گڑگاؤں: (عامر حسین میواتی)
گڑگاؤں واقع عیدگاہ جامع مسجد نزدیک راجیو چوکپر معززین شہر گڑگاؤںو میوات کے قومی، ملی دانشوران کی نماز جمعہ کی ادائیگی کو لے کر میٹنگ کا انعقاد کیا گیا، جس میں سابق ممبر پارلیمنٹ محمدادیب نے شرکت کی۔ جمعہ کی نماز کی ادائیگی کے معاملے کو لے کر منعقد میٹنگ کو محمد ادیب کی سربراہی حاصل رہی، گھنٹوں چلی میٹنگ میں ملک و ملت کے حالات پر روشنی ڈالتے ہوئے محمد ادیب نے گڑگاؤں میں نماز جمعہ کو لےکر اپنی فکرمندی ظاہر کی اور موجودہ حکومت کے سربراہان کو سخت سست کہہ کر پھٹکار لگائی۔
محمد ادیب نے غیر سماجی عناصر و جمعہ کی نماز میں خلل ڈالنے والوں کو ہندو نام نہاد خود ساختہ لیڈر قرار دینے والوں کو دہشت گرد قرار دیا۔ دہشت گردوں کے ذریعے نماز جمعہ کو لےکر چلائی جا رہی شورش پر کھل کر تشویش کا اظہار کیا۔ اس موقع پر پارکوں میں ادا کی جارہی نماز جمعہ کو لےکر وزیر اعلیٰ ہریانہ منوہر لال کھٹر کے ذریعے دیے گئے بیان کی محمد صابر قاسمی نے ستائش کی، جس پر سابق ممبر پارلیمنٹ محمدادیب نے کہا کہ یہ لڑائی کئی محاذ پر لڑی جانی ہے، جس کا ایک پہلو یہ ہے کہ جلد وزیر اعلیٰ ہریانہ کے دربار میں گروگرام نماز جمعہ کے معاملہ کو لےکر جایا جائے گا۔ جبکہ دوسری طرف فوری طور پر اس معاملے کو عدالت لے جانے کی تیاریاں شروع ہو گئی ہیں۔
اس موقع پر فوری طور پر 11 رکنی ٹیم تشکیل دی گئی جس کو مزید وسعت دیتے ہوئے گروگرام کے ہر علاقے کو نمائندگی دیتے ہوئے 21 اراکین پر مشتمل نمائندہ کمیٹی بنائی جارہی ہے۔ آج صبح مسلم کمیونٹی نے فیصلہ کیا ہے کہ وہ سیکٹر 12 اے میں (صرف اس ہفتے جمعہ کی نماز ادا نہ کرے) کیونکہ ہندوتووادی گروپ نماز کے اسی مقام پر گووردھن پوجا کا اہتمام کر رہے ہیں۔ باقی 36 جگہوں پر نماز جمعہ اسی طرح ادا کی جائے گی جس طرح پہلے ہو رہی تھی اور کسی بھی صورت میں امن و امان کی صورتحال کو یقینی بنانا انتظامیہ اور پولیس کا فرض منصبی ہے۔
گڑگاؤں ناگرک ایکتا منچ کے صدر الطاف احمداور جمعیۃ علماء ہند میوات گروگرام کے جنرل سکریٹری محمد صابر قاسمی نے جاری بیان میں مسلم کمیونٹی(جو گڑگاؤں میں مساجد کی انتہائی کمی کی وجہ سے ان کھلی جگہوں پر نماز جمعہ پڑھنے پر مجبور ہیں) سے اپیل کرتے ہوئے کہا کہ وہ صبر و تحمل کا مظاہرہ کریں اور بقیہ 36 مقامات پر نماز کو ہندوتووادی تنظیموں کے ذریعے مشتعل کرنے یا خلل ڈالنے کی صورت میں وہاں دفاعی انداز اختیار کر ٹکراؤ سے پرہیز کریں اور کسی قسم کی اشتعال انگیزی کے تحت کسی ردعمل یا تصادم سے پرہیز کریں۔ علاوہ ازیں مفتی محمد سلیم بنارسی و الطاف احمد نے آر ایس ایس وینگ راشٹریہ مسلم منچ کے آرگنائزر خورشید راجاکا اور اپنے کو مسلم ایکتا فورم کے شہزاد راجاکا مسلم نمائندہ نہ ہونے کا بر ملا اعلان کرکے ان کی مسلم مخالف سرگرمیوں اور ہندوتووادی تنظیموں کے تئیں نرم پہلو کو واضح طور پر بے نقاب کر کےان کو مسلم چہرہ سمجھنے کی غلطی سے پرہیز کرنے کی تلقین کی اور کہا کہ آج جو 11 لوگوں پر مشتمل کمیٹی تشکیل دی گئی جو اب مزید وسعت کے ساتھ 21 افراد پر مشتمل کمیٹی کو ضلع گروگرام کے مسلم مسائل و معاملات کی نمائندہ کمیٹی قرار دیا۔خبر لکھے جانے کے وقت ایک اور میٹنگ جاری ہے جس میں اگلا لائحہ عمل تیار کیا جائے گا ۔
اس موقع پر شہر مفتی ، مفتی محمد سلیم بنارسی نے کہا کہ گڑگاؤں کی مسلم کمیونٹی امن اور بھائی چارے کے لیے کھڑی ہے اور شہر میں فرقہ وارانہ ہم آہنگی کو یقینی بنانے کے لیے ہر ممکن کوشش کی جا رہی ہے، جبکہ ہندوتووادی تنظیموں کے شدت پسند لوگوں کو-شہر کی امن و اماں کی صورتحال راس نہیں آ رہی ہے۔ دیر شام الطاف احمد نے بتایا کہ ایسی جگہیں جہاں آج نماز جمعہ ادا نہیں ہوئی ان میں سیکٹر 12، سیکٹر 47 اور سیکٹر 18۔ باقی تمام نشان زد مقامات پر نماز جمعہ پرامن طریقے سے ادا کی گئی، حالانکہ مسلمانوں کی طرف سے بہت زیادہ خوف اور احتیاط برتی گئی تھی تاکہپرپسند گروہوں سے کسی قسم کا تصادم نہ ہو۔ مذکورہ 3 مقامات پر گووردھن پوجا ہو رہی تھی۔ اس لیے ہم رضاکارانہ طور پر پیچھے ہٹ گئے جیسا کہ زمین پر موجود پولیس فورسز نے بھی یہی مشورہ دیا تھا۔









