بنگلور :(ایجنسی)
اڈوپی کرناٹک کے اڈوپی کے ایک کالج میں مسلم طالبات کو گزشتہ تین ہفتوں سے صرف اس لیے کلاس رومز میں جانے سے روک دیا گیا ہے کہ وہ حجاب پہنتی ہیں۔ ہندوستان گزٹ نے رپورٹ کیا کہ اسی کی وجہ سے کچھ اسٹوڈنٹس کو ذہنی صحت کے مسائل کاسامنا ہے۔
چھ طالبات کو 31 دسمبر 2021 سے کالج نے ’غیر حاضر‘ کے طور پر نشان زد کیا ہے۔ ان کے والدین نے اس مسئلے پر بات کرنے کے لیے پرنسپل رودرا گوڑا سے رابطہ کیا، لیکن انھوں نے اس معاملے پر کوئی بات چیت کرنے سے انکار کر دیا۔
کیمپس فرنٹ آف انڈیا کی ریاستی کمیٹی کے رکن مسعود نے ہندوستان گزٹ کو بتایا کہ طالبات کو دھمکیاں دی گئیں اور انہیں ایک خط لکھنے پر مجبور کیا گیا جس میں کہا گیا تھا کہ وہ گزشتہ 15 دنوں سے کلاسز میں شرکت نہیں کر رہی ہیں ان کا مزید کہنا تھا کہ ایک لڑکی ’’ذہنی اذیت‘‘ کی وجہ سے بیمار ہوگئی۔
اس سے قبل طالبات نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں کالج کے احاطے میں اردو، عربی اور بیری زبانوں میں بات کرنے کی اجازت نہیں دی جارہی تھی۔ ان کا کہنا ہے کہ حجاب اتارنے سے انکار کرنے پر کچھ اساتذہ نے ان کی تذلیل کی ہے۔
The Cognateسے بات کرتے ہوئے، PU 2nd year کی طالبہ عالیہ نے کہا،ایک ٹیچر نے چیختے ہوئے کہا :’اگر آپ کلاس روم سے باہر نہیں نکلیں تو میں آپ کو باہر دھکیل دوں گا ۔‘‘ انہوں نے ہمیں سیڑھیوں پر بیٹھنے کو کہا۔ یہ اور ذلت آمیز محسوس ہوا۔ اس نے مزید کہا کہ ہم نے کچھ نوٹ استعمال کرتے ہوئے آپس میں مطالعہ کرنے کا وقت استعمال کیا جو ہم نے کلاس میں آنے والے دوسرے طلباء سے ادھار لیے تھے۔











