اردو
हिन्दी
اکتوبر 12, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

عبوری راحت: مسلم فریق کے ہاتھ خالی؟؟

1 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ خبریں
A A
0
Interim relief Muslim side court verdict
119
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

نئی دہلی، آرکے بیورو
‘عبوری راحت’ پر تجزیاتی رپورٹ
سپریم کورٹ نے پیر کو وقف (ترمیمی) ایکٹ 2025 کیس پر اپنا عبوری فیصلہ سنایا۔ سپریم کورٹ نے وقف قانون پر روک نہیں لگائی لیکن بعض دفعہ پر پابندی ضرور لگائی ہے۔ چیف جسٹس بی آر کی دو رکنی بنچ نے( گوائی اور جسٹس اے جی مسیح) نے کہا کہ پارلیمنٹ کے ذریعہ منظور کردہ قانون کی آئینی حیثیت کا تصور ہمیشہ اس کے حق میں ہوتا ہے، لیکن کچھ دفعات پر عبوری تحفظ کی ضرورت ہوتی ہے۔جب ایکزیکٹیو حصے کو سن کر مسلم فریق نے بہت جلد بازی میں ردعمل دیا اور اس کو فتح پر معمور کیا مگر شام ہوتے ہوتے سر بدل گیے خوشی کی جگہ مایوسی اور اطمینان کی جگہ اضطراب نے کے لی ـ,کیا یہ کہنا جلد بازی ہوگی کہ مسلم پرسنل لا بورڈ ایک اور لڑائی ہارنے جارہا ہے عدالت میں بھی ،سڑک پر بھی پارلیمنٹ میں عددی اکثریت کی بناپر بل پاس ہی ہوگیا تھا اور ان لوگوں نے دھوکہ دیا جنھیں کندھے پر۔ ٹرائے پوری زندگی لگادی -وقت آنے پر انہوں نے غداری کی ،بورڈ کو یقین تھا یقین دلایا بھی تھا کہ وہ طاقتیں ساتھ دیں گی،اسی لیے سارا زور ساؤ تھا پر لگایا اور یوپی بہار کو چھوڑے رکھا
جیسا کہ اوپر ذکر ہوا ہے مسلم جماعتوں نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا خیرمقدم کرتے ہوئے اپنی جیت کا اعلان کیا لیکن شام تک بازی پلٹ گئی۔ مسلم جماعتوں کی خوشی ماند پڑ گئی اور جس فیصلے کو وہ صبح تک اپنے حق میں سمجھ رہے تھے، اب وہ اسے اپنے خلاف قرار دینے لگے۔مسلم فریق اسے اپنی راحت اور فتح سمجھ رہے تھے لیکن جب 128 صفحات پر مشتمل فیصلہ سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ کیا گیا۔ جب اس پورے فیصلے کو حوالہ کے ساتھ تفصیل سے پڑھا گیا تو مسلم فریقوں کو اندازہ ہوا کہ جس چیز کو وہ فتح اور راحت سمجھ رہے تھے وہ کچھ اور ہی نکلا۔


مسلم پرسنل لا بورڈ اور مسلم فریق کے وکیلوں میں سے ایک ایم آر شمشاد نے کہا کہ فیصلہ سنتے ہوئے ایسا لگتا ہے کہ سپریم کورٹ نے قانون کی کچھ شقوں پر پابندی لگا دی ہے۔ اسی بنیاد پر ہم نے ابتدائی ردعمل بھی دیا تھا۔تاہم جب ہم نے پورا فیصلہ پڑھا تو معاملہ کچھ اور نکلا۔ عدالت کے فیصلے میں ابتدائی طور پر ہم نے محسوس کیا کہ کلکٹر کے اختیارات پر پابندی لگا دی گئی ہے۔ یہ خوش آئند ہے۔ اس کے علاوہ سپریم کورٹ نے ہماری طرف سے اٹھائے گئے دیگر اہم مسائل پر بھی ابتدائی طور پر نتیجہ اخذ کیا ہے لیکن فیصلے میں لکھے گئے حقائق ہمارے لیے پریشان کن معلوم ہوتے ہیں۔

+••اے ایس آئی کے سروے پر کوئی پابندی نہیں۔
ایم آر شمشاد نے کہا کہ اے ایس آئی سروے کے تحت قانون میں ترمیم کے تحت وقف املاک کو غیر وقف کرنے پر بات چیت ہوئی تھی۔ اس پر دباؤ ڈالا گیا۔ عدالت نے اس پر کوئی پابندی نہیں لگائی۔ پہلی نظر میں، ایک عبوری تبصرہ تھا۔اے ایس آئی کے سروے کے بعد ملکیت کی منتقلی تشویشناک ہے۔ دوسرا گرے ایریا مذہبی موضوع سے متعلق تھا۔ اب اس کی اجازت ہوگی یا نہیں یہ گرے ایریا ہے۔ قبائلی علاقوں میں مسلمان اپنی جائیداد کے نام پر کسی بھی زمین پر قبضہ نہیں کر سکتے۔ اس کا سیدھا مطلب ہے کہ ان کے پاس آرٹیکل 25، 26 کا حق نہیں ہے۔

•وقف پر حد بندی ایکٹ لاگو نہیں ہوگا۔
شمشاد بتاتے ہیں کہ قانون میں کہا گیا تھا کہ وقف پر حد بندی ایکٹ بھی لاگو نہیں ہوگا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ایک بار وقف کی جائیداد حاصل کر لی جائے اور کوئی اس پر قبضہ کر لے یا اس پر قبضہ کر لے، تو 12 سال تک کوئی قانونی کارروائی نہیں کی جائے گی، کیونکہ حد بندی ایکٹ لاگو نہیں ہو گا۔ یہ وقف املاک کے تحفظ کے لیے تھا۔ اب حد بندی ایکٹ کو ہٹانے کا نتیجہ نکلا ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ یہ سچ ہے کہ وقف املاک پر دوسروں نے قبضہ کیا ہے۔ عدالت کے فیصلے میں یہ نظریہ لگتا ہے کہ وقف اداروں نے سرکاری املاک پر قبضہ کر لیا ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جہاں عدالت کا ایسا نقطہ نظر ہمارے لیے مشکلات میں اضافہ کرے گا۔
کلکٹر کے پاس پاور برقرار – اویسی
آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے سربراہ اسد الدین اویسی نے پیر کو پہلے عدالت کے فیصلے کا خیرمقدم کیا اور بعد میں جب انہوں نے پورا فیصلہ پڑھا تو انہوں نے کہا کہ وقف ترمیمی ایکٹ پر سپریم کورٹ کا عبوری حکم بھی وقف املاک کی حفاظت نہیں کر سکے گا۔ اویسی نے کہا کہ اس قانون سے تجاوزات کرنے والوں کو فائدہ ہوگا اور وقف اراضی پر ترقیاتی کام رک جائیں گے۔
اویسی نے کہا کہ وقف قانون پر عدالت سے حتمی فیصلہ ابھی نہیں آیا ہے۔ یہ صرف ایک عبوری حکم ہے۔ امید ہے کہ یہ (سپریم کورٹ) جلد ہی اس ایکٹ کے پورے معاملے پر کوئی فیصلہ دے گی۔ اویسی نے کہا کہ وقف املاک کا معائنہ کرنے والے کلکٹر کی فراہمی پر روک لگا دی گئی ہے، لیکن کلکٹر کو اب بھی سروے کرنے کا حق ہے۔

••غیر مسلم کی تقرری پر سوال
انہوں نے کہا کہ سی ای او کی تقرری کے لیے سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ جہاں تک ہو سکے مسلمان ہونا چاہیے۔ حکومت دعویٰ کرے گی کہ انہیں کوئی اہل مسلمان نہیں ملا۔ جو پارٹی کسی مسلمان کو ایم پی کا ٹکٹ نہیں دیتی اور جس کا ایک بھی مسلم ایم پی نہیں ہے، کیا وہ کسی مسلمان افسر کو تعینات کرے گی؟ ساتھ ہی اویسی نے کہا کہ انٹیلی جنس بیورو میں کتنے مسلمان ہیں؟اویسی نے کہا کہ وہ وقف میں غیر مسلم ممبران کا تقرر کریں گے۔ کیوں؟ یہ آرٹیکل 26 کی خلاف ورزی ہے۔ اگر کسی غیر سکھ کو ایس جی پی سی کا ممبر بنایا جائے تو سکھ کیسے محسوس کریں گے؟ اویسی نے اس طرح کی دفعات کو مذہبی آزادی کے خلاف قرار دیا اور اس پر مودی حکومت سے واضح جواب طلب کیا۔اویسی نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس شق پر مکمل پابندی نہیں لگائی ہے جس کے تحت کسی شخص کو 5 سال تک مسلمان رہنا ہوتا ہے۔ کسی بھی مذہب کے فرد کو دوسرے مذہب کو چندہ دینے سے روکنے کا کوئی قانون نہیں ہے۔ آئین کے آرٹیکل 300 کے مطابق میں اپنی جائیداد جسے چاہوں دے سکتا ہوں۔ پھر اسلام کے ماننے والوں کے لیے ایسا انتظام کیوں کیا گیا ہے؟ انہوں نے بی جے پی سے مطالبہ کیا کہ تبدیلی کے بعد وقف کو جائیداد کس نے عطیہ کی اس کا ڈیٹا پیش کیا جائے۔
کل ملا کر ہمارے دونوں ہاتھ خالی ہیں ـاگر اگے لڑائی بچی ہے تو بہت لمبی ہے ـ قانون کی عدالت میں تجربہ کچھ اچھا نہیں رہا ہے بلکہ سارا نفاذ عدالتوں کے ذریعہ ہی ہوا ہے ـ,شاہ بانو سے بابری مسجد ،تین طلاق اور اب سنبھل اس کی جھانکی ہے کچھ بھی ہو ہمارے یہاں بیانات دینے میں احتیاط ،اعتدال اور توازن کا آلا ماشاءاللہ خیال نہیں رکھا جاتا ہے ـاسٹیج سے سینے ہر گولیاں کھانے اور جان دینے کا عہد کرنے والوں امتحان قریب آگیا ہے ـ

ٹیگ: Court verdictEmpty handedInterim reliefMuslim sideخالی ہاتھعبوری راحتعدالت فیصلہمسلم فریق

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟
خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

09 اکتوبر
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر
خبریں

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

09 اکتوبر
SIR Fake Details FIR
خبریں

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

08 اکتوبر
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

حافظ قرآن کی عظمت اور ان کا مقام و مرتبہ

مارچ 31, 2022
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

اعصابی کمزوری کی علامات، اسباب اور علاج

مارچ 23, 2021
ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
SIR Fake Details FIR

رناٹک SIR میں نیا انکشاف، اونگیرے ضلع انتظامیہ پر تقریباً 3,000 نام ہٹانے کا دباؤ تھا

اکتوبر 8, 2026
ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

ریاض میں دھماکوں کی گونج، حوثیوں کا کنگ خالد ایئرپورٹ پر بیلسٹک میزائل حملے کا دعویٰ

اکتوبر 8, 2026

حالیہ خبریں

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

ایلون مسک نے کیوں پوچھا، ’کیا بھارت کا اصل باس امبانی ہے؟

اکتوبر 9, 2026
دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

دہلی میں 10 اکتوبر کے احتجاج سے پہلے سخت انتظامات، نظام الدین کی ٹرینیں منسوخ، 57 میٹرو اسٹیشن متاثر

اکتوبر 9, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN