پنجی: (ایجنسی)
دہلی کے وزیر اعلیٰ اروند کیجریوال نے اتوار کو کہا کہ وہ اس لئے مندرجاتے ہیں کیونکہ وہ ہندو ہیں اور کسی کو اس پر اعتراض نہیں ہونا چاہیے۔ دو روزہ دورے پر یہاں پہنچے عام آدمی پارٹی کے قومی کنوینر اس سوال کا جواب دے رہے تھے کہ کیا وہ مندر جا کر ‘’سافٹ ہندوتوا‘ کا پیغام دے رہے ہیں۔
کیجریوال نے کہا، ’کیا آپ مندر جاتے ہیں؟ میں بھی مندر جاتا ہوں۔ مندر جانے میں کوئی برائی نہیں ہے۔ جب آپ یہاں جاتے ہیں تو آپ کو سکون محسوس ہوتا ہے۔ ان کو (سافٹ ہندوتوا کا الزام لگانے والوں پر) اعتراض کیوں ہے؟ کوئی اعتراض کیوں ہونا چاہئے؟ میں مندر جاتا ہوں کیونکہ میں ہندو ہوں۔ میری بیوی گوری شنکر مندر جاتی ہے۔‘
گوا کے وزیر اعلیٰ پرمود ساونت کے اس بیان کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ عام آدمی پارٹی (آپ) تیرتھ یاترائیں اسپانسر کرنے جیسی ساحلی ریاست کی اسکیموں کی نقل کررہی ہے ۔ کیجریوال نے دعویٰ کیا کہ وہ (ساونت) دراصل ان کی پارٹی کی نقل کررہے ہیں ۔
کیجریوال نے کہا کہ میں کہنا چاہتا ہوں کہ پرمود ساونت ہماری نقل کر رہے ہیں۔ جب میں نے کہا کہ ہم بجلی مفت دیں گے تو انہوں نے پانی مفت دیا۔ جب میں نے کہا کہ ہم روزگار بھتہ دیں گے تو انہوں نے تقریباً 10,000 نوکریوں کا اعلان کیا اور جب میں نے یاترا کے بارے میں بات کی تو انہوں نے اپنی اسکیم کا اعلان کیا۔
دہلی کے وزیر اعلیٰ نے اپنے دورے کے دوران بھنڈاری برادری کے ممبران سے ملاقات کی اور مزدور یونین اور کان کنی تحریک کے رہنما پوتی گاونکر کو بھی پارٹی میں شامل کیا۔









