نئی دہلی : (ایجنسی)
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے تریپورہ پولیس کی جانب سے صحافیوں سمیت 102 افراد کے خلاف غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) ایکٹ (یو اے پی اے) کے تحت مقدمہ درج کرنے پر سخت تنقید کی ہے۔
اہم بات یہ ہے کہ تریپورہ پولیس نے 6 اکتوبر کوریاست میں فرقہ وارانہ تشد کے تعلق سے مبینہ طور سےغلط پوسٹس کرنےکے لیے یو اے پی اے کےتحت 68 ٹوئٹر ہینڈل سمیت کم سے کم 102 سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہولڈرس پر کیس درج کیا۔ ساتھ ہی پولیس نےسوشل میڈیا پلیٹ فارم کو لیٹر لکھ کر اکاؤنٹس کو بلاک کرنے کو بھی کہا ہے ۔
ایڈیٹرز گلڈ آف انڈیا نے تریپورہ پولیس کی اس کارروائی پر ایک بیان جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ صحافیوںمیں سے ایک شیام میرا سنگھ نے الزام لگایا ہے کہ صرف ’تریپورہ جل رہاہے‘ ٹویٹ کرنے کے لیے ان پر یو اے پی اے کےتحت معاملہ درج کیا گیا ہے ۔‘
ایڈیٹرزگلڈ آف انڈیا نے کہا کہ’ یہ ایک بےحد پریشان کرنےوالا ٹرینڈہے، جہاں اس طرح کےقانون میں جانچ اور ضمانت درخواستوں کا عمل انتہائی سخت ہے ۔ اس کا استعمال صرف فرقہ وارانہ تشددپر رپورٹ کرنےاور مخالفت کے لیے کیاجا رہاہے۔‘
ایڈیٹرز گلڈ نے مزید کہا کہ ’گلڈ کا خیال ہے کہ یہ ریاستی حکومت کی طرف سے اکثریتی تشدد کو کنٹرول کرنے اور اس کے مرتکب افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہے۔ایڈیٹرز گلڈ نے مطالبہ کیا ہے کہ ریاستی حکومت صحافیوں اور سول سوسائٹی کے کارکنوں کو سزا دینے کے بجائے فسادات کے حالات کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کرائے۔









