نئی دہلی ( آر کے بیورو )
ترنمول کانگریس کی ایک شکایت پر کارروائی کرتے ہوئے قومی انسانی حقوق کمیشن نے بدھ کو تریپورہ کے چیف سکریٹری کمار آلوک نوٹس جاری کردیا اس کے ساتھ ڈی جی پی وی ایس یادو کو بھی نوٹس دیا گیا ہے،جبکہ قومی اقلیتی کمیشن نے اب تک خاموشی اختیار کر رکھی ہے جس پر سوال اٹھا یا جارہا ہے ۔ دوسری طرف مسلم تنظیمیں بھی بیان جاری کرکے خاموش بیٹھ گئی ہیں۔
ٹی ایم سی کے ترجمان ساکیت گوکھلے نے اس سلسلہ میں کمیشن سے رجوع کیا اور ریاستی سکریٹری سے ایکشن ٹیکن رپورٹ مانگی۔ انہوں نے کہا کہ بی جے پی کے زیر اقتدار سرکار کی سسٹم نے ایک مذہبی اقلیت کے خلاف بڑے پیمانے پر تشدد کے باوجود ’’فساد کرنے والی بھیڑ کاساتھ دے کر ایک تماشائی کی طرح کام کیا‘‘ انہوں نے دعویٰ کیا کہ وی ایچ پی اور آر ایس ایس کی نکالی گئی ریلی کے دوران ایک مسجد اور دو مسلم دکانوں میں توڑ پھوڑ کی ، اسی دوران قومی اقلیتی کمیشن نے اس تشددکے خلاف تاحال کوئی توجہ نہیں دی۔ انسانی حقوق حلقوں کا کہنا ہے کہ یہ بدبختی کی بات ہے ۔ قومی اقلیتی کمیشن ایسے چیلنج اور دکھ بھرے وقت میں اقلیتوں کا تحفظ کرنے میں ناکام رہا ۔









