نئی دہلی :(ایجنسی)
کرناٹک کے ایک کالج سے حجاب کو لے کر شروع ہوئے تنازع پر سیاست رکنے کا نام نہیں لے رہی ہے۔ ایک بار پھر اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے حجاب تنازع پر ٹویٹ کیا ہے۔ ایک ویڈیو ٹویٹ کرتے ہوئے اویسی نے کیپشن میں لکھا، ‘’ان شاء اللہ ایک دن حجابی وزیر اعظم بنیں گے۔‘
ٹویٹ کئے گئے ویڈیو میں اویسی کہہ رہے ہیں، ’ہم اپنی بیٹیوں کوان شاء اللہ اگر وہ فیصلہ کرتی ہے کہ ابا امی میں حجاب پہنوں گی، تو اماں ابا کہیں گے ۔ بیٹا پہن، تجھے کون روکتا ہے ہم دیکھیں گے ۔ حجاب، نقاب پہنیں گے کالج بھی جائیں گے۔ کلکٹر بھی بنیں گے ، بزنس میںن، ایس ڈی ایم بھی بنیں گے اور ایک دن اس ملک میں ایک بچی حجاب پہن کر وزیر اعظم بنیں گی۔‘
بھارت کا آئین حجاب پہننے کا حق دیتا ہے: اویسی
اس سے قبل اسد الدین اویسی نے حجاب تنازع میں پٹاسوامی فیصلے کا حوالہ دیا تھا۔ اویسی نے کہا تھا، بھارت کا آئین آپ کو چادر، نقاب یا حجاب پہننے کا حق دیتا ہے… پٹاسوامی کا فیصلہ آپ کو ایسا کرنے کی اجازت دیتا ہے۔ یہ ہماری پہچان ہے۔ میں اس لڑکی کو سلام پیش کرتا ہوں جس نے ان لڑکوں کو جواب دیا، ڈرنے اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔ اتر پردیش میں ایک انتخابی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے اویسی نے کہا تھا کہ کوئی بھی مسلم خاتون بغیر کسی خوف کے حجاب پہن سکتی ہے۔
بی جے پی کے ترجمان راکیش ترپاٹھی نے اویسی کے بیان پر نشانہ سادھا ہے۔ راکیش ترپاٹھی نے کہا کہ اسد الدین اویسی کا یہ مغالطہ مغالطہ ہی رہے گا۔ جہاں ایک طرف وہ مسلم خواتین کو پردے میں رکھنا چاہتے ہیں، یہ اس کی دقیا نوسی، تنگ نظر اور بنیاد پرست سوچ ہے، لیکن اب مسلم خواتین اور لڑکیاں آگے بڑھ رہی ہیں اور کر خود کفیل ہو رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ نریندر مودی کی حکومت نے خواتین کو تین طلاق سے آزادی دلانے کا کام کیا ہے۔ آج بغیر محرم کے حج پر جانے کی اجازت دینے کا کام کیا گیا ہے۔ اب مسلم خواتین اسدالدین اویسی کی باتوں میں پھنسنے والی نہیں ہیں۔ یہ کتنے بی شدت پسند مولانا کے کٹ مولے کے دباؤ میں اس طریقے کی بیان بازی کرکے لوگوں کو بھڑکانے کی کوشش کرتے رہے ہیں، لیکن اب اس طریقہ کا کوئی بھی پولرائزیشن نہیں ہوگی۔ اب ملک ترقی کے ایشو پر بات کرے گا اورالیکشن بھی ترقی کے مسائل پر ہی لڑاجائے گا۔
حجاب کا تنازع کہاں سے شروع ہوا؟
دراصل، ملک میں حجاب کو لے کر تنازع کرناٹک کے اُڈپی کی ایک یونیورسٹی سے شروع ہوا تھا۔ کالج میں چھ طالبات حجاب پہن کر کلاس میں آئیں۔ اس کے بعد کنڈا پور اور بندور کے کچھ دوسرے کالجوں میں بھی ایسے ہی کیس آئے۔ ریاست میں کئی ایسے واقعات ہوئے ہیں جہاں مسلم طالبات کو حجاب پہن کر کالجوں یا کلاسوں میں جانے کی اجازت نہیں دی جا رہی ہے۔
اس تنازع نے سیاسی درجہ حرارت کو مزید بڑھایا جب ایک دوسرے گروپ کے طلباء بھگوا گمچھا، اسکارف اور پگڑی پہنے کالج میں آنے لگے اور جے شری رام کے نعرے لگائے۔ اس کے بعد ملک بھر میں مظاہرے ہوئے۔ حالات اس نہج پر پہنچ گئے کہ کرناٹک کے اسکول اور کالج تین دن کے لیے بند کرنے پڑے۔










