نئی دہلی:(ایجنسی)
گروگرام میں کھلے میں نماز ادا کرنے کو لے کر پچھلے کئی مہینوں سے چل رہا تنازع اب سپریم کورٹ میں پہنچ گیا ہے۔ راجیہ سبھا کے سابق ممبر پارلیمنٹ محمد ادیب نے سپریم کورٹ میں ایک عرضی دائر کی ہے جس میں ہریانہ کے ڈی جی پی اور چیف سکریٹری کے خلاف توہین عدالت کی کارروائی کی مانگ کی گئی ہے۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ پولیس اور انتظامیہ نفرت انگیز تقاریر اور فرقہ وارانہ اشتعال انگیزی کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکام رہی ہے، جہاں ‘’غنڈے‘ لوگوں کو نماز پڑھنے سے روکتے ہیں۔
راجیہ سبھا کے سابق ایم پی محمد ادیب کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ ہریانہ حکومت کے افسران فرقہ وارانہ اور پرتشدد رجحانات کو روکنے کے اقدامات کرنے میں ناکام رہے ہیں جس کی وجہ سے نفرت انگیز جرائم ہوتے ہیں۔ اس میں ہریانہ ریاست کے چیف سکریٹری آئی اے ایس سنجیو کوشل اور ڈائرکٹر جنرل آف پولیس آئی پی ایس پی کے اگروال کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
درخواست میں کہا گیا ہے کہ سپریم کورٹ نے 2018 میں تحسین پونا والا کے کیس میں ہجومی تشدد اور لنچنگ سمیت نفرت انگیز جرائم کی روک تھام کے لیے رہنما خطوط جاری کیے تھے ،لیکن حال کے کچھ مہینوں میں بعض عناصر کے اشارے پر مسلمانوں کے ذریعہ جمعہ کی نماز کے دوران لوگوں کے جمع ہونے کےواقعات میں مسلسل اضافہ ہو رہے ہیں ۔ یہ لوگ مسلمانوں کو دھرم کے نام پر غلط طریقے سے پیش کرتے ہیں اور شہر بھر میں ایک کمیونٹی کےخلاف نفرت اورتعصب کا ماحول بنانا چاہتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں دائر توہین عدالت کی درخواست میں کہا گیا ہے کہ گروگرام میں نماز کے وقت کچھ شرارتی عناصر نماز میں رکاوٹ ڈال رہے ہیں۔ اشتعال انگیز تقریر کی جاتی ہے جس کی متعدد بار پولیس انتظامیہ کو شکایت کی گئی لیکن پولیس کی جانب سے مناسب اقدامات نہیں کیے گئے۔
جگہ اور سہولیات کی کمی کے سبب کھلے میں نماز کی اجازت دی گئی تھی: عرضی گزار
گروگرام میں نماز کو روکنے والے افراد کے خلاف کارروائی کرنے میں ناکامی پر گروگرام حکام کے خلاف سپریم کورٹ میں توہین عدالت کی درخواست دائر کی گئی۔ درخواست میں کہا گیا ہے کہ کھلے میں نماز جمعہ ادا کرنے کی اجازت خصوصی طور پر جگہ اور سہولیات کی کمی کے باعث دی گئی تھی۔









