دہرا دون ؍ہری دوار :(ایجنسی)
اتر پردیش میں اسمبلی انتخاب کے پیش نظر پہلے مرحلہ کی ووٹنگ جاری ہے۔ اس درمیان اتراکھنڈ میں بھی اسمبلی انتخاب کی سرگرمیاں جاری ہیں۔ ہری دوار میں کانگریس کے سابق صدر راہل گاندھی نے وزیر اعظم نریندر مودی کو ایک بار پھر سخت تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ ہری دوار میں اپنی ایک تقریر کے دوران انھوں نے کہا کہ ’’کانگریس آپ لوگوں کی حکومت لائے گی۔ دہلی میں وزیر اعظم نہیں ہیں، وہاں راجا بیٹھا ہوا ہے۔ ہمیں ایسی حکومت نہیں چاہیے۔ ہمیں غریب عوام کی، کسانوں کی، چھوٹے کاروباری اور چھوٹے تاجروں کی اور نوجوانوں کو روزگار دلوانے والی حکومت چاہیے۔‘‘
کانگریس لیڈر راہل گاندھی نے پی ایم نریندر مودی کے ان کی بات نہ سننے کے الزام پر جوابی حملہ کرتے ہوئے کہا کہ اس کا مطلب ہے کہ ان پر ای ڈی اور سی بی آئی کا دباؤ نہیں چلتا۔ انہوں نے کہا کہ اس کا گھمنڈ دیکھ کر مجھے ہنسی آتی ہے۔ مودی کو وزیر اعظم نہیں بلکہ ‘’راجا‘ بتاتے ہوئے کانگریس لیڈر نے کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ پچھلے 70 سالوں میں کسی نے کوئی کام نہیں کیا اور ان کے آنے کے بعد ہی ملک بیدار ہوا ہے۔
ہری دوار میں راہل نے کہا کہ مودی نے ملک کو ارب پتیوں اور غریبوں کے دو حصوں میں بانٹ دیا ہے۔ اب دو ہندوستان ہیں۔ مودی نے نوٹ بندی اور غلط جی ایس ٹی جیسے فیصلوں کو نافذ کر کے چھوٹے تاجروں، دکانداروں، کسانوں اور مزدوروں کو برباد کر دیا ہے۔ انہوں نے سوال کیا کہ کیا نوٹ بندی سے ملک میں کالا دھن ختم ہوا؟ کانگریس لیڈر نے کہا کہ یہ کالا دھن سفید ہو گیا ہے اور بی جے پی کو مل گیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے پورا ملک بے روزگاری کے مسئلے سے دوچار ہے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کو روز گار ارب پتیوں نے نہیں بلکہ چھوٹے تاجروں، دکانداروں اور کسانوں دیتے ہیں، جنہیں مرکزی حکومت نے برباد کر دیا ہے۔
راہل گاندھی نے مودی حکومت پر کورونا سے نمٹنے میں ناکام ہونے کا الزام بھی لگایا۔ انہوں نے کہا کہ جہاں دیگر ممالک نے اپنے شہریوں کو محتاط رہنے کو کہا، مودی نے لوگوں سے تھالی بجانے اور موبائل فون کی روشنی جلانے کو کہا۔ انہوں نے کہاکہ جب آپ کے والدین اوربچوں کو آکسیجن اور وینٹی لیٹرز کی ضرورت تھی تو آپ کی سرکار کہاں تھی؟ کورونا میں مرکز نے مزدوروں کو سڑکوں پر بے سہارا چھوڑ دیا ۔ جبکہ کانگریس نے ان کے لیے بسوںکاانتظام کیا۔ بی جے پی سرکار نے اپنے گھمنڈ کےسبب ان بسوں کو لینے سے بھی انکار کردیا تھا۔
راہل گاندھی نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ ’’اگر ہماری حکومت آتی ہے تو ہم ریاست میں 4 لاکھ ملازمتیں دیں گے۔ ہم 5 لاکھ غریبوں کو ہر سال 40 ہزار روپے ان کے اکاؤنٹ میں ڈلوائیں گے۔ ہم ایمبولنس، موٹر سائیکل اور ڈرون کے ذریعہ سے صحت خدمات کو آپ کے گھر تک پہنچائیں گے۔‘‘
اپنی تقریر کے دوران راہل گاندھی نے مودی حکومت کے طرز حکمرانی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا۔ انھوں نے کہا کہ اگر نریندر مودی کو لگتا ہے کہ ان سے سبھی کو ڈر لگتا ہے، تو وہ غلط ہیں۔ ان کو لگتا ہے کہ ای ڈی، سی بی آئی سے وہ کسی کو بھی دبا دیں گے، تو وہ غلط ہیں۔ مجھے ان سے ڈر نہیں لگتا۔ مجھے الٹا ان کے تکبر کو دیکھ کر ہنسی آتی ہے۔ وہ ملک سے کہتے ہیں کہ گزشتہ 70 سالوں میں کچھ نہیں ہوا۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ سڑکیں، فیکٹری، ٹرین سب جادو سے بنی ہیں۔










