ڈاکٹر بھیم راؤ امبیڈکر کالج کے سینئر پروفیسر ڈاکٹر سوجیت کمار پر حملے نے دہلی یونیورسٹی کے فیکلٹی میں غصے کو جنم دیا ہے۔ الزام ہے کہ یہ حملہ دہلی یونیورسٹی اسٹوڈنٹس یونین (DUSU) کی جوائنٹ سکریٹری دیپیکا جھا نے کیا تھا۔ یونیورسٹی کے تمام کالجوں کے اساتذہ نے اس واقعہ کی شدید مذمت کی
**یونیورسٹی انتظامیہ نے آنکھیں بند کر رکھی ہیں۔:جمعہ کو، تقریباً 35 کالج اساتذہ کی انجمنوں نے حملے کے حوالے سے ایک بیان جاری کیا، جس میں یونیورسٹی انتظامیہ کی کارروائی میں ناکامی پر سوال اٹھایا گیا۔ یونیورسٹی کے مختلف کالجوں کے اساتذہ نے آج اس واقعہ کے خلاف زبردست احتجاج کیا۔ کیری مال کالج ٹیچرس ایسوسی ایشن کے سکریٹری پروفیسر سمیت، آچاریہ نریندر دیو کالج کے صدر پروفیسر ادے ویر اور جیسس اینڈ میری کالج کی صدر پروفیسر ریچا راج نے احتجاج میں حصہ لیا اور کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ آنکھیں بند کیے ہوئے ہے۔ ثبوت موجود پھر بھی کوئی کارروائی نہیں ہو رہی۔
**تعلیمی ماحول پر حملہ:تقریباً 35 کالجوں کی اساتذہ تنظیموں نے اس حملے کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے متفقہ طور پر کہا کہ اگر انتظامیہ نے فوری ایکشن نہ لیا تو احتجاج کا دائرہ وسیع کیا جائے گا۔ امبیڈکر کالج کے اساتذہ کئی دنوں سے احتجاج کر رہے ہیں۔ احتجاج میں شامل ہوتے ہوئے DUTA کے صدر پروفیسر V.S. نیگی اور سکریٹری پروفیسر بملینڈو تیرتھنکر نے کہا کہ یہ صرف ایک فرد پر حملہ نہیں ہے بلکہ پورے تعلیمی ماحول پر حملہ ہے۔ ملزم طالبہ دیپیکا جھا کو فوری طور پر یونیورسٹی سے نکال دیا جائے۔
احتجاجی مظاہرے میں کئی سرکردہ اساتذہ رہنماؤں نے بھی شرکت کی۔ DUTA کے سابق صدر پروفیسر راجیو رے، DU ایگزیکٹو کونسل کے ممبر پروفیسر سنیل شرما، DU اکیڈمک کونسل کے ممبران پروفیسر T.N. اوجھا، پروفیسر سنجے کمار، پروفیسر راجیش جھا، پروفیسر ابھا دیو حبیب، پروفیسر اشونی شنکر، پروفیسر وی ایس ڈکشٹ اور پروفیسر ردراشیس نے انتظامیہ سے سخت کارروائی کا مطالبہ کیا۔
پوری ڈی یو سڑکوں پر آئے گی۔اساتذہ نے واضح طور پر خبردار کیا کہ اگر یونیورسٹی نے اب بھی ملزمان کے خلاف کارروائی نہ کی تو یہ احتجاج صرف کالج تک محدود نہیں رہے گا۔ پوری ڈی یو سڑکوں پر آئے گی۔ ذرائع کے مطابق ڈیوٹا کے وفد نے ڈین آف کالجز پروفیسر بلرام پانی سے دو بار ملاقات کی اور شدید احتجاج کیا لیکن انتظامیہ نے محض ایک انکوائری کمیٹی تشکیل دے کر معاملہ رفع دفع کردیا۔احتجاج کے بعد کالج کی اسٹاف کونسل نے میٹنگ کی اور پروفیسر سوجیت کمار کے استعفیٰ کو کالعدم قرار دیتے ہوئے متفقہ طور پر انہیں ان کے عہدے پر بحال کردیا۔ اب، کالج اساتذہ نے تحریک کے اگلے مرحلے کی حکمت عملی طے کرنے کے لیے 3 نومبر بروز پیر کو جنرل باڈی کا اجلاس بلایا ہے۔ اساتذہ واضح طور پر بتاتے ہیں کہ اب یہ صرف ایک معاملہ نہیں ہے۔ یہ پوری دہلی یونیورسٹی کے اعزاز کی لڑائی ہے۔







