نئی دہلی: (ایجنسی)
دائیں بازو کے گروپ وشو ہندو پریشد (وی ایچ پی) کی شکایت کے بعد تریپورہ میں دو خواتین صحافیوں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی خواتین صحافیوں نے پولیس اہلکاروں پر ڈرانے دھمکانے کا الزام لگایا ہے۔ صحافی سمریدھی ساکونیا اور سورن جھا نے الزام لگایا ہے کہ پولیس ان کے ہوٹل میں آئی اورانہیں’ ڈرایا- دھمکیا۔‘
جبکہ مرکزی وزارت داخلہ نے ہفتہ کو کہا کہ تریپورہ میں ایک مسجد کو نقصان پہنچانے اورتوڑ پھوڑ کے بارے میں سوشل میڈیا پر گردش کررہی خبریں فرضی اور غلط بیانی پر مبنی ہیں۔کسی بھی شخص کے شدید زخمی ہونے یا عصمت دری یا موت کی کوئی اطلاع نہیں ہے جیسا کہ کچھ سوشل میڈیا پوسٹس میں الزام لگایا گیا ہے۔
سورن جھا نے اپنی ٹویٹ میں لکھا، ’گزشتہ رات تقریباً 10:30 بجے، پولیس ہمارے ہوٹل کے باہر آئی، لیکن اس وقت انہوں نے ہم سے بات نہیں کی۔ صبح ساڑھے 5 بجے کے قریب جب ہم چیک آؤٹ کرنے گئے تو پولیس ہمارےخلاف جو شکایت ہوئی ہے اس کےبارےمیں بتایا اور پوچھ گچھ کےلیے دھرم نگر پولیس اسٹیشن لے جانےکو کہا۔‘ انہوں نے اپنے پوسٹ میں ایف آئی آر کی کاپی بھی شیئر کی ہے ۔
شکایت درج ہونے کے بعد پولیس کی ایک ٹیم اس سے پوچھ گچھ کرنے گئی تھی۔ ذرائع نے بتایا کہ دونوں صحافیوں کو ابھی تک نہ تو گرفتار کیا گیا ہے اور نہ ہی حراست میں لیا گیا ہے۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ان دونوں سے فیک نیوز سرکولیشن کیس میں پوچھ گچھ ہو سکتی ہے۔
وزرات داخلہ نے سخت الفاظ میں بیان میں کہا ہے کہ حال کے دنوں میں تریپورہ میں کسی مسجد کے ڈھانچے کو نقصان ہونے کاکوئی معاملہ سامنے نہیں آیا ہےاورلوگوںکو پر امن رہناچا ہئے اورایسی فرضی خبروں سے گمراہ نہیں ہونا چاہئے ۔ وزارت نے کہاکہ ’ ایسی خبریںپھیلائی گئی ہےکہ تریپورہ میں گومتی ضلع کے ککرا بن علاقے میں ایک مسجد کو نقصان پہنچایا گیایہ خبریں فرضی ہیں اور غلط بیانی پر مبنی ہے ۔









