نئی دہلی :(ایجنسی)
میگھالیہ کے گورنر ستیہ پال ملک نے حکومت اور بی جے پی قیادت پر اپنا جارحانہ موقف جاری رکھا۔ مرکز پر حملہ کرتے ہوئے، انہوں نے الزام لگایا کہ جب وہ کسانوں کے احتجاج پر بات کرنے کے لیے وزیر اعظم نریندر مودی سے ملے تو وہ ’ گھمنڈ‘میں تھے۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پی ایم کے ساتھ بحث بھی ہوگئی تھی۔
ہریانہ کے دادری میں ایک سماجی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے، ستیہ پال ملک نے کہا،’’’جب میں کسانوں کے مسئلہ پر وزیر اعظم سے ملا تو پانچ منٹ کے اندر ان سے میری لڑائی ہو گئی۔ وہ بہت گھمنڈمیں تھے۔ جب میں نے ان سے بتایا کہ ہمارے 500 لوگ مر گئے تو انہوں نے کہا کیا میرے لیے مرے ہیں؟ میں نے کہا کہ آپ کے لیے ہی تومرے تطے،کیونکہ آپ راجہ جو بنےہوئے ہو۔ اس کو لےکر میری ان سے لڑائی ہوگئی‘‘ ملک نے آگے کہاکہ پی ایم نے کہاکہ آپ امت شاہ سے مل لو۔ جس کے بعد میں امت شاہ سے ملا۔
بعد میں دادری میں میڈیا کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے، ملک سے زرعی قوانین کو منسوخ کرنے کے حکومت کے فیصلے پر ان کی رائے پوچھی گئی تو انہوں نے کہا، ’وزیراعظم نے جو کہا اس کے علاوہ اور کیا کہہ سکتے تھے ۔ ہمیں (کسانوں کو) فیصلہ لینا چاہئے ۔ ہمیں کچھ ایسا کرنے کےبجائے ایم ایس پی کے لیے قانونی گارنٹی پانے کےلیے ان کی مدد لینی چاہئے ۔
انہوں نے کہا کہ مسائل ابھی بھی زیر التوا ہیں۔ جیسے کسانوں کے خلاف مقدمات۔ حکومت ان مقدمات کو واپس لے۔ اسی طرح ایم ایس پی پر قانون بنانے کی ضرورت ہے۔
بتا دیں کہ اس سے پہلے بھی ستیہ پال ملک زرعی قوانین کو لے کر کئی بار مرکزی حکومت پر بیان دے چکے ہیں۔ نومبر میں، جے پور میں خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ آخر کار مرکز کو کسانوں کے مطالبات ماننا ہوں گے۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ جب بھی وہ کسانوں کے مسئلہ پر بولتے ہیں تو انہیں ایک دو ہفتوں تک خوف رہتا ہے کہ شاید انہیں دہلی سے کوئی فون آجائے۔
اس معاملے میں اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی نے کہا، ’میگھالیہ کے گورنر ستیہ ملک سے ملاقات کے دوران پی ایم مودی ناراض ہوگئے کیونکہ ملک نے زرعی قوانین کی وجہ سے 500 سے زیادہ کسانوں کی موت کی بات کہی۔ اسے معلوم ہوتا ہے کہ پی ایم گورنر سے بھی سچائی نہیں سننا چاہتے، عوام کی توبات ہی چھوڑیئے ۔ وہ صرف تعریف سننا چاہتےہیں۔‘










