لکھنؤ :(ایجنسی)
بی جے پی رکن پارلیمنٹ ریتا بہوگنا جوشی نے کہا ہے کہ وہ بی جے پی نہیں چھوڑ رہی ہیں۔ ریتا بہوگنا جوشی نے منگل کو نیوز 24 سے بات چیت میں کہا کہ ان کا بیٹا مینک جوشی اس کا مستحق ہے اور وہ 12 سال سے سخت محنت کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اگر پارٹی ایک پریوار کے دو لوگوں کو ٹکٹ نہیں دینا چاہتی تو وہ اپنی لوک سبھا سیٹ سے استعفیٰ دے سکتی ہوں۔ بہوگناپریاگ راج سے ایم پی ہیں۔
بی جے پی ایم پی نے منگل کو اتر پردیش میں بی جے پی کے انتخابی انچارج دھرمیندر پردھان سے ملاقات کی اور اس کے بعد تمام چینلوں کے صحافیوں سے بات چیت کی۔
آج تک سے بات چیت میں ریتا بہوگنا جوشی نے کہا کہ ٹکٹ دینا ہے یا نہیں یہ فیصلہ پارٹی کو کرنا ہے۔جوشی نے اس معاملے میں پارٹی کے قومی صدر جے پی نڈا کو خط بھی لکھا ہے۔ ان کے بیٹے مینک جوشی اسمبلی انتخابات میں لکھنؤ کینٹ سیٹ سے ٹکٹ مانگ رہے ہیں۔ریتا بہوگنا جوشی کے علاوہ بی جے پی ایم پی جگدمبیکا پال، مرکزی وزیر کوشل کشور اور کچھ دوسرے بڑے لیڈر اپنے بچوں کے لیے ٹکٹ مانگ رہے ہیں۔
ریتا بہوگنا جوشی اتر پردیش کے سابق وزیر اعلیٰ اور کانگریس کے بزرگ رہنما ہیم وتی نندن بہوگنا کی بیٹی ہیں۔ ریتا بہوگنا جوشی مہیلا کانگریس کی قومی صدر کے طور پر کانگریس تھیں لیکن وہ کچھ سال پہلے بی جے پی میں شامل ہوگئیں۔ بی جے پی نے انہیں 2019 کے لوک سبھا انتخابات میں پریاگ راج سیٹ سے ٹکٹ دیا تھا جہاں سے وہ جیتی تھیں۔ ریتا بہوگنا جوشی الہ آباد کی میئر بھی رہ چکی ہیں۔ کنبہ پروری کے لیے دوسروں کو کوسنے والی بی جے پی اس سے پہلے بھی پارٹی لیڈروں کے بچوں اور رشتہ داروں کو ٹکٹیں دیتی رہی ہے لیکن اس بار وہ اس معاملے میں پھونک -پھونک کر قدم اٹھا رہی ہے۔











