رام پور :(آر کےبیورو)
سماج وادی پارٹی کے قدآور لیڈر ،رام پور سے ممبرپارلیمنٹ اعظم خان کے بیٹے عبداللہ اعظم نے کہا کہ رام پور میں غیر اعلانیہ ایمرجنسی کی صورتحال ہے۔ ڈویژنل کمشنر کے حکم پر ایک ہی پارٹی سے تعلق رکھنے والے افراد کو نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ہمیں انتخابی مہم چلانے کی بھی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔ ہم جہاں بھی جاتے ہیں، ایک ویگن آر کار میں بیٹھ کر کچھ پولیس والے آجاتے ہیں اور لوگوں کو مقدمہ کرنے کی دھمکیاں دی جارہی ہیں۔ جب ڈویژنل کمشنر کے کمرے میں بیٹھ کر یہ طے ہو گاکہ کون کہاں سے الیکشن لڑے گا تو پھر شفاف الیکشن کیسے ہوں گے؟ انہوں نے الیکشن کمیشن سے ڈویژنل کمشنر کو ہٹانے کا مطالبہ کیا۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبداللہ اعظم نے کہا کہ ایک طرف الیکشن کمیشن ووٹنگ فیصد بڑھانے پر زور دے رہا ہے اور دوسری طرف لوگوں کو مقدمات کے نام پر ڈرایا جا رہا ہے۔ پولیس اب تک 40 سے 50 ہزار افراد کو ریڈ کارڈ جاری کر چکی ہے۔ ایسے لوگوں کو مچلکوں میں پابند رکھا گیا ہے، جن کے خلاف ایک مقدمہ درج نہیں ہے۔ لوگوں میں ڈر کاماحول پیدا کیا جا رہاہے۔ رام پور مقدمات کو مذاق بنا دیا گیاہے۔
پہلی بار ایک منڈل آیکت بوتھوں کا معائنہ کرنے پہنچے اور پولیس کو بتایا کہ کس محلے سے کس شخص کو اٹھایاجائے۔ ایسے میں غیرجانبدارانہ اورمنصفانہ الیکشن کیسے ممکن ہے؟ لوگ تو ڈر کی وجہ سے ووٹ ڈالنے تک نہیں نکلیں گے۔ اگر ایسے ہی حالات رہےتو لوگوںکاجمہوریت سے اعتماد اٹھ جائے گا۔
انہوں نے الیکشن کمیشن سے اپیل کی کہ رام پور پر خصوصی توجہ دی جائے اورمنڈل آیکت کو ہٹایا جائے۔ حکومت کو نشانہ بناتے ہوئے انہوں نے کہا کہ منڈل آیکتکا ایکسٹینشن غلط طریقے سے کیا گیا، جبکہ ان کی مدت پوری ہو چکی ہے۔ وزیر داخلہ امت شاہ کے دورے کو لے کر پوچھے گئے ایک سوال پر کہاکہ انہیں یہاں آنا چاہئے، یہ اچھی بات ہے۔ یہاں آکر بتائیں کہ آکسیجن کی کمی سے کس طرح موتیں ہوئی ہیں۔ کسانوں سے ملیں۔ انہیں نوریت سنگھ کی موت پر بھی جواب دینا چاہئے۔
انہوں نے کہا کہ ہم ہر سازش کے خلاف تیار ہیں۔ اپنی نامزدگی کے حوالے سے اٹھنے والے سوالات پر انہوں نے کہا کہ لوگ ہماری نامزدگی کے پیچھے کیوں لگے ہوئے ہیں۔ انہیں تو عوام کےدرمیان جانا چاہئے اورمسائل بتانےچاہئے۔ عوام اگر ہمیں صحیح سمجھیں گے توہمیں الیکشن جتائیں گے اور ٹھیک ہوں گے تو وہ جیتیں گے۔ ہمیں اعتماد ہے کہ عوام انہیں سبق سکھائیں گے ۔











