نئی دہلی :(ایجنسی)
تفتیشی ایجنسی ای ڈی نے سینئر صحافی رانا ایوب کے 1.77 کروڑ روپے ضبط کر لیے ہیں۔ رانا ایوب پر منی لانڈرنگ اور دوسروں کی مدد کے نام پر جمع کی گئی رقم کے غلط استعمال کا الزام لگایا گیا ہے۔ ای ڈی کی جانب سے حکم جاری کیا گیا ہے کہ رانا ایوب اور ان کے پریوار کے ایف ڈی اور بینک اکاؤنٹس میں جمع رقم کو منی لانڈرنگ ایکٹ کے تحت اٹیچیکر لیا جائے۔
یہاں یہ بات قابل ذکر ہے کہ رانا ایوب مودی سرکار کے بعض فیصلوں کے خلاف کافی آواز اٹھاتی رہی ہیں۔
رانا ایوب کے خلاف یہ کارروائی غازی آباد پولیس کی جانب سے درج ایف آئی آر کی بنیاد پر کی گئی ہے۔ یہ ایف آئی آر گزشتہ سال ستمبر میں ہندو آئی ٹی سیل نامی این جی او کے فاؤنڈروکاس سنکرتیان نے درج کرائی تھی۔
این ڈی ٹی وی کی رپورٹ کے مطابق، ای ڈی کو معلوم ہوا ہے کہ رانا ایوب نے اپنے آن لائن کراؤڈ فنڈنگ پلیٹ فارم کیٹو کے ذریعے 2020 اور 2021 کے درمیان 2.69 کروڑ روپے اکٹھے کیے تھے۔ ای ڈی نے کہا ہے کہ کیٹو کے ذریعے رانا ایوب نے جو رقم جمع کی تھی وہ اس کے والد اور بہن نے بینک سے نکالی تھی اور پوری رقم اس صحافی کے اکاؤنٹ میں منتقل کردی گئی ۔
رانا ایوب نے ای ڈی کے سامنے کچھ دستاویزات رکھے تھے جس میں انہوں نے 31 لاکھ کے اخراجات کا حساب دیا تھا۔ لیکن جانچ کے بعد ای ڈی کا کہنا ہے کہ کل خرچ صرف 17.66 لاکھ ہے۔
ای ڈی نے کہا ہے کہ رانا ایوب نے راحت اور مدد کے کام کے نام پر فرضی بل اور نجی ہوائی سفر کیا تھا۔ ایجنسی نے کہا ہے کہ اس کی تحقیقات میں یہ بات پوری طرح واضح ہے کہ یہ رقم چیریٹی کے نام پر اکٹھی کی گئی تھی اور یہ منصوبہ بند طریقے سے کی گئی تھی۔
تحقیقاتی ایجنسی نے کہا ہے کہ جمع کی گئی پوری رقم اس کام میں استعمال نہیں ہوئی جس کے نام پر یہ رقم اکٹھی کی گئی تھی۔ ای ڈی نے کہا ہے کہ سینئر صحافی رانا ایوب نے جمع کی گئی رقم میں سے 50 لاکھ روپے کی ایف ڈی حاصل کی اور اسے راحت اور امدادی کاموں میں استعمال نہیں کیا۔
ای ڈی کو یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ رانا ایوب نے پی ایم کیئرز فنڈ اور سی ایم ریلیف فنڈ میں 74.50 لاکھ روپے دیے۔ اس معاملے میں رانا ایوب نے کہا تھا کہ کیٹو کے ذریعے ملنے والے عطیات میں سے ایک بھی پیسہ کا غلط استعمال نہیں کیاگیا۔










