بنگلور ؍شیموگہ:(ایجنسی)
حجاب تنازع کے دوران شیموگہ کے کالج میں ترنگا اتار کر بھگوا پرچم لہرانے کے واقعہ پر تمام سیاسی پارٹیوں نے خاموشی اختیار کر رکھی ہے، لیکن آر ایس ایس سے وابستہ طلبہ تنظیم اکھل بھارتیہ ودیارتھی پریشد (اے بی وی پی) پر کرناٹک میں حجاب کے معاملے کو بھڑکانے اور زعفرانی شالیں تقسیم کرنے کا الزام لگایا گیا ہے۔کیمپس فرنٹ آف انڈیا (سی ایف آئی) نے بروز بدھ 9 فروری کو بنگلور میں منعقدہ ایک پریس کانفرنس میں یہ دعویٰ کیا۔انہوں نے کہا کہ اے بی وی پی کے ارکان زعفرانی شالیں بانٹتے تھے اور طلبہ کو اکساتے تھے۔
تنظیم کے عہدیداروں نے کہا، ’اے بی وی پی نے طلبہ کو زعفرانی شالیں اور پیٹا (پگڑی) فراہم کیں۔ یہ وہی ہیں جو طلباء کو تشدد میں شامل ہونے کے اکساتے ہیں۔ وہ اُڈپی میں اس حجاب تنازع کو روک سکتے تھے، لیکن انہوںنے ریاست کے دیگراضلاع میں اپنی تنظیم کےذریعہ پھیلا دیا۔ سی ایف آئی نے آگے دعویٰ کیا کہ اے بی وی پی ، بی جے پی اور دیگر دائیں بازو کی تنظیمیں ریاست میں پھیلے تشدد کےلئے ذمہ دار ہیں۔ تنظیم کا الزام ہے کہ حجاب کے معاملے کو اچھالنے کے پیچھے بی جے پی اور اس کی تنظیموں کا اپنا مقصد ہے۔ پانچ ریاستوںمیں جو انتخابات ہو رہے ہیں،یہ لوگ وہاں مذہبی پولرائزیشن کر کے الیکشن جیتنا چاہتے ہیں ۔ یہ لوگ ملک کے اصل مسائل پر بات نہیں کرنا چاہتے۔ اے بی وی پی کی تشکیل آر ایس ایس نے طلبہ کے مفادات کے لیے کی تھی لیکن کیا اے بی وی پی اس سوال کا جواب دے سکتی ہے کہ حجاب کے تنازع کو چھیڑنے سے طلبہ کو کیا فائدہ ہوگا۔
اب تک جب کالجوں میں اے بی وی پی کی سرگرمیاں ہوتی تھیں تو دیگر ہندو مسلم، عیسائی طلبہ ان سرگرمیوں کو سیاسی تنظیم کی سرگرمیاں سمجھ کر خاموش رہتے تھے۔ لیکن یہ ہماری غلطی تھی۔ اب ہر سطح پر اے بی وی پی کی مخالفت ضروری ہے، کیونکہ یہ لوگ فرقہ وارانہ کشیدگی پھیلا کر ملک دشمن کام کر رہے ہیں۔ یہ لوگ مختلف برادریوں کو تقسیم کرکے ملک کو کمزور کرنا چاہتے ہیں۔










