اردو
हिन्दी
مئی 6, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

معاشیات کے اسلامائزیشن کا عَلَم بردار
(پروفیسر نجات اللہ صدیقی کی وفات)

3 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مضامین
A A
0
188
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

ڈاکٹر محمد رضی الاسلام ندوی

صبح صبح اطلاع ملی کہ پروفیسر محمد نجات اللہ صدیقی کی وفات ہوگئی – زبان سے فوراً نکلا : انا للہ و انا الیہ راجعون – وہ کافی دنوں سے اپنے اعزا کے پاس امریکہ میں تھے – وقتاً فوقتاً ان کی شدید بیماری کی اطلاع ملتی رہتی تھی – بالآخر وقتِ موعود آپہنچا اور وہ اپنے رب کے پاس حاضر ہوگئے – ان کی عمر 91 برس تھی –

علم معاشیات میں ڈاکٹر صدیقی کی خدمات بہت نمایاں ہیں – اردو اور انگریزی دونوں زبانوں میں انھوں نے اس موضوع پر گراں قدر لٹریچر وجود بخشا ہے – انھوں نے پورے اعتماد اور تحقیق کے ساتھ یہ بات کہی کہ موجودہ دور میں سود سے بچتے ہوئے بینک کاری ممکن ہے – ان کے اس تصور کے مطابق کئی ممالک میں غیر سودی بینک قائم ہوئے – 1982میں انہیں عالم اسلام کا مشہور اور باوقار شاہ فیصل ایوارڈ برائے مطالعاتِ اسلامی تفویض کیا گیا – اسی طرح 2003 میں انسٹی ٹیوٹ آف آبجیکٹیو اسٹڈیز نئی دہلی نے اسلامی معاشیات کے موضوع پر اعلیٰ کارکردگی کی بنا پر انہیں شاہ ولی اللہ ایوارڈ سے نوازا –

ڈاکٹر صاحب کا تعلق ریاست اتر پردیش کے شہر گورکھ پور سے تھا – ان کی ولادت 1931 میں ہوئی تھی – وطن میں ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد وہ علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی آگئے – وہیں غالباً گریجویشن سے قبل ہی انہیں عربی زبان اور اسلامیات کی تعلیم حاصل کرنے کا شوق پیدا ہوا – اس وقت وہ جماعت اسلامی ہند سے وابستہ ہوچکے تھے – انھوں نے اُس وقت کے امیر مولانا ابو اللیث ندوی اصلاحی سے اصرار کیا کہ مرکز جماعت (رام پور) میں ان کی دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے – بالآخر مرکز میں مولانا صدر الدین اصلاحی کی سربراہی میں ثانوی درس گاہ قائم کی گئی اور چار سالہ نصاب جاری کیا گیا – نجات صاحب اس کے پہلے Batch کے طلبہ میں سے تھے – ثانوی درس گاہ کے تحت انھوں نے 6 ماہ مدرسۃ الإصلاح میں گزارا اور وہاں کے اساتذہ سے استفادہ کیا – بعد میں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی واپس آکر اپنی تعلیم مکمل کی –

علی گڑھ ہی میں نجات صاحب نے تدریسی زندگی کا آغاز کیا – وہ شعبہ معاشیات میں لیکچرر ، پھر ریڈر بنے ، اس کے بعد پروفیسرشپ انہیں شعبۂ اسلامک اسٹڈیز میں ملی ، مگر کچھ ہی دنوں کے بعد وہ سعودی عرب چلے گئے ، جہاں ان کا تقرّر سینٹر فار ریسرچ ان اسلامک اکنامکس ، جامعۃ الملک عبد العزیز جدّہ میں بہ حیثیت پروفیسر ہوگیا تھا – وہاں سے ریٹائر ہونے کے بعد وہ کچھ عرصہ امریکہ کی یونی ورسٹی آف کیلیفورنیا میں فیلو بھی رہے – انہیں علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی کے ڈپارٹمنٹ آف منیجمنٹ اسٹڈیز کے تحت پروفیسر ایمیریٹس بھی بنایا گیا تھا –

پروفیسر نجات اللہ صدیقی ملّت اسلامیہ ہندیہ کے سرکردہ رہ نماؤں میں سے تھے – وہ آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت کے بانیوں میں سے تھے – گزشتہ صدی کی ساتویں دہائی میں جب مسلم پرسنل لا پر طرح طرح کے اعتراضات کیے جارہے تھے اور اسے ختم کرنے کی باتیں کی جارہی تھیں ، انھوں نے اپنے چند دوستوں کے ساتھ مل کر علی گڑھ میں ایک کام یاب سمینار منعقد کیا – اس کی پروسیڈنگ Muslim Personal Law کے نام سے مرکزی مکتبہ اسلامی دہلی سے شائع ہوئی تھی – جماعت اسلامی ہند سے ان کا تعلق بہت گہرا تھا – وہ اس کے رہ نماؤں میں سے تھے – کئی میقاتوں میں وہ اس کی اعلیٰ اختیاری باڈی مجلس نمائندگان اور مرکزی مجلس شوریٰ کے رکن رہے ، لیکن پھر زیادہ عرصہ ملک سے باہر رہنے کی وجہ سے جماعت ان کی صلاحیتوں سے کما حقّہ فائدہ نہیں اٹھا سکی –

پروفیسر صدیقی نے قابلِ قدر تحریری و تصنیفی سرمایہ چھوڑا ہے – اردو زبان میں مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے ان کی درج ذیل کتابیں شائع ہوئی ہیں :
1- ادب اسلامی – چند نظریاتی مقالات
2-تحریک اسلامی عصر حاضر میں
3- اکیسویں صدی میں اسلام، مسلمان
اور تحریک اسلامی
4-مقاصد شریعت
5-اسلام کا معاشی نظام
6-مالیات میں اسلامی ہدایات کی
تطبیق
7- معاش، اسلام اور مسلمان
8-اسلام کا نظریۂ ملکیت
9-غیر سودی بینک کاری
10-انشورنس اسلامی معیشت میں
بہت پہلے انھوں نے قاضی ابو یوسف کی مشہور تصنیف ‘کتاب الخراج’ کا اردو ترجمہ کیا تھا ، جو 1966 میں پاکستان سے طبع ہوا تھا – انھوں نے سید قطب شہید کی کتاب العدالۃ الاجتماعیۃ فی الاسلام کا اردو ترجمہ ‘اسلام میں عدل اجتماعی’ کے نام سے کیا – اسی طرح سید قطب کی تفسیر سے چند صفحات کا ترجمہ کیا ، جو ‘قرآن اور سائنس’ کے نام سے شائع ہوا _ یہ دونوں تراجم مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے منظر عام آئے –

معاشیات میں ڈاکٹر صاحب کی زیادہ تر تصانیف انگریزی زبان میں ہیں ، جو درج ذیل ہیں :
1- Banking Without Interest
2-Economic Enterprise in Islam
3-Riba,Bank Interest
4-Some Aspects of Islamic Economy
5- Recent Theories of Profit: A Critical Examination
6- Muslim Economic Thinking
7- Issues in Islamic banking : selected papers
8- Partnership and profit sharing in Islamic law
9- Insurance in an Islamic Economy
10- Teaching Economics in Islamic Perspective
11- Role of State in Islamic Economy
12- Dialogue in Islamic Economics
13- Islam’s View on Property

ادارۂ تحقیق و تصنیفِ اسلامی سے ڈاکٹر صدیقی کا بہت قریبی تعلق تھا – ادارہ کے بانی صدر مولانا صدر الدین اصلاحی تو ان کے استاد تھے ، مولانا جلال الدین عمری اور پروفیسر فضل الرحمٰن فریدی ان کے دوستوں میں سے تھے – میرے علم میں ہے کہ عرصے تک وہ ہر سال ادارہ کا کچھ مالی تعاون کرتے رہے – علی گڑھ وہ جب بھی آتے تو وقتاً فوقتاً ادارہ تشریف لاتے اور ہم بھی کبھی وقت لے کر اور کبھی اچانک ان سے ملاقات کرنے پہنچ جاتے اور ان سے استفادہ کرتے – ڈاکٹر صاحب کا ایک معمول تھا کہ وہ جب کوئی مضمون لکھتے تو اپنے احباب اور شاگردوں کو اسے پڑھنے کے لیے دیتے اور اس پر ان کی رائے طلب کرتے – مجھے بھی انھوں نے اس طرح اپنے کئی مضامین پڑھنے کے لیے دیے تھے –

ڈاکٹر نجات اللہ صدیقی کی ایک خوبی یہ تھی کہ وہ جس طرح دوسروں پر تنقید کرتے تھے ، اسی طرح اپنے اوپر ہونے والی تنقیدوں کو خوش دلی سے گوارا کرتے تھے اورذرا بھی ناگواری کا اظہار نہیں کرتے تھے – میرے ساتھ ایسا معاملہ کئی بار ہوا – ایک بار میں نے جماعت کے ہفتہ وار پروگرام میں مہاجرین و انصار کے درمیان مواخات کا ذکر کیا تو وہ واقعہ بھی بیان کردیا کہ ایک انصاری صحابی نے اپنے مہاجر بھائی کو یہ پیش کش کردی تھی کہ میری دو بیویاں ہیں ، اگر آپ چاہیں تو میں ایک بیوی کو طلاق دے دوں اور آپ اس سے نکاح کرلیں – ڈاکٹر صاحب نے بعد میں کہا کہ یہ واقعہ درست نہیں معلوم ہوتا ، اس لیے کہ یہ Human Dignity کے خلاف ہے – میں نے عرض کیا کہ کوئی واقعہ جس زمانے میں پیش آیا ہو ، اسی زمانے میں پہنچ کر اس پر غور و فکر کرنا چاہیے ، اس سے بہت سی الجھنیں خود بہ خود رفع ہوجاتی ہیں – ایک بار ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کہا کہ کچھ ایسی آیات کی نشان دہی کیجیے جن سے معلوم ہوتا ہو کہ اسلام اپنا غلبہ نہیں ، بلکہ بقائے باہم ( Co-Existance) چاہتا ہے – میں نے عرض کیا کہ مجھے اس بات سے اتفاق نہیں – میرے نزدیک اسلام اپنا غلبہ چاہتا ہے اور یہ کوئی ایسی بات نہیں جسے کہنے میں ہم شرمائیں – جب دنیا کا ہر نظریہ ، ہر نظام ، ہر پارٹی اپنا غلبہ چاہتی ہے تو اگر اسلام کے غلبے کی بات کی جائے تو اس میں کیا مضایقہ ہے –

ڈاکٹر صاحب نے جب مقاصدِ شریعت پر لکھنا شروع کیا تو اس کی قسطیں پہلے سہ ماہی فکر و نظر اسلام آباد (پاکستان) میں شائع ہوئیں ، پھر ادارۂ تحقیقات اسلامی اسلام آباد نے انہیں کتابی صورت میں طبع کیا – ہندوستان میں جب مرکزی مکتبہ اسلامی پبلشرز نئی دہلی سے اس کی اشاعت ہوئی تو اس پر متعدد اہل علم نے تنقیدیں کیں – ان میں میں بھی شامل تھا – میں نے سہ ماہی تحقیقات اسلامی میں اس پر تبصرہ کیا تو کتاب کی بعض باتوں سے اختلاف کیا ، لیکن انھوں نے اس کا برا نہیں مانا – پہلا ایڈیشن ختم ہوگیا تو مرکزی مکتبہ نے دوبارہ اسے طبع کرنے کی ہمّت نہیں کی – ڈاکٹر صاحب نے تنقیدوں کی روشنی میں اس پر نظر ثانی کی اور کچھ بحثوں کو نکال دیا – ان دنوں میں مرکزی مکتبہ کی نگراں ‘تصنیفی اکیڈمی’ کا سکریٹری تھا – انھوں نے نظر ثانی شدہ مسودہ میرے پاس بھجوایا اور فرمایا کہ آپ اسے جس طرح چاہیں ایڈٹ کرلیں ، جو چاہیں نکال دیں ، لیکن میں چاہتا ہوں کہ کتاب دوبارہ شائع ہو – کتاب پر میرے علاوہ مولانا سید جلال الدین عمری چیرمین تصنیفی اکیڈمی و امیر جماعت اسلامی ہند اور ڈاکٹر محمد رفعت ڈائریکٹر تصنیفی اکیڈمی نے بھی نظر ڈالی اور کچھ اصلاحات کیں – ڈاکٹر صاحب کو میسیج کیا کہ اگر آپ دیکھنا چاہیں تو تصحیح شدہ مسودہ آپ کو بھیج دیا جائے ، لیکن انھوں نے کہا کہ ضرورت نہیں ، آپ چھاپ دیں –

ڈاکٹر صاحب سے میرے گھریلو تعلقات ہوگئے تھے _ علی گڑھ میں اور دہلی میں بھی وہ جب تشریف لاتے تو مجھے اطلاع کرتے کہ میں چھ سات ماہ کے علمی رسائل انھیں بھجوادوں ، تاکہ وہ ان پر ایک نظر ڈال لیں – ایک بار ڈاکٹر صاحب نے مجھ سے کہا کہ میں آپ کے گھر آنا چاہتا ہوں – میں نے بہت خوشی کا اظہار کیا – وہ تشریف لائے ، دوپہر کا ماحضر تناول فرمایا اور ڈھیر سی باتیں کیں – ایک بار میں اپنی اہلیہ کو ان کے گھر ، جو مرکز جماعت اسلامی ہند سے تھوڑے فاصلے پر تھا ، لے گیا – وہ وہاں اپنی اہلیہ کے ساتھ مقیم تھے _ دونوں نے ہماری خوب خاطر تواضع کی –

پروفیسر نجات صاحب نے بھر پور علمی زندگی گزاری اور اپنی فکری صلاحیتوں سے امّت اور انسانیت کو خوب فیض پہنچایا – ان کا علمی کام ان شاء اللہ ان کے حق میں صدقۂ جاریہ ہوگا – اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے ، ان کی سیئات اور لغزشوں سے درگزر فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں جگہ دے ، آمین ، یا رب العالمین!

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN