نئی دہلی :(ایجنسی)
اے آئی ایم آئی ایم کے رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی سمیت کئی لیڈروں نے لڑکیوں کی شادی کے لیے کم از کم عمر 18 سے بڑھا کر 21 کرنے کے لیے مرکزی کابینہ کی منظوری کی مخالفت کی ہے۔
لوک سبھا ایم پی اویسی نے ٹویٹ کرکے کہا ہے کہ ’18 سال کی عمر کے مرد اور خواتین کاروبار شروع کر سکتے ہیں، معاہدے پر دستخط کر سکتے ہیں، وزیر اعظم کا انتخاب کر سکتے ہیں لیکن شادی نہیں کر سکتے۔‘
دوسری جانب انڈین یونین مسلم لیگ (آئی یو ایم ایل) نے لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی حکومت کی تجویز کی مخالفت کرتے ہوئے جمعہ کو پارلیمنٹ میں تحریک التواء کا نوٹس دیا تھا۔آئی یو ایم ایل نے کہا ہے کہ یہ مسلم پرسنل لاء میں مداخلت ہے۔
آئی یو ایم ایل کے رہنما اور راجیہ سبھا کے رکن پارلیمنٹ عبدالوہاب نے لکھا ہے، ’’لڑکیوں کی شادی کی عمر 18 سے بڑھا کر 21 سال کرنے کی تجویز، جسے کابینہ نے منظور کر لیا ہے، اس کا مقصد مسلم پرسنل لاء کو بھی پامال کرنا ہے۔‘‘
کیرالہ کی کئی مسلم تنظیموں نے بھی عمر میں اضافے کی مخالفت کی ہے۔ مسلم لیگ کے رہنما ای ٹی محمد بشیر نے جمعہ کو لوک سبھا میں لڑکیوں کی شادی کی عمر بڑھانے کے خلاف تحریک التواء کا نوٹس دیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یہ فیصلہ مسلم پرسنل لاء کے خلاف ہے اور حکومت نے یکساں سول کوڈ کی طرف ایک اور قدم اٹھایا ہے۔









