نئی دہلی :(ایجنسی)
کٹر ہندوتوا وادی رہنما یتی نرسگھانند کی ایک ویڈیو وائرل ہورہی ہے جس میں وہ مسلمانوں کے خلاف تشدد کی اپیل کر رہے ہیں اور ہندوؤں کو ہتھیار اٹھانے کی وکالت کر رہے ہیں۔ ان لوگوں نے گزشتہ ہفتے ہری دوار میں تین روزہ سمیلن کا انعقاد کیا تھا اور اس میں مسلمانوں کے خلاف تشدد پر کھل کر بات کی گئی تھی۔
اس ویڈیو کو ہندوستان کے ساتھ ساتھ غیر ملکی سوشل میڈیا صارفین بھی سوشل میڈیا پر شیئر کر رہے ہیں۔ جمعرات کو اتراکھنڈ پولیس نے اس معاملے میں وسیم رضوی عرف جتیندر نارائن تیاگی اور دیگر کے خلاف ایف آئی آر درج کی ہے۔
بی بی سی ہندی کی رپورٹ کے مطابق اس واقعہ پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے ملک کے کئی نامور لوگوں نے حکومت سے سخت قدم اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ اس پر بھارت کے سابق آرمی چیفس نے بھی سخت ناراضگی کا اظہار کیا ہے۔ ان سابق آرمی چیفس نے امرتسر کے گولڈن ٹیمپل اور پنجاب کے کپورتھلہ کے ایک گرودوارے میں گرو گرنتھ صاحب کی مبینہ بے حرمتی کی بھی مذمت کی ہے۔
ٹوئٹر پر ویڈیو شیئر کرتے ہوئے 1971 کی جنگ کے ہیرو اور بحریہ کے سابق سربراہ ایڈمرل (ریٹائرڈ) ارون پرکاش نے لکھا ہے- کیا ہم فرقہ وارانہ خونریزی چاہتے ہیں؟ ارون پرکاش کےاس ٹویٹ سے اٹل بہاری واجپئی کی سرکار میں 1999 میں کارگل جنگ کےدوران بھارت کےآرمی چیف رہے جنرل وید پرکاش ملک نے بھی اتفاق کیاہے ۔
سوشل میڈیا صارفین ہندو یووا واہنی کے زیر اہتمام ایک پروگرام کی ویڈیو بھی شیئر کر رہے ہیں اور اس میں بھی مسلمانوں کے خلاف تشدد پر اکسانے والی تقاریر بھی ہیں۔ اس ویڈیو میں ہندو راشٹر بنانے کے لیے تشدد، موت اور قتل کےلیے سنکلپ لیا جا رہاہے ۔
دہلی بی جے پی لیڈر اشونی اپادھیائے نے بھی ہری دوار میں منعقد دھرم سنسد میں شرکت کی تھی۔ دھرم سنسد کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ہندوتوا رہنما اور سادھو ہندوؤں سے مسلمانوں کے خلاف ہتھیار اٹھانے کی اپیل کر رہے ہیں۔
ہری دوار کی دھرم سنسد کے ویڈیو کلپ کو ٹویٹ کرتے ہوئے ایڈمرل (ریٹائرڈ) ارون پرکاش نے لکھا، ’’اسے روکا کیوں نہیں جا رہاہے؟ہمارے فوجی دومحاذوں پر دشمن کا سامنا کررہے ہیں اور ہم فرقہ وارانہ خونریزی، اندرونی خلفشار اور بین الاقوامی شرمندگی کا سامنا کرنا چاہتےہیں؟ کیا یہ سمجھنا اتنا مشکل ہے کہ قومی ہم آہنگی اور تحادخطرے میں ہے تو ملکی سلامتی بھی خطرے میں پڑجائےگی؟
‘ سماجی ہم آہنگی کو خطرہ
ایک سابق لیفٹیننٹ جنرل نے ٹیلی گراف کو بتایا، ’’یہ نفرت کے سوداگر جنونی ہیں اور ملک کی سماجی ہم آہنگی کے لیے خطرہ ہیں۔ حکومت انہیں گرفتار کیوں نہیں کر رہی ہے، یو اے پی اے کیوں نہیں لگا رہی ہے اور ان کے لیے غداری کا قانون کیوں نہیں ہے؟
سشانت سرین نے ٹویٹ کیا ہے اور کہا ہے، ’’یہ بہت ہی ناگوار ہے، اگرحکومت انہیں نہیں روکتی ہے تو ملکی دفاع سے کھیلواڑ ہے۔
ٹیلی گراف نے دہلی پولیس کے ایک سینئر افسر سے پوچھا کہ واہنی کے پروگرام کو لے کر کوئی کارروائی کیوں نہیںکی گئی تو انہوں نے کہا ’ ہم نے دہلی میںہوئےاس پروگرام کا ویڈیو دیکھا ہے، جس میںمسلمانوں کےخلاف لوگوں کو اکسایا جا رہاہے۔ ہم اوپر کے افسران کی ہدایات کا انتظار کررہے ہیں ۔
دوسری جانب میجر جنرل ریٹائرڈ یش مورے نے پنجاب میں لنچنگ کے حوالے سے ایک ٹویٹ میں لکھا کہ ‘یہ پریشان کن ہے کہ پنجاب میں مذہب کے نام پر دو افراد کو قتل کیا گیا۔ ہم دوسرا پاکستان بن چکے ہیں۔ یہ نفرت بند ہونی چاہیے ورنہ ہم تباہ ہو جائیں گے۔
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے لوک سبھا کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی نے اس پورے معاملے پر کئی ٹویٹس کیے ہیں۔ اویسی نے اپنے ٹوئٹ میں لکھا ہے کہ ’’اس پروگرام میں تقریر کرنے والے زیادہ تر لوگ ہمیشہ لوگوں کو نفرت اور تشدد پھیلانے پر اکساتے ہیں اور ان کا اقتدار سے گہرا تعلق ہے۔ اس نسل کشی کی اپیل میں مرکز اور اتراکھنڈ کی بی جے پی حکومت ایک ساتھ ہے۔ اب تک کوئی گرفتاری کیوں نہیں ہوئی؟ حکومت کی طرف سے کوئی مذمت کیوں نہیں ہوئی؟ اویسی نے لکھا، ’نسل کشی کی حوصلہ افزائی کرنا نسل کشی کنونشن 1948 کے تحت ایک جرم ہے۔ بھارت اس کنونشن کے ساتھ تھا لیکن مجرموں کو سزا دینے میں ناکام رہا ہے۔










