نئی دہلی :(ایجنسی)
’اگر مسلمانوں کے قتل عام کی بات ہو گی تو ہندوستان کا مسلمان خاموش نہیں بیٹھے گا، وہ لڑے گا۔ اگر کوئی ہمیں کچلنا چاہے گا تو وہ جوابی کارروائی کریں گے۔ ہاں، اگر ایسا ہوگا، ہم ایسا ہی کریں گے۔ ہم اپنے گھروںکی حفاظت کررہے ہیں، اپنے پریوار اور اپنے بچوں کی۔‘ یہ باتیں بالی ووڈ اداکار نصیر الدین شاہ نے دی وائر کو انٹرویو دیتے ہوئے کہیں۔ انٹرویو میں نصیر الدین شاہ نے مغلوں سے لے کر ہری دوار دھرم سنسد تک بہت سی چیزوں پر اپنے خیالات کا اظہار کیا۔ اس انٹرویو کے کلپس سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ہیں۔ نصیرالدین شاہ کے الفاظ کے حوالے سے سوشل میڈیا پر ایک طرح کی جنگچھڑ گئی ہے۔
نصیر الدین شاہ نے کہا کہ ان دنوں بار بار مغلوں کی بات ہوتی ہے۔ وہ بھول جاتے ہیں کہ مغل ہی وہ لوگ ہیں، جنہوں نے بہت کچھ دیا ہے۔ مغلوں نے یہاں بہت سی چیزیں دیں جن میں یادگاریں، ثقافت، رقص، شاعری، مصوری، ادب… وغیرہ۔ تیمور، نادر شاہ اور غزنی کی بات کوئی نہیں کرتا۔ یہ لوگ ڈاکو تھے۔ وہ آئے، لوٹے اور چلے گئے۔ مغلوں کے بارے میں کیا کہیں… ان کو کیا کہنا درست ہوگا… انہیں رفیوجی… ہاں وہ مہاجروں کی طرح تھے۔
35 منٹ کے اس انٹرویو میں نصیرالدین شاہ سے پوچھا گیا کہ ‘’نریندر مودی کے انڈیا‘’ میں ایک مسلمان ہوناکیسا لگتا ہے؟ اس کےجواب میں نصیرالدین نے کہاکہ ’’ مسلم حاشیہ پر ہیں اورانہیںبے کار بنادیاگیاہے۔ وہ مسلمانوںکو سیکنڈ کلاس سٹیزن بنانے کے راستے پر ہیں اوریہ ہر سیکٹر میں ہو رہاہے ۔ ‘
ہری دوار دھرم سنسد کے بارے میں نصیرالدین شاہ نے کہا، ’مجھے حیرت ہوتی ہے یہ سوچ کر کہ یہ لوگ جو کہہ رہے ہیں،کیا اس کامطلب بھی جانتے ہیں۔ وہ 200 ملین لوگ (وہ بھارت کے مسلمانوں کی بات کررہے ہیں) فائٹ بیک کریں گے ۔ ہم اسی ملک کے ہیں۔ ہم یہیں پیداہوئےاور ہم یہیں پر رہیں گے۔ ہم اسی ملک کے ہیں۔‘ ہری دوار دھرم سنسد میں مسلمانوں کے قتل عام کیے جانے کی باتوں پر نصیرالدین شاہ نے کہاکہ اس سے بھارت میں خانہ جنگی جیسے حالات پیدا ہوسکتےہیں ۔
نصیر الدین شاہ نے کہا، ’’مسلمانوں کو منظم طریقے سے غیر محفوظ بنایا جا رہا ہے۔ یہ ہمیں ڈرانے کے لیے کیا جا رہا ہے، لیکن ہمیں ڈرنا نہیں چاہیے۔ مسلمانوں میں فوبیا پھیلانے کی کوششیں کی جا رہی ہیں لیکن ہمیں کسی بھی حالت میں اس سے متاثر ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ میں خود کو غیر محفوظ محسوس نہیں کرتا کیونکہ یہ میرا گھر ہے، لیکن مجھے بچے کی فکر ہے۔‘‘
ہری دوار دھرم سنسد میں قتل عام جیسی چیزوں پر وزیر اعظم کے کچھ نہ کہنے پر، نصیر الدین شاہ نے کہا،’انہیں کوئی فکر نہیں ہے اور کم از کم آپ ان (پی ایم مودی) پر ہپو کریٹک ہونے کا الزام نہیں لگا سکتے ہیں۔‘ جو لوگ قتل عام کی بات کرتے ہیں، وزیراعظم تو انہیں ٹوئٹر پر فالو کرتے ہیں۔ ہمارے لیڈر خاموش رہتے ہیں لیکن دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ سب کا خیال رکھتے ہیں۔ وہ اپنا ذاتی دھرم کی نمائش کرتےہیں لیکن مسلمانوں پر انگلیاں اٹھاتے ہیں۔










