نئی دہلی :(ایجنسی)
نہ صرف کانگریس لیڈر راہل گاندھی بلکہ آر ایس ایس بھی ہندو اور ہندوتوا تنازع کو زندہ رکھنا چاہتا ہے۔ اسی لیے آج سنگھ نے اپنے لیڈر سریش بھیا جی جوشی کو آگے کر کے اس پر پھر سے بحث شروع کر دی ہے۔راہل نے ہندواور ہندوتوا پر بحث شروع کی تھی۔ آر ایس ایس نے ایک طرح سے راہل کے چیلنج کو قبول کر لیا ہے۔بھیا جوشی کےبیان کے بعد سنگھ اور بی جے پی کے دیگر کئی لیڈر بھی اس پر جارحانہ بیان دینا شروع کرسکتے ہیں۔
سریش بھیاجی جوشی نے بدھ کو میڈیا سے بات چیت میں کہا کہ ہندو اور ہندوتوا ایک ہی جیسے نظریات ہیں۔ اس پر ایک فضول تنازع کھڑا کیا جا رہا ہے۔راہل گاندھی کا نام لیے بغیر انہوں نے کہا کہ اس معاملے پر غیر ضروری تنازع صرف غلط تاثر پیدا کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔کیونکہ میں ہندو ہوں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ ہندو کا کردار ہی ہندوتوا ہو سکتا ہے۔
آر ایس ایس چاہتج ہےبحث
آر ایس ایس ہندو اور ہندوتوا کے مسئلہ پر بحث چاہتا ہے۔ پچھلے دو مہینوں سے کانگریس لیڈر راہل گاندھی اپنی تقریروں میں اس کا مسلسل ذکر کر رہے ہیں۔آر ایس ایس چاہتاہے کہ اس پر بحث جاری رہے۔ ہندو اور ہندوتوا کی مدد سے ہی اس نے اپنے سیاسی طاقت کو بلندیوں تک پہنچایا ہے۔اگر اس معاملے پر بحث جاری رہا تو ان کے حامیوں میں اس خیال کے بارے میں تاثر مضبوط ہوگا۔بھیا جی جوشی کے اس بیان سے تنازع مزید بڑھ گیا ہے۔ اگر کانگریس لیڈر راہل گاندھی اس معاملے پر نئے آئیڈیاز کے ساتھ سامنے آتے ہیں تو سنگھ اس کا دوبارہ جواب دے گا۔
کیا راہل کو فائدہ ہوگا؟
راہل گاندھی اگر اس معاملے پر اپنے خیالات سے لوگوں کے تاثر کو بدل سکتے ہیں تو یہ ایک بڑی کامیابی تصور کی جائے گی۔ لیکن ایسا نہیں لگتا کہ راہل اس معاملے پر کانگریس کو کوئی فائدہ دے پائیں گے۔اب بھی ملک کے لوگ بی جے پی کو ایک ہندوتوا پارٹی کے طور پر دیکھتے اور جانتے ہیں، راہل اپنے بیانات سے دراصل یہ تاثر دینا چاہتے ہیں کہ کانگریس بھی کم وبیش ہندوتوا پر قائم ہے لیکن اس کا ہندوتوا تمام برادریوں کو ساتھ لے کر چلنےوالا ہندوتوا ہے ۔ یعنی کانگریس کے ہندو توا میں دیگر برادریوں کے لئے بھی جگہ ہے ۔
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے اس مسئلہ کی شروعات یہ کہہ کر کی تھی کہ ہمارا ہندوتوا گاندھی کا ہے اور ان کا ہندوتوا گوڈسے کا ہے۔
اس کے بعد جب وزیر اعظم مودی نے وارانسی میں گنگا میں نہایا تو راہل نے ایک بیان میں کہا کہ ایک ہندوتوادی گنگا میں اکیلے اسنان کرتا ہے ، جسے سیکڑوں کیمرے دنیا کو دکھاتے ہیں ۔ جبکہ ایک ہندو وہ ہوتا ہے جو کروڑوں کو ساتھ لے کر چلتا ہے۔ راہل کے اس بیان سے بی جے پی لیڈر بہت تلملااٹھے تھے۔ اسی وقت سے آر ایس ایس اس کا جواب دینے پر غور کررہا تھا۔









