اردو
हिन्दी
مئی 2, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

توہین رسالت کے واقعات شکست خوردگی کی علامت ہیں

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ مذہبیات, مضامین
A A
0
توہین رسالت کے واقعات شکست خوردگی کی علامت ہیں

حضرت محمد ﷺ سے امت مسلمہ کی والہانہ محبت ابو جہل کی اولاد کو آج بھی گوارا نہیں (فائل فوٹو)

49
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

کلیم الحفیظ


اسلام میں حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ سے محبت اور عقیدت ایمان کا لازمی حصہ ہے۔ایک مسلمان کا ایمان اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک کہ وہ سچے دل سے آپ سے محبت نہ کرے ۔یہ محبت بھی کوئی عام محبت نہ ہوگی بلکہ دنیا میں تمام انسانوں سے بڑھ کر ہونی چاہئے ۔یعنی اپنے ماں باپ،اپنے اساتذہ ،اپنے پیر و مرشد اور اپنی اولاد و اہل و عیال یہاں تک کہ اپنی جان سے بڑھ کر اگر یہ محبت نہیں ہے تو ایمان نہیں ہے ۔بعثت نبوی ﷺ سے لے کر آج تک کی تاریخ اس بات پر گواہ ہے کہ مسلمانوں نے آپ کی محبت میں اپنی جان کے نذرانے ہنسی خوشی پیش کیے ۔اگر آج سے چودہ سو سال پہلے مکہ میں آپ ؐ کے عظیم المرتبت صحابی حضرت خباب ؓ کفار مکہ سے یہ کہتے ہیں کہ میری جاں بخشی کے بدلے میں اگر تم یہ چاہتے ہو کہ میرے آقا کے پائوں میں صرف کانٹا چبھائو تو مجھے یہ بھی گوارا نہیں توآج چودہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی آپ کے ہر امتی کے یہی جذبات ہیں ،آپ کا امتی سب کچھ برداشت کرسکتا ہے مگر آپ ؐکی شان میں جملے تو کیا ایک حرف بھی برداشت نہیں کرسکتا۔کتنے ہی عاشقان رسول نے توہین رسالت کے مجرموں کو موت کی نیند سلادیا اور اس کے عوض میں اپنی جان قربان کردی ۔محبت رسول کی یہ چنگاری ایک عالم و عابد اور متقی و پرہیزگار سے لے کر بڑے سے بڑے گناہ گار مسلمان کے اندر موجود ہے ۔
سوال یہ ہے کہ مسلمان کہیں بھی اور کبھی بھی کسی کے دیوی دیوتا ئوں کی توہین نہیں کرتے ،قرآن مجید میں خود اللہ نے اس عمل سے روکا ہے۔ اس کے باوجود دشمنان اسلام کو نبی ﷺ سے اتنی عداوت کیوں ہے ؟کیوں ساری دنیا میں اسلام مخالفین عناصر آپ کی ذات ا قدس کو نشانہ بناتے ہیں؟کہیں کوئی کارٹون بنا کر آپ کی توہین کرتا ہے۔کوئی ابلیس شیطانی آیات لکھتا ہے،کہیں سوشل میڈیا پر بکواس کی جاتی ہے؟کسی کو آپ ؐ کی ازواج مطہرات سے نفرت ہے؟غرض ساری دنیا کے شیطان کسی نہ کسی صورت آپ ؐ کی شان میں گستاخی کرتے رہتے ہیں۔ مغربی دنیا کے مقابلے بھارت میں اس طرح کے واقعات شاذو نادر ہی ہوتے رہے ہیں اور جب بھی ہوئے ہیں بھارت کے حکمراں طبقے اس کی مذمت کرتے رہے ہیں لیکن گزشتہ سات آٹھ سال سے ان مذموم واقعات میں نہ صرف اضافہ ہوا بلکہ ملعونوں کو حکمرانوں کی خاموش تائید بھی حاصل ہوتی رہی ہے اور یہی بات زیادہ تشویشناک ہے۔جب کہ بھارت کے آئین کے مطابق مذہبی جذبات کو مجروح کرنا جرم ہے ۔
بعض لوگ اس معاملے کو اظہار رائے کی آزادی کے تحت شمار کرتے ہیں۔خاص طور پر مغرب میں یہ بات کہی جاتی ہے کہ ہر شخص کو اپنے خیالات اور نظریات کے اظہار کا حق ہے۔لیکن یہ بات سمجھ میں نہیں آتی کہ اظہار رائے کی آزادی مطلقاًآ ّزاد کیسے ہوسکتی ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ رائے کی آزادی اور گالیاں دینے میں بڑا فرق ہے۔اگو کوئی شخص اسلام کے نظریات پر گفتگو کرتا یا سوال اٹھاتا ہے اور ادب و احترام کا خیال رکھتا ہے تو کوئی حرج نہیں ہے مثال کے طور پر کوئی فرد توحید ، رسالت اور آخرت کے عقیدے کے وجود،اس کے ممکن ہونے یا ناممکن ہونے پر علمی مباحثہ کرتے ہوئے اپنی کوئی رائے پیش کرتا ہے اور وہ اسلام کی واضح تعلیمات کے خلاف ہوتی ہیں تب بھی نہ صرف اس کو سنا جائے گا ،اس کا علمی جواب دیا جائے گا بلکہ اس طرح کے علمی مباحثے کا خیر مقدم کیا جائے گا کیوں کہ یہ مباحثے اسلام کو سمجھنے کے لیے ہوں گے ۔لیکن کوئی شخص جہالت پر اترکر علمی اعتراض کے بجائے ،مذاق اڑاتے ہوئے پھبتیاں کستا ہے ،کارٹون بناتا ہے اسور گالیاں دیتا ہے تو یہ حرکت اظہار رائے کی آزادی میں شمار نہیں کی جاسکتی اس لیے کہ ہنسی اڑانے،مذاق بنانے ، پھبتیاں کسنے،گالیاں دینے اور علمی مباحثہ کرنے میں زمین و آسمان کا فرق ہے۔اکثر دیکھا گیا ہے کہ شعائر اسلام کی بے حرمتی یا توہین رسالت پر جب مسلمان احتجاج کرتے ہیں تو میڈیا یہ باور کراتا ہے کہ مسلمان اپنے خلاف کچھ بھی سننے کو تیار نہیں ہیں ۔میڈیا کی بنائی یہ تصویر مسلمانوں کے لیے زمین تنگ کردیتی ہے۔حالانکہ اسلام ہی وہ اکیلا دین ہے جو سوچنے اورغور و فکرکرنے کی وکالت کرتا ہے اور اپنے پیغمبر کو بھی مشاورت کا حکم دیتا ہے،اسلام اختلاف رائے کی اجازت بھی دیتا ہے اور حوصلہ افزائی بھی کرتا ہے۔اسلامی تاریخ اس طرح کے واقعات سے بھری پڑی ہے جہاں حضرت عمرؓ جیسے جلیل القدر خلیفہ کو بھی ایک بڑھیا ٹوک دیتی ہے۔اختلاف رائے الگ چیز ہے اور توہین کرنا بالکل الگ چیز۔مسلمان اپنے ہم وطنوں سے اس کامطالبہ نہیں کرتے کہ وہ حضرت محمد ﷺ پرلازماً ایمان لائیں ،یا ان سے محبت کریں ،یا ان سے اختلاف رائے نہ رکھیں ،لیکن اس کا مطالبہ ضرور کرتے ہیں کہ وہ نبی ﷺ کا نام احترام سے لیں،ان کے تعلق سے کوئی بے بنیاد بات نہ کہیں ،ایسے الفاظ کا استعمال نہ کریں جس سے مسلمانوں کی دل آزاری ہوتی ہو ،اس لیے کہ دل کا دکھانا کسی بھی مذہب میں پسندیدہ نہیں ہے۔جس دھرم میں چوہے،بندراور کتوں کو بھی دیوتا مانا ہوگیا ہے۔اس دھرم کے ماننے والوں سے کون امید کرسکتا ہے کہ وہ اس ذات کی توہین کرے جس کو آدھی دنیا اپنا ہیرو تسلیم کرتی ہے ،جس پر جان دینے والوں کی تعداد اربوں میں ہے،جس کے نام لیوا زمین کے ہر حصے میں پائے جاتے ہیں ،جس کا نام ہر لمحے فضائوں میں گونجتا ہے ،جس کی تعریف اس کے دشمن بھی کرتے ہیں ،مائکل ہارٹ جیسے متعصب عیسائی نے 1978میں جب دنیا کے سو بڑے انسانوں کی فہرست بنائی تو وہ اس بات کے لیے مجبور ہوگیا کہ حضرت محمد ﷺ کا اسم گرامی سب سے اوپر رکھے۔اس ذات اقدس کی شان میں گستاخی کو کیسے برداشت کیا جاسکتا ہے جو ہمارے دل کی دھڑکن ہو ،جس کی بدولت دنیا کو سچائی کا راستا ملا ہو،جس نے کبھی کسی پر نہ ظلم کیا ہو،نہ کسی کا حق مارا ہو،نہ کسی کا دل دکھایا ہو۔نرسنگھ آنند ہو یا تسلیمہ و رشدی ان لوگوں کی یہ حرکات دراصل بو جہلی سلسلے کی ہی کڑی ہے۔اس پورے گروہ کی نبی ﷺ سے عداوت اور دشمنی عصبیت کی بنیاد پر ہے ۔نبی ﷺ کی عظمت اور آپ کے جاں نثاروں کی عقیدت دیکھ کرابو جہل بھی اپنے نسلی اور خاندانی غرور میں پاگل ہوگیا تھااور آج کے نرسنگھ کو بھی یہی دکھ ہے کہ عرب کا ایک یتیم در یتم کیوں بن گیا۔
توہین رسالت کے واقعات اسلام مخالف قوموں کے ذہنی دیوالیہ پن اور ان کی شکست خوردگی کی علامت ہیں۔ان کے پاس حضرت محمد ﷺ کی طرح کوئی بے داغ کردار نہیں ہے تو وہ کھسیاہٹ میں حضور کے دامن کو داغدار کرنے کی ناکام کوشش کررہے ہیں ۔بھارت کی موجودہ مرکزی حکومت کے بنیاد ی نظریات میں اسلام دشمنی شامل ہے اس لیے وہ بھارتی مسلمانوں کو ہر دن نئے زخم دینے کے منصوبے پر عمل پیرا ہے ۔مگر ہمیں شکوہ اپنے ان سیکولر سیاسی رہنمائوں سے ہے جو مسلم ووٹوں پر زندہ ہیں لیکن مسلم ایشوز پر لب کشائی کی زحمت نہیں کرتے یہاں تک کہ شان رسالت میں گستاخی جیسے غیر انسانی ،غیر اخلاقی اور غیر آئینی جرم پر بھی خاموش ہیں۔اسی طرح مسلم ممبران پارلیمنٹ اور ممبران اسمبلی کی اکثریت بھی اپنی پارٹی کی ناراضگی نہیں مول لینا چاہتی۔اس موقع پر اگر مذہبی گروہ کے ساتھ ساتھ سیاسی رہنما بھی آگے آئیں اور جمہوری طریقوں سے اپنی بات دنیا کے سامنے رکھیںتو باطل کے حوصلے پست ہوسکتے ہیں ،اسی کے ساتھ یہ بھی ضروری ہے کہ آئینی عدالتوں میں ان ملعونوں کے خلاف مقدمات قائم کیے جائیں۔میں اس بات کی وکالت یا حمایت تو نہیں کرتا کہ کوئی شخص جذبات میں آکر قانون اپنے ہاتھ میں لے لیکن اپنے ہاتھوں سے قانون کا صحیح استعمال توہم سب کرہی سکتے ہیں۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN