نئی دہلی : (پریس ریلیز)
دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی کی مجلس عاملہ کا ایک اہم اجلاس حضرت مولانا داؤد امینی صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی صدارت میں جمعیۃ علماء ہند کے مرکزی دفتر آئی ٹی او میں اتوار کو منعقد ہوا۔ جس میں مہمان خصو صی کے طور پر مولانا خالد گیاوی ناظم مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند شریک ہوئے۔ اس موقع پراپنے صدارتی خطاب میں صدر دینی دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی مولانا دائود امینی نے بہت ہی واضح گائیڈ لائن پیش کیے او ران کی تجویز پر مجلس نے یہ طے کیا کہ سبھی ارکان مجلس عاملہ اپنے حلقے میں ماڈل مکتب قائم کریں گے۔ماڈل مکتب کے رہ نما اصول کیا ہوں گے ،ا سے مولانا خالد گیاوی نے پیش کیے او رانھوں نے کہا کہ جمعیۃ علماء ہند کے پاس ایسا نصاب تعلیم ہے جس سے بچہ دین کی تعلیم بھی حاصل کرتا ہے اور دنیاوی طور پر بھی وہ آگے بڑھتا ہے ۔
ازیں قبل اپنے تعارفی خطاب میں قاری عبدالسمیع جنرل سکریٹری دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء ہند صوبہ دہلی نے کہا کہ اس وقت ہم ہندوستانی مسلمانوں کا سب سے بڑا المیہ یہ ہے کہ مذہبِ اسلام اور دیگر فسطائی قوتوں کی جانب سے روز نئے نئے فتنے جنم لے رہے ہیں۔ کبھی فتنہ قادیانیت تو کبھی فتنہ شکیلیت تو کبھی برسراقتدار ہندوتوا عناصر کی جانب سے پرائمری و نرسری اسکولوں میں اپنی تہذیب اور کلچر سے روشناس کرانے کے نام پر بچوں کے معصوم ذہنوں میں ہندوازم کو تھوپنے کی سازش ہو رہی ہے۔ اس کے علاوہ اپنوں کی لاپروائی، غفلت اور دشمنوں کی منظم سازش کے تحت ملک بھر میں ارتداد کا فتنہ ملت اسلامیہ کو تباہ اور بدنام کرنے میں سرگرم ہے۔
دینی تعلیمی بورڈ کے نائب صدر مفتی نثاراحمد الحسینی نے کہا ملک کی آزادی کے بعد سیکولر ہندستان میں فرقہ پرست طاقتوں کی جانب سے مسلمانوں کے ایمان و عقائد پر نہ جانے کیا کیا حملے ہونے والے ہیں، اس کا اندازہ فراست ایمانی سے معمور ہمارے اسلاف نے ملک کی آزادی کے ساتھ کرلیا تھا اور اسی کے سد باب کے لئے مکاتب و مدارس کے قیام کی جانب امت مسلمہ کو متوجہ کیا تھا۔ چونکہ ہمارے محلوں کی مساجد یا مسلم بستیوں میں ابتدائی دینی تعلیم و تربیت کے لئے چلائے جانے والے مکاتب ایمان کی پختگی اور صحیح اسلامی تربیت کے اولین آغوش ہیں، لہذا باطل کی فریب کاریوں سے اپنی نسلوں اور معاشرے کو بچانے کا واحد راستہ یہی ابتدائی دینی مکاتب ہیں۔مرکزی دینی تعلیمی بورڈ جمعیت علماء ہند کی طرف سے دہلی کے نگراں مفتی فضیل قاسمی نے کہا دینی مکاتب کے تربیت یافتہ کی ایک خصوصیت یہ ہے کہ وہ ان شاء اللہ گمراہی اور ضلالت کا شکار ہونے سے بچ جائیں گے۔ اسی نیک مقصد کو مد نظر رکھتے ہوئے جمعیۃ علمائے ہند کے خداترس ذمے داران نے دینی تعلیمی بورڈ قائم کیا تھا۔ جو وقت و حالات کے اتار چڑھاؤ کے ساتھ ابھی تک بحمد اللہ اپنا کام کررہا ہے۔ حالاں کہ یہ فیض رسا کام کبھی کبھی سست روی اور تساہل پسندی کا شکار بھی ہوا۔ مگر الحمد للہ دینی تعلیمی بورڈ صوبہ دہلی کے ذمے داران کی نئی تشکیل کے بعد مخلص ارباب کو یہ زریں موقع میسر ہوا ہے۔ بحمد اللہ اب سبھی احباب اپنی ملت کے دین و ایمان کی سلامتی کے لیے دھڑکتا ہوا دل رکھتے اور عزم پیہم کے ملت کو باطل کی سازشوں سے محفوظ رکھنے کے نیک جذبے سے شرشار ہیں۔
واضح رہے کہ میٹنگ کا آغاز قاری عبد السمیع کی تلاوت کلام پاک سے ہوا، جب کہ صدارت کے فرائض مولا داؤد امینی صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعۃ علماء ہند صوبہ دہلی نے انجام دییاورکا ر گزاری رپورٹ کے بعد آئندہ کے لئے کئی تجاویز زیر بحث آئیں۔ مثلا ہر رکن عاملہ اپنے حلقے میں ایک ایک ماڈل دینی مکتب قائم کریں گے۔ اور ابتدائی دینی تعلیم کے لئے عوام کے درمیان مقامی سطح پر اجتماعی کوششیں کریں گے اور حلقہ وار اس اہم مہم میں شامل ہونے والے احباب کی تربیت اور ٹریننگ کے لیے صدر دفتر میں ورکشاپ منعقد ہوا کرے گا۔ جلد ہی دہلی میں ضلعی سطح پر بورڈ کی تنظیم سازی ہوگی اور ذمے داران کا انتخاب بھی عمل میں آئے گا۔ میٹنگ کے خاص شرکاء میں، مولانا خالد گیاوی، ،مولانا عظیم اللہ قاسمی ، قاری رفیع عالم قاری ربیع الحسن ، مولانا یامین ،مولانا مولانا فضیل، مولانا ضیاء اللہ قا،سمی مولانا راشد احمد ندوی ،قاری ارشاد رحمانی، ڈاکٹر مفتی جاوید قاسمی ،مولانا قاسم نوری ،مفتی اسحاق حقی، حکیم عطاء الرحمٰن اجملی وغیرہ کے نام قابل ذکر ہیں۔ آخر میں مفتی نثار، نائب صدر دینی تعلیمی بورڈ جمعیۃ علماء صوبہ دہلی کی پرسوز دعاپر یہ خصوصی اجلاس اختتام پذیر ہوا۔









