بنگلور :(ایجنسی)
عالیہ اسدی کو 9 فروری بروز بدھ کو ایسی کئی فون کالیں موصول ہوئیں جس میں ان کے ساتھ بدسلوکی اور گالی گلوچ کی گئی۔ اس کے بعد 17 سالہ اس بچی کو احساس ہوا کہ اس کےفون نمبر والدین کےنام اور گھر کے پتہ جیسے پرسنل ڈیٹیل کو اُڈپی (کرناٹک ) کےوہاٹس ایپ گروپ میں شیئر کردیاگیا۔
اسدی اُڈپی کے گورنمنٹ پری یونیورسٹی کالج فار گرلز کی ان چھ مسلم طالبات میں سے ایک ہے جنہوں نے کرناٹک کے تعلیمی اداروں میں حجاب پہننے کو لے کرمظاہروں کی قیادت کی ہے۔
بدھ کو ان تمام چھ طلباء کے داخلہ فارم کالج سے لیک کردیے گئے۔ دی کوئنٹ کی رپورٹ کے مطابق ان آن لائن میسیج میں لڑکیوں کےنام اور فوٹو گرافک ہے۔ یہ میسیج دراصل ایک پی ڈی ایف دستاویزہے جس میں کالج کے لیجر سے نکالی گئی داخلہ فارم کی اسکین کی گئی کاپی لگی ہوئی ہے ۔ اسی سے یہ صاف ہے کہ یہ کالج سے ہی لیک ہوا ہے ۔
اُڈپی کے بی جے پی ایم ایل اے رگھوپتی بھٹ اس کالج کی ڈیولپمنٹ کمیٹی (سی ڈی سی) کے چیئرمین ہیں۔ وہ دسمبر 2021 سے کہہ رہے ہیں کہ حجاب میں کالج آنے والی مسلم طالبات کو کلاس رومز میں بیٹھنے کی اجازت نہیں ہوگی۔ مسلم طالبات نے دی کوئنٹ کو بتایا کہ داخلہ کے دستاویزات صرف کالج کے پاس ہیں۔
اگر کوئی میرے گھر پر حملہ کرے تو
جب دی کوئنٹ نے عالیہ اسدی سے بات کی تو انہوں نے برقعہ پہنا ہوا تھا۔ اس سے قبل میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے انہوں نے برقعہ نہیں بلکہ حجاب پہنے ہوئی تھی۔ ’میں اب کسی کو اپنا چہرہ دکھانے میں آسانی محسوس نہیں کرتی۔ اب تمام جان گئے ہیں کہ کیسی دکھتی ہوں اور میرا گھر کہاں ہے۔ اگر کوئی میرے گھر پر حملہ کرے تو ؟‘










