ہلدوانی : (ایجنسی)
راشٹریہ سویم سیوک سنگھ کے سربراہ موہن بھاگوت نے کہا کہ جو ہندو شادی کے لیے مذہب تبدیل کر رہے ہیں وہ یہ غلط کر رہے ہیں۔ انڈین ایکسپریس کی رپورٹ کے مطابق بھاگوت نے کہا کہ یہ ایک چھوٹی سی خود غرضی کی وجہ سے ہورہا ہے، کیونکہ ہندو پریوار اپنے بچوں میں اپنے مذہب اور روایات کے لیے فخر کا احساس پیدا کرنے سے قاصر ہیں۔
انڈین ایکسپریس نے اس خبر کو نمایاں مقام دیا ہے۔ اخبار کے مطابق ، ’بھاگوت نے اتراکھنڈ کے ہلدوانی میں ایک پروگرام کے دوران آر ایس ایس کے کارکنوں اور ان کے اہل خانہ سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ کیسے مذہب تبدیل ہو تاہے۔ ؟ اپنے ملک کے لڑکے- لڑکیاں دوسرے مذاہب میںکیسے چلی جاتی ہیں؟ چھوٹے – چھوٹے مفاد کی وجہ سے شادی کرنے کے لیے، کرنے والے غلط ہے۔ یہ بات الگ ہے ،لیکن ہمارے بچے ہم نہیں تیار کرتے؟ ہمیں ان کی تربیت گھر میں کرنی پڑیں گی۔ اپنے تئیں فخر، اپنے مذہب کے تئیں فخر ،اپنی پوجا کے تئیں احترام ، اس کے لئے سوال آئے گا تو جواب دینا، کنفیوز نہیں ہونا۔‘
اخبار نے لکھا ہے کہ موہن بھاگوت کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں آیا ہے جب بی جے پی کی حکومت والی کئی ریاستیں بین مذہبی شادیوں کے خلاف قوانین لاچکی ہیں۔ ایسی شادیوں کو ہندوتو تنظیمیں ’ لو جہاد‘ کہتے ہیں ۔ ماناجا تا ہے کہ ریاستی سرکاروں نے یہ قانون آر ایس ایس کے دباؤ میں لایاہے ۔
اخبارکی رپورٹ کے مطابق بھاگوت نے ہندوستانی خاندانوں کی اقدار اور تحفظ کے بارے میں تفصیل سے بات کی۔ انہوں نے اس بارے میں بھی بات کی کہ کیسے آر ایس ایس کے پروگراموں میں صرف مرد نظر آتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ آر ایس ایس کا مقصد ہے کہ ہم ایک ہندو سماج تیار کریں، لیکن جب ہم آر ایس ایس کے پروگرام منعقد کرتے ہیں تو صرف مرد نظر آتے ہیں ، اگرہم ایک پورا سماج بنانا چاہتے ہیں تو اس میں 50 فیصد خواتین ہونی چاہئے۔
بھاگوت نے کہا کہ ہندوستانی ہمیشہ سے اپنی دولت دوسروںکے ساتھ شیئر کرتے تھے، بھارت میں مغلوں کے آنے تک بہت دولت تھی۔ انہوں نے کہا کہ پہلی شتابدی سے 17 ویں شتابدی تک ملک کی مغل لوٹ شروع ہونے سے پہلے بھارت معاشی طور سے دنیا کا سب سے خوشحال ملک تھا ۔ اس لئے اسے سونیا کی چڑیا کہا گیا۔
انہوں نے کہا کہ لوگوں کو غلام بنانے کے لیے مغربی ممالک نے چین میں چرس بھیجنا شروع کیا، نوجوان کو چرس کی لت لگ گئی اور اس طرح مغربی نے چین پر حکومت کی۔ ہمارے ملک میں بھی یہی ہو رہا ہے ۔ اگر آپ ڈرگس کیس دیکھیں گے اور یہ کہاں سے آرہا ہے ، یہ جانیں گے تو آپ کو معلوم ہوگا کہ یہ کیوں اور کہاں سے آر ہا ہے اور اس کا فائدہ کسے ہو رہا ہے ۔‘










