اردو
हिन्दी
جولائی 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

مدارس میں ہائی اسکول تک کی تعلیم! کس حد تک مفید اور مضر

4 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
مدارس میں ہائی اسکول تک کی تعلیم! کس حد تک مفید اور مضر
346
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

تحریر : مسعودجاوید

بانی دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کے قیام کے وقت کہا تھا کہ ایسے اسکولوں، جہاں دینی مضامین نہیں پڑھائے جاتے ، کی کمی نہیں ہے۔ اس لئے دینی تعلیم کے لئے ہم مدرسے قائم کر رہے ہیں ۔ دیڑھ سو سال قبل کہی گئی وہ بات آج بھی اتنی ہی اہمیت کی حامل ہے۔ مدارس دینیہ کے نصاب تعلیم اور نظام تعلیم میں اصلاح کی ضرورت ہے اس کا قطعاً یہ معنیٰ نہیں ہے کہ مدرسوں کو اسکول میں تحویل کر دیا جائے ۔

ملک میں سرکاری اور پرائیوٹ اسکولوں کی کمی نہیں ہے۔ دارالعلوم دیوبند نے دینی مدارس میں ہائی اسکول تک کی تعلیم لازمی کرنے کا جو اعلان کیا ہے وہ بادی النظر میں کسی دباؤ کے نتیجے میں ہے اور اگر ایسا ہے تو یہ ملت اسلامیہ ہند کے لئے قطعاً مفید نہیں ہے۔ نصاب تعلیم کی تشکیل ، ترتیب اور ترمیم برسہا برس کے غور وفکر اور متخصص کمیٹی کی بحث و تمحیص کے بعد عمل میں آتی ہے۔ ہمارے یہاں اسکول کے نصاب تعلیم کی تشکیل، ترتیب اور ترمیم کے لئے مستقل ایک اعلیٰ سطحی ادارہ National Council of Educational Research & Training دہلی میں واقع ہے جس میں تعلیم وتربیت کے ماہرین نصاب تعلیم اور اس کے لئے کتب مرتب اور مقرر کرتے ہیں ۔ دینی مدارس کے لئے بھی ایسے ہی ماہرین تعلیم وتربیت جو نہ صرف بیک وقت دینی علوم کی درسگاہوں سے فارغ التحصیل ہوں اور عصری علوم کی دانشگاہوں کے گریجویٹس ہوں بلکہ نصاب تعلیم اور نظام تعلیم وتربیت سے اچھی واقفیت رکھتے ہوں ۔

دینی مدارس کے وجود میں آنے کے پس منظر کو سامنے رکھے بغیر عجلت میں یا دباؤ میں ہائی اسکول تک کی لازمی تعلیم کا فیصلہ کرنا مدارس دینیہ کے جسم سے روح کو ختم کرنے کے مترادف ہوگا۔ مدارس دینیہ کے نصاب و نظام میں اصلاح کرتے وقت بانی ام المدارس دارالعلوم دیوبند مولانا محمد قاسم نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کے افکار و نظریات بالخصوص ان کے مرتب کردہ اصول ہشتگانہ پیش نظر رکھنا ہوگا ۔ ١٨٥٧ سے قبل مدرسہ بمعنی سرکاری اسکول ہوتا تھا۔ آج کے مفہوم میں مدرسہ اور اسکول دو الگ الگ اکائیاں نہیں ہوتی تھیں۔ انگریزی استعمار نے اپنا زمام تسلط قائم کرنے کے بعد سرکاری مدرسوں کے نصاب تعلیم سے دینی مضامین نکال دیا اور اوقاف سے مدرسوں کو ملنے والی مالی اعانت بند کر دیا۔یعنی انگریزی حکومت نے سیکولر اسکول کا نظام شروع کیا بالفاظ دیگر مدرسوں کو باقی رکھا مگر دینی تعلیم کے مواد نکال دیا ۔ جس کا نتیجہ ظاہر ہے یہی ہونا تھا کہ ہندوستان سے دین اسلام رفتہ رفتہ نیست ونابود ہو جاتا۔ کیوں کہ عربی کے ایک مقولہ الناس على دين ملوكهم لوگ اپنے سرداروں کی اتباع کرتے ہیں پر عمل کرتے ہوئے کھانے پینے کے اطوار و عادات اور لباس و زبان میں انگریزوں کی نقل باعث عزت اور تعلیم یافتہ ہونے کی علامت سمجھا جانے لگا تھا۔ مسلم حکومت، دولت وثروت ، شان و شوکت اور تہذیب و تمدن کے زوال کے ساتھ ساتھ دین پر بھی خطرہ منڈلانے لگا اور اسلامی تعلیمات پر اعتراضات ہونے لگے۔

ان سب کا راست اثر دینی تعلیم پر پڑنا فطری تھا۔ چنانچہ دینی تعلیم کا رجحان تیزی سے گھٹنے لگا تو ہمارے بیدار مغز علماء کے دلوں میں اسلامی تعلیمات کی بقاء و تحفظ ، کتاب وسنت کی تعلیمات کی ترویج و اشاعت کے لئے مدارس دینیہ کی بنیاد ڈالنے کا خیال آیا ۔ مولانا محمد قاسم نانوتوی اور ان کے رفقاء نے پورے بر صغیر میں آزاد دینی مدارس کا سلسلہ شروع کرنے کا ارادہ کیا ۔

نصاب تعلیم کے تعلق سے مولانا نانوتوی رحمۃ اللہ علیہ کی وضاحت : ” در باب تحصیل یہ طریقہ خاص تجویز کیا گیا اور علوم جدیدہ کو کیوں شامل نہ کیا گیا ، منجملہ دیگر اسباب بڑا سبب اس بات کا ایک یہ ہے کہ تربیت عام ہو یا خاص اس پہلو کا لحاظ چاہیے جس طرف سے ان کے کمال میں رخنہ پڑا ہو ، سو اہل عقل پر روشن ہے کہ آج کل تعلیم علوم جدیدہ تو بوجہ کثرت مدارس سرکاری ، اس ترقی پر ہے کہ علوم قدیمہ کو سلاطین زمانہ سابق میں بھی یہ ترقی نہیں ہوئی ہوگی” ۔‌سادہ الفاظ میں یہ کہ جس چیز کی کمی کی گئی ہم نے اسے پورا کرنے کے لئے دینی مدارس کے قیام کا فیصلہ کیا ہے۔

اس کے بعد مولانا نانوتوی رح نے لکھا : ” اس کے بعد طلبہ مدرسہ ہٰذا کو مدارس سرکاری میں جا کر علومِ جدیدہ میں کمال پیدا کرنے کی سعی جاری رکھنی چاہیے ". مولانا محمد قاسم نانوتوی ۔۔( روداد ١٢٩٠ ھجری)۔ دینی مدارس میں درجہ پنجم یا ششم تک دین کی بنیادی تعلیم کے ساتھ ساتھ عصری علوم کے بنیادی مضامین تاریخ، جغرافیہ، سوشل سائنسز، ریاضی، ہندی اور انگریزی اور سائینس پڑھانے کی ضرورت ہے۔اس کے بعد مزید تعلیم کے لئے اس کا امتحان انٹرنس ٹیسٹ ہو اور اس کے نتائج طے کریں گے کہ وہ درجہ ششم یا ہفتم میں داخلہ کا اہل ہے یا نہیں ۔ اگر تفسیر ، حدیث ، فقہ اور ادب عربی کی طرف اس کا رجحان بہت کم ہے تو اسے اسکول کا رخ کرنے کا مشورہ دیا جائے تاکہ آگے کی تعلیم وہ وہاں جاری رکھے۔ اور جس کا رجحان ہی نہیں شوق و ذوق بھی تفسیر ، حدیث ، فقہ اور ادب عربی پڑھنے کا ہو وہ مدرسے میں تعلیم جاری رکھ کر علوم نقلیہ میں کمال پیدا کر ے۔

طائفة تفقه في الدين کی یہ ایک صورت ہو سکتی ہے اسی طرح مزید بحث و تمحیص کے نتیجے میں دوسری صورتیں بھی سامنے آ سکتی ہیں۔ R&D اور کیس اسٹڈی سے فائدہ اٹھانے کی کوشش کی جانی چاہیے۔ جمود سے تعفن یقینی ہے۔ حرکت میں برکت ہے ایسا کام کیا جائے کہ سانپ بھی مر جائے اور لاٹھی بھی نہ ٹوٹے۔ اللہ ہم سب کو ہدایت دے اور تنقید کے بہانے تذلیل اور تنقیص سے بچائے۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
passport-not-proof-of- indian citizenship

پاسپورٹ شہریت کا حتمی ثبوت نہیں! جانیے پھر شہریت کا اصل اور قانونی ثبوت کیا ہے؟

جون 25, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی انتقال کر گئے

معروف عالمِ دین مولانا سلمان حسینی ندوی دنیا سے رخصت ہو گئے

جون 29, 2026
وینزویلا زلزلہ تباہی

وینزویلا میں قیامت خیز زلزلہ: 32 افراد ہلاک، 700 سے زائد زخمی، کئی عمارتیں زمین بوس

جون 25, 2026
ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

امریکا ایران معاہدہ

‘ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم’، :ٹرمپ کا بڑا اعلان

ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026
امریکا ایران معاہدہ

‘ایران کے ساتھ جنگ بندی ختم’، :ٹرمپ کا بڑا اعلان

جولائی 8, 2026
ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

ٹرمپ کا بڑا اعلان، ترکی پر برسوں سے عائد امریکی پابندیاں ختم کرنے کا فیصلہ

جولائی 7, 2026

حالیہ خبریں

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

ہندو سے مسلمان بننے والوں کو بھی ریزرویشن؟ تمل ناڈو حکومت سپریم کورٹ پہنچ گئی

جولائی 10, 2026
یوگی بولے : روڈ پر نماز ، لا ؤڈ اسپیکر بند،سلاٹر ہاؤس پر تالے

‘جو آج آستھا کی بات کرتے ہیں، انہوں نے ہنومان گڑھی میں نماز پڑھوائی تھی’، ایودھیا میں یوگی آدتیہ ناتھ کا بڑا حملہ

جولائی 10, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN