہونی ملک کا حتمی قیام عمل میں لایا جا سکتاہے!!
شدت پسند حماس سے بھی یہ سوال کیا جائے کہ کیا اُس خطے میں تقریباً نوے لاکھ کی اسرائیلی آبادی کو کو صفحہ ہستی سے مٹایا جا سکتا ہے!
اور کیا فلسطینی مقتدرہ اُس بازیابی پر اتفاق سے پھر جانے کی متحمل ہے جس کے لئے تنظیم آزادی فلسطین کے رہنمانے جدو جہد کی تھی۔
جو منظر نامہ سامنے ہے اس کے کینوس پر ایک طرف اسرائیل سائنسی علم کا پوری طاقت کے ساتھ منفی استحصال کر رہا ہے دوسری جانب حماس مذہبی ہوش سے کام لینے کے بجائے جوش میں آ کر اُس جان کی بازی لگائے ہوئے جس کا لازمی استعمال مثبت حکمت کیلئے ہونا چاہئے۔
ایسے میں دونوں کیا یہ بتانے کی زحمت کریں گے کہ وہ کب تک کہیں زیادہ، کہیں کم انسانی جانوں کے بے دریغ زیاں پر ایک دوسرے سے نبرد آزما رہیں گے!کیا اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہوجو یہودی انتہا پسندی کی علامت بن کر ابھرے ہیں، یہ بتانے کی ہمت کریں گے کہ انہوں نے ایک ”یہودی مملکت” کا جو نعرہ لگارکھا ہے، اُس کا قیام کتنے لاکھ انسانوں کی لاشوں پر عمل میں آئے گا!! متاثرہ خطے کی زندگیاں کیا اسی کام کیلئے رہ گئی ہیں کہ اُنہیں کسی یہودی مملکت یا اسلامی مملکت کے غیر انسانی تصور کی نذر ہونے کیلئے رات دن پروان چڑھایا جائے اور پھر قربان کر دیا جائے۔
غزہ پٹی میں تا دم تحریر مسلسل ساتویں روز بھی اسرائیلی بمباری کا سلسلہ جاری ہے۔ میڈیا کے مطابق پچھلے پہر فضائی حملوں میں مزید چار فلسطینی ہلاک اور درجنوں زخمی ہوگئے۔بظاہر نشانہ بند علاقے میں مزید 2 رہائشی عمارات ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ہیں۔ الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق اسرائیلی حملوں میں غزہ میں حماس کے سربراہ یحییٰ السنوار کے گھر کو بھی نشانہ بنایا گیا۔ اسرائیلی میزائلوں کی زد میں پناہ گزینوں کا ایک کیمپ کو بھی آیا ہے جس میں کوئی آٹھ معصوم بچوں سمیت 10 فلسطینی ہلاک ہوئے ہیں۔اس سے پہلے محض ایک گھنٹے کی وارننگ کے ساتھ ایک رہائشی عمارت کو مسمار کردیا گیا تھا جس میں ایسو سی ایٹیڈ پریس اور الجزیرہ سمیت ذرائع ابلاغ کے دیگر اداروں کے دفاتر ہوا کرتے تھے۔حماس کی راکٹ باری بھی اُدھر کسی متحارب کے بجائے عام زندگیوں کو نقصان پہنچا رہی ہے۔
حالات کے دگر گوں موڑ پر بدقسمتی سے موت کے کھیل کے ناظرین زیادہ ہیں۔ ان میں سے کچھ اسرائیل کی ہر کارروائی کو حق بجانب قرار دے رہے ہیں اور کچھ فلسطینیوں پر ظلم کے خلاف پر شور احتجاج سے شو جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اقوام متحدہ، دیگر عالمی مجالس اور تنظیم اسلامی کانفرنس میں بظاہر سبھی اختلافات کو مذاکرات کی میز پر رلانے کے وکیل ہیں لیکن ان وکیلوں کی ڈگریاں کتنی جعلی ہیں یہ مشرق وسطیٰ کے حالات کھل کر بتا رہے ہیں۔
جہاں تک اسرائیل کے صیہونی حکمرانوں کے جبر اور عالم فلسطینیوں کی حقیقی مظلومیت کا تعلق ہے تو دونوں نہ ایک دن کی پیداوار ہیں نہ ہی دونوں کے اِس تکلیف دہ ربط کو آسانی سے ختم کیا جا سکتا ہے۔ اس کے لئے دونوں طرف جوش سے زیادہ ہوش سے کام لینے کی ضرورت ہے۔دونوں کو از سر نو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ گذشتہ صدی کی آخری دہائی میں اسرائیل اور تنظیم آزادی فلسطین (پی ایل او) کے درمیان جو اوسلو معاہدہ ہوا تھا، وہ اب تک عمل میں کیوں نہیں آ سکا۔ دنیا جانتی ہے اور اس بات کے دستاویزات بھی موجود ہیں کہ اِس معاہدے میں ذو مملکتی حل کے رُخ پر ایک طرف جہاں اسرائیل نے فلسطین کے وجود کو قبول کرلیا تھا وہیں فلسطین نے اسرائیل کے وجود کو مان لیاتھا۔
سال 1993 کے اس معاہدے سے اقوام عالم کو زبردست امیدیں بندھ گئی تھیں۔ اس معاہدے کے بعد اسرائیلی انتطامیہ اور پی ایل او کے درمیان کسی نہ کسی سطح پر رابطے قائم رہے تاکہ منزل کے رُخ پر پیش قدمی جاری رہے۔ دونوں طرف کے انتہا پسند حلقے اس معاہدے کے خلاف ضرور تھے لیکن وہ کھل کر سامنے نہیں آرہے تھے۔اس طرح گاڑی محتاط طور آگے بڑھی تو 1995 میں اسرائیل اور پی ایل او کی ایک نشست میں یہ طے پایا کہ جس طرح اسرائیل کی ایک انتظامیہ ہے اُسی طرح فلسطینی امور کیلئے فلسطینیوں کا بھی ایک مقتدرہ ہونا چاہئے، موجودہ فلسطینی اٹھاریٹی اسی اتفاق رائے سے قائم ہوئی۔ غزہ میں موجودہ حماس کی سابقہ قیادت بھی اس معاہدے اور فلسطینی مقتدرہ کے قیام تک کے فیصلوں میں شریک رہی۔
اوسلو معاہدے کوایک طرف جہاں دنیابھر کی حمایت اور عرب اور غیر عرب مسلم ملکوں کے اعتدال پسندوں کی تمام تر تائید حاصل تھی، وہیں د درونِ اسرائیل و فلسطین اِس معاہدے کو شدت پسندوں کی سخت مخالفت کا بھی سامنا تھا، اس لئے اُس وقت کی اسرائیلی انتظامیہ اور فلسطینی مقتدرہ نے طے کیا تھا کہ مرحلہ وار منزل کی طرف بڑھا جائے گا۔ہر چند کہ اوسلو معاہدے کے تحت اسرائیل کو اقوام متحدہ کی قرارداد کی رو سے 1967 کی جنگ کے دوران قبضہ میں آئے فلسطینی علاقے چھوڑ کر اپنی پہلے والی پوزیشن پر چلا جانا تھا لیکن اسرائیل کے یہودی انتہا پسند اور فلسطین کے اسلامی انتہاپسند دونوں ہی بالترتیب”پیچھے ہٹنے“ اور”محدود بازیابی“ سے متفق نہیں تھے۔
بالفرض معاہدہ پر زبانی خلل کے باوجود عمل جاری رہتا تو آج مسجداقصیٰ، دیوار دریہ اور مسیحی کلیسہ سمیت پورا مشرقی یروشلم بالکل اُسی طرح فلسطینی مقتدرہ کے زیر انتظام آجاتاجس طرح ابھی پورا علاقہ اسرائیلی انتظامیہ کے تحت ہے۔اس طرح ممکن ہے تنازع ختم ہو جاتا یا تذکرے کی حد تک محدود رہ جاتا۔ لیکن افسوس ایسا نہیں ہو سکا کیونکہ یہودی انتہا پسند پیچھے ہٹنے اور فلسطینی انتہاپسند محدود بازیابی کیلئے تیار نہیں تھے۔ بدقسمتی سے مرحلہ وار دونوں انتہا پسند حلقوں کی بیرونی تائید بھی بڑھتی گئی۔
موجودہ منظر نامے میں نیتن یاہو حکومت اور حماس کے پاس صرف انتہاپسندانہ حل موجود ہیں جو دونوں طرف انسانی جانوں کی زبردست قربانی سے بھی انجام تک پہنچے گے یا نہیں یہ بتانا مشکل ہے۔ البتہ اس خوف سے انکارنہیں کیا جا سکتا کہ متعلقہ خطے کو ابھی کچھ دن اور تشدد سے گزرنا پڑ سکتا ہے۔ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہئے کہ اوسلومعاہدہ کرنے والوں (اسرائیلی وزیر اعظم اسحاق رابن اور پی ایل او لیڈر یاسر عرفات)کو انتہا پسندوں کے ہاتھوں ہی مرنا پڑا تھا۔رابن کو یہودی انتہا پسند ایگال عمیر نے قتل کردیا تھا اور عرفات کی بظاہر طبعی موت کی وجہ بھی زہر بتائی جاتی ہے۔
دیکھنا یہ ہے کہ متاثرہ خطے کے موجودہ ذمہ داران ایک بار پھر کسی اوسلو معاہدے تک پہنچتے ہیں یا جنگ زدہ خطے میں کسی خلائی مخلوق کیلئے لاکھوں انسانوں کی لاشوں پر کوئی یہودی یا اسلامی مملکت کا قیام عمل میں آتاہے۔دونوں طرف کے انتہا پسند ہرگز ہرگزیہودیت یا اسلام کی نمائندگی نہیں کرتے۔وہ صرف انتہا پسند ہیں جنہیں اپنی سوچ ”حق“اور دوسرے کی سوچ”باطل“ نظر آتی ہے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN