اردو
हिन्दी
مئی 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

’بھارت میں فیس بک فیک نیوز، نفرت اور لاشوں سے بھرا ہوا ہے‘

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ گراونڈ رپورٹ
A A
0
’بھارت میں فیس بک فیک نیوز، نفرت اور لاشوں سے بھرا ہوا ہے‘
38
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر: سوتک بسواس

’گزشتہ تین ہفتوں میں میں نے مردہ لوگوں کی اتنی زیادہ تصاویر دیکھی ہیں جتنی میں نے اپنی پوری زندگی میں نہیں دیکھیں۔‘ بھارت میں فیس بک کے ایک ریسرچرنے تین ہفتوں تک سوشل نیٹ ورک کے الگورتھم کی سفارشات پر عمل کرنے کے بعد 2019 میں یہ بات کہی تھی۔

ریسرچر کی یہ رپورٹ ’دی فیس بک پیپرز‘ نامی اندرونی دستاویزات کے ذخیرےکا حصہ تھی جو حال ہی میں نیویارک ٹائمز اور دیگر امریکی جریدوں نے حاصل کی تھی۔ ان دستاویزات سے معلوم ہوتا ہے کہ فیس بک اپنی سب سے بڑی مارکیٹ بھارت میں دوسری چیزوں کے علاوہ جعلی خبروں، نفرت انگیزاور اشتعال انگیز مواد سمیت ’تشدد کا جشن‘ منانے جیسی چیزوں سے نپٹنے میں ناکام ہو رہا ہے۔

نیو یارک ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق بھارت کی سرکاری طور پر تسلیم شدہ 22 زبانوں میں فیس بک کی جانب سے کم سرمایہ کاری اورثقافتی ہم آہنگی کے فقدان کے باعث حالات مزید خراب ہوئے۔

فیس بک کے ایک ترجمان نے مجھے بتایا کہ ان انکشافات نے کمپنی کو بھارت میں اپنے نظام کا ’مزید سختی اور سنجیدگی‘ سے جائزہ لینے پر مجبور کیا اور ’ان کو بہتر بنانے کے لیے پروڈکٹ میں تبدیلی کی گئی۔‘ تو کیا وسائل کی کمی بھارتمیں جعلی خبروں اور اشتعال انگیز مواد سے لڑنے کی فیس بک کی کوششوں میں رکاوٹ بن رہی ہے؟

فیس بک نے حقائق کی جانچ کرنے والی 10 تنظیموں کے ساتھ مقامی طور پر شراکت داری کی ہے۔ سوشل نیٹ ورک پر فلیگ کیے گئے آئٹمز کی انگریزی اور 11 دیگر ہندوستانی زبانوں میں جانچ پڑتال کی جاتی ہے۔

لیکن حقیقت زیادہ پیچیدہ ہے۔ بھارت میں فیس بک کے ساتھ کام کرنے والی حقائق کی جانچ کرنے والی تنظیموں کا کہنا ہے کہ وہ صارفین کی جانب سے فلیگ کی جانے والی مشکوک خبروں اور پوسٹس کو کراس چیک اور ٹیگ کرتے ہیں۔ اس کے بعد نیٹ ورک سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ ایسی پوسٹس کو ہٹا دے گا۔

حقائق کی جانچ کرنے والی تنظیم کے ایک سینئر اہلکار نے مجھے بتایا کہ ’ہماری جانب سے کسی خبر یا پوسٹ کو ٹیگ کرنے کے بعد فیس بک کیا کرتا ہے اس پر ہمارے پاس درحقیقت کوئی اخلاقی یا قانونی اختیار نہیں ہے۔‘ حقائق کی تحقیق غلط معلومات کا مقابلہ کرنے کے لیے فیس بک کی کوششوں کا صرف ایک حصہ ہے۔ بھارت میں مسئلہ اس سے کہیں زیادہ بڑا ہے۔

وزیر اعظم نریندر مودی اور فیس بک کے بانی مارک زکر برگ

سوشل میڈیا پر نفرت انگیز تقریریں بھری پڑی ہیں، بھارت کی سیاسی جماعتوں اور رہنماؤں سے وابستہ جعلی اکاؤنٹس بہت زیادہ ہیں اور صارفین اور بڑے گروپوں کے صفحات مسلمانوں اور دیگر اقلیتوں کو نشانہ بنانے والے اشتعال انگیز مواد سے بھرے ہوئے ہیں۔ جعلی معلومات کا پھیلاؤ یہاں انتہائی محتاط اور منظم انداز میں کیا جاتا ہے۔ انتخابات اور بڑے ’واقعات‘ جیسے قدرتی آفات اور وبائی امراض عام طور پر جعلی خبروں کے پھیلنے کو متحرک کرتے ہیں۔

اس کے علاوہ یہ بھی حقیقت ہے کہ فیس بک ’اظہار رائے کی آزادی اور جمہوری عمل کے احترام‘ کی بنیاد پر سیاست دانوں کی جانب سے پوسٹ کردہ رائے اور تقریر کو نہیں جانچتا جو ایک مسئلہ ہے۔

آزاد فیکٹ چیک ایجنسی آلٹ نیوز کے شریک بانی پرتیک سنہا کہتے ہیں کہ ’بھارت میں سوشل میڈیا پر غلط معلومات کا ایک بڑا حصہ حکمراں جماعت کے سیاستدانوں کی جانب سے پیدا کیا جاتا ہے۔ ان کے پاس سب سے زیادہ اثر و رسوخ ہے، لیکن فیس بک ان کی حقائق کی جانچ نہیں کرتا۔‘

لہٰذا تازہ ترین انکشافات بھارت میں زیادہ تر حقائق کی جانچ کرنے والوں اور حقوق کے کارکنوں کے لیے حیران کن نہیں ہیں۔ سنہا کہتے ہیں کہ ’ہم یہ سب جانتے ہیں۔ کوئی بھی سوشل میڈیا پلیٹ فارم الزام سے بالاتر نہیں ہے۔‘ نفرت انگیز مواد، ٹرولنگ، اقلیتوں اور خواتین پر آن لائن حملوں کی بھرمار کے ساتھ، انڈین ٹوئٹر ایک منقسم اور تاریک مقام ہے۔

فیس بک کی ملکیت والی میسجنگ سروس وہاٹس ایپ اپنی سب سے بڑی مارکیٹ میں جعلی خبروں اور دھوکہ دہی کا سب سے بڑا ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

یوٹیوب، جو گوگل کی ملکیت ہے، بہت ساری جعلی خبروں اور متنازع مواد رکھتا ہے لیکن وہ اتنا مقبول نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اس سائٹ پر 12 گھنٹے تک کی لائیو ویڈیوز موجود تھیں جنھوں نے گذشتہ سال بالی ووڈ اداکار سشانت سنگھ راجپوت کی موت کے بارے میں سازشی نظریات کو ہوا دی تھی۔ پولیس نے بعد میں فیصلہ دیا تھا کہ راجپوت کی موت خودکشی سے ہوئی تھی۔

فیس بک کا مسئلہ کچھ اور ہے۔ 34 کروڑ صارفین کے ساتھ بھارت اس کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے۔ یہ ایک ایسا سوشل میڈیا پلیٹ فارم ہے جو صارفین کو انفرادی صفحات اور گروپس بنانے کی پیشکش کرتا ہے۔

مسٹر سنہا کہتے ہیں کہ ’اس کی خصوصیات کی وسیع رینج اسے ہر قسم کی غلط معلومات اور نفرت انگیز تقاریر کے لیے زیادہ خطرناک بناتی ہے۔‘

سوشل نیٹ ورک پر نفرت انگیز مواد اور غلط معلومات کا بہت بڑا حصہ پوری دنیا میں اس کے اندرونی اے ون انجنوں اور مواد کے ماڈریٹرز کے ذریعے پکڑے جانے کی توقع کی جاتی ہے۔ فیس بک کا دعویٰ ہے کہ اس مقصد کے لیے اس نے 2016 سے اب تک 13 ارب ڈالر سے زیادہ خرچ کیے ہیں اور دنیا بھر میں ٹیموں اور ٹیکنالوجی میں 40 ہزار سے زیادہ لوگوں کی خدمات حاصل کی ہیں۔

ترجمان کا کہنا تھا کہ 15 ہزار سے زیادہ لوگ ستر سے زیادہ زبانوں میں پوسٹ ہونے والے مواد کا جائزہ لیتے ہیں جن میں بیس انڈین زبانیں بھی شامل ہیں۔ جب صارفین نفرت انگیز مواد کی اطلاع دیتے ہیں تو خودکار ’کلاسیفائرز‘ انسانوں کے ذریعہ تخلیق کردہ ایک ڈیٹا بیس جو مختلف قسم کے مواد کی تشریح کرتا ہے ان کی جانچ پڑتال کرتا ہے۔

سنہا کہتے ہیں کہ ’اگر یہ درجہ بندی کرنے والے اچھے ہوتے تو وہ نفرت انگیز مواد پکڑ لیتے، لیکن واضح طور پر ایسا نہیں ہے۔‘

فیس بک کے ترجمان نے بتایا کہ کمپنی نے ’ہندی اور بنگالی سمیت مختلف زبانوں میں نفرت انگیز مواد تلاش کرنے کے لیے ٹیکنالوجی میں نمایاں سرمایہ کاری کی ہے۔‘ انھوں نے کہا کہ ’نتیجتاً، ہم نے نفرت انگیز تقاریر کی تعداد کو اس سال نصف تک کم کر دیا ہے۔ آج یہ کم ہو کر صفر عشاریہ پانچ فیصد رہ گئی ہیں۔ مسلمانوں سمیت پسماندہ گروہوں کے خلاف نفرت انگیز مواد عالمی سطح پر بڑھ رہا ہے۔ ’اس لیے ہم نفاذ کے نظام کو بہتر کر رہے ہیں اور اپنی پالیسیوں کو اپ ڈیٹ کرنے کے لیے پُرعزم ہیں کیونکہ نفرت انگیز مواد آن لائن ہی تیار کیا جاتا ہے۔‘

پھر ایسے الزامات بھی ہیں کہ فیس بک حکمران جماعت کی حمایت کرتا ہے۔ سنہ 2018 میں صحافی سیرل سیم اور پرانجوئے گوہا ٹھاکرتا کے مضامین کی ایک سیریز میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ وزیراعظم نریندر مودی اور بی جے پی کے اتحادیوں کی مدد سے بھارت میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے نمایاں مقام حاصل کیے جانے کے بارے میں لکھا گیا تھا۔

فیس بک کا بزنس ماڈل اسے حکمران جماعت کا اتحادی بناتا ہے۔ گوہا ٹھاکرتا ’رئیل فیس آف فیس بک اِن انڈیا‘ یعنی بھارتمیں فیس بک کا حقیقی چہرہ‘ کے شریک مصنف ہیں۔ بہت سے لوگوں کا خیال ہے کہ اس کا ذمہ دار کافی حد تک سوشل نیٹ ورک کے الگورتھم کو ٹھہرایا جانا چاہیے جو یہ طے کرتا ہے کہ جب آپ کسی موضوع کو تلاش کرتے ہیں تو کیا دکھانا ہے، اور صارفین کو گروپس میں شامل ہونے، ویڈیوز دیکھنے اور نئے صفحات کو دریافت کرنے پر مجبور کرتا ہے۔

ایک صحافی اور فیس بک کے نگران بورڈ کے رکن، ایلن رسبریجر نے کہا ہے کہ ’یہ بات عام ہے کہ الگورتھم جذباتی مواد کو بڑھاوا دیتا ہے جو کمیونٹیز کو پولرائز کرتا ہے کیونکہ یہ لوگوں کو اپنی جانب راغب کرتا ہے۔ دوسرے لفظوں میں، نیٹ ورک کے الگورتھم ‘فِرنج مواد‘ کو مرکزی دھارے تک پہنچنے کی اجازت دیتا ہے۔‘

جیسا کہ فیس بک کے سابق ڈیٹا سائنسدان روڈی لِنڈسے کہتے ہیں ’یہ اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ یہ فیڈز اشتعال انگیز مواد کو فروغ دیتے رہیں اور یہ مواد کو موڈریٹ کرنے والوں کے لیے مشکل پیدا کرتا ہے جو سیکڑوں زبانوں، ممالک اور سیاسی سیاق و سباق میں وائرل مواد کی تحقیق کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔‘

آخر میں جیسا کہ فیس بک پروڈکٹ منیجر سے وِسل بلوور بنے والی فرانسس ہیوگن کہتی ہیں کہ ’ہمارے پاس ایسا سافٹ ویئر ہونا چاہیے جو انسانی معیار پر ہو اور جہاں انسان آپس میں بات چیت کرتے ہوں نہ کہ کمپیوٹر یہ فیصلہ کرے کے ہمیں کس سے بات کرنی چاہیے اور کس کی سننی چاہیے۔‘

(بشکریہ: بی بی سی )

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت
گراونڈ رپورٹ

ہم متبادل ورلڈ آرڈر کے حق میں، ٹیرف متاثرین کے لیے سرکار ہر ضروری قدم اٹھائے: امیر جماعت

06 ستمبر
سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟
گراونڈ رپورٹ

سنبھل فساد کی تحقیقاتی رپورٹ میں ایسا کیا ہے کہ یوگی حکومت پر اٹھے سوال دبا دیئے گیے؟

01 ستمبر
آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا
گراونڈ رپورٹ

آسام:بنگالی بولنے والے مسلمانوں کے خلاف نفرت وتشدد میں بےحد اضافہ:India Hate Lab نے نیا ڈیٹا جاری کیا

03 اگست
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN