احمد آباد :(ایجنسی)
گجرات میں ایک عیسائی تنظیم ’مشنریز آف چیریٹی‘ پر مذہب تبدیل کرانے کا الزام لگایا گیا ہے۔ اس تنظیم کو مدر ٹریسا نے قائم کیا تھا۔ اس تبدیلی مذہب تنازع کے حوالے سے ایف آئی آر بھی درج کرائی گئی ہے۔ شکایت کے مطابق تنظیم کے زیر انتظام چلڈرن ہوم میں رہنے والی لڑکیوں کو عیسائی بنانے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔
وڈودرا شہر کے اس چلڈرن ہوم میں گجرات فریڈم آف ریلیجن ایکٹ 2003 کے تحت ہندو مذہبی جذبات کو ٹھیس پہنچانے اور نوجوان لڑکیوں کو عیسائیت کی طرف راغب کرنے کے الزام میں مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ تاہم تنظیم نے ان الزامات کی تردید کی ہے۔ ضلع سوشل سیکورٹی آفیسر میانک ترویدی کی شکایت پر اتوار کو مکر پورہ پولیس اسٹیشن میں ایف آئی آر درج کی گئی ہے۔ حال ہی میں میانک ترویدی نے ضلع کی چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کے چیئرمین کے ساتھ مکر پورہ علاقے میں مشنریز آف چیریٹی کے زیر انتظام چلڈرن ہوم کا دورہ کیا تھا۔
ایف آئی آر میں کہا گیا ہے کہ اپنے دورے کے دوران ترویدی نے پایا کہ چلڈرن ہوم میں لڑکیوں کو ’عیسائی دھرم میں لے جانے ‘ کے ارادے سے عیسائی صحیفہ پڑھنے اور عیسائی دھرم کی دعائیہ تقریب میں حصہ لینے کے لیے ’مجبور‘ کیاجا رہاتھا۔
شکایت کے مطابق-’’10 فروری، 2021 اور 9 دسمبر، 2021 کے درمیان تنظیم جان بوجھ کر اورتلخی کےساتھ ہندوؤں کی مذہبی جذبات کو مجروح کرنے کےلیے سرگرمیوںمیں شامل رہی ہے۔ گلے میں کراس باندھ کر لڑکیوںکوعیسائی مذہب کا لالچ دے جا رہاہے …. ،لڑکیوں کےذریعہ استعمال کئےجانےوالےاسٹورروم کی ٹیبل پر بائبل رکھنا،تاکہ انہیں بائبل پڑھنےکے لیے مجبورکیاجاسکے۔ …‘‘
ادھر مشنریز آف چیریٹی کی انتظامیہ نے جبری تبدیلی مذہب کی تردید کی ہے۔ مشنریز آف چیریٹی کے ترجمان نے کہاکہہم کسی بھی تبدیلی مذہب سرگرمی میں ملوث نہیں ہیں۔ ہمارے چلڈرن ہوم میں 24 لڑکیاںہیں ۔ یہ لڑکیاںہمارے ساتھ رہتی ہیں اوروہ ہماری پریکٹس کی پیروی کرتی ہیں کیونکہ وہ ہمیں بھی ایسا ہی کرتے ہوئے دیکھتےہیں ۔ ہم نے کسی کا مذہب تبدیل نہیں کیا ہے اورنہ ہی کسی کوعیسائی مذہب میں شادی کرنے کے لیے مجبور کیا ہے ۔
پولیس کا کہنا ہے کہ شکایت ملنے کے بعد تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔ حکام نے بتایا کہ چائلڈ ویلفیئر کمیٹی کی شکایت کے مطابق تنظیم نے ایک ہندو لڑکی کو عیسائی خاندان میں عیسائی روایت کے مطابق شادی کرنے پر مجبور کیا تھا۔ شکایت میں یہ بھی الزام لگایا گیا ہے کہ شیلٹر ہوم میں رہنے والی لڑکیوں کو ہندو ہونے کے باوجود نان ویجیٹیرین کھانا دیا جاتا ہے۔
اسسٹنٹ کمشنر آف پولیس ایس بی کماوت نے کہا کہ ضلع کلکٹر نے ترویدی کی طرف سے لگائے گئے الزامات کی ایک کمیٹی کی جانچ کے بعد تنظیم کے خلاف مقدمہ درج کرنے کی ہدایات جاری کی ہیں۔ وڈودرا کے پولیس کمشنر شمشیر سنگھ نے انڈین ایکسپریس کو بتایا کہ پولیس نے پنجاب سے تعلق رکھنے والی ایک خاتون کے مبینہ مذہب تبدیل کرنے کی تحقیقات شروع کر دی ہیں۔









