نئی دہلی: (ایجنسی)
بھارت ایک غریب اور سب سے زیادہ عدم مساوات والے ملکوں کی لسٹ میں شامل ہوگیا ہے۔ ملک میں سال 2021 میں ایک فیصدی آبادی کے پاس قومی آمدنی کا 22 فیصدی حصہ ہے، جب کہ نچلے طبقے کے پاس 13 فیصدی ہے۔ ’ عالمی عدم مساوات رپورٹ 2022‘ (World inequality Report 2022) عنوان والی رپورٹ کے رائٹر لوکاس چانسل ہیں جو کہ ’ورلڈ اِن اکوالیٹی لیب‘ کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر ہیں۔
اس رپورٹ کو تیار کرنے میں فرانس کے اکنامسٹ تھامس پیکیٹّی سمیت کئی ماہرین نے تعاون کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان اب دنیا کے سب سے زیادہ عدم مساوات والے ملکوں کی فرہست میں شامل ہوگیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ہندوستان کی بالغ آبادی کی اوسطاً قومی آمدنی 2,04,200 روپے ہے جب کہ نچلے طبقے کی آبادی (50 فیصدی)کی انکم 53,610 روپے ہے۔ سرفہرست 10 فیصدی آبادی کی انکم اس سے قریب 20 گنا (11,66,520) زیادہ ہے۔
رپورٹ کے مطابق، ہندوستان کی سرفہرست 10 فیصدی آبادی کے پاس مجموعی قومی آمدنی کا 57 فیصدی، جب کہ ایک فیصدی آبادی کے پاس 22 فیصدی ہے۔ وہیں، نیچے سے 50 فیصدی آبادی کی اس میں حصہ داری صرف 13 فیصدی ہے۔ اس کے مطابق، ہندوستان میں اوسطاً گھریلو جائیداد 9,83,010 روپے ہے۔ اس میں کہا گیا ہے ، ’ہندوستان ایک غریب اور کافی عدم مساوات والا ملک ہے جہاں ایلیٹ کلاس کے لوگ بھرے پڑے ہیں۔‘
رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ ہندوستان میں صنفی عدم مساوات بہت زیادہ ہے۔ اس میں کہا گیا ہے، ’خاتون مزدوروں کی آمدنی کی حصہ داری 18 فیصدی ہے۔ یہ ایشیا کے اوسطاً (21 فیصدی، چین کو چھوڑ کر) سے کم ہے۔










