ایودھیا :(ایجنسی)
وزیر اعظم مودی کے ذریعہ قبرستان اور شمشان پر بات کئے جانے کے تقریباً پانچ سال بعد ایک بار پھر یوگی آدتیہ ناتھ نے سماج وادی پارٹی پر حملہ بولتے ہوئے شمشان اور قبرستان کا ذکر کیا ہے۔ ایس پی پر مذہبی تفریق کا الزام لگاتے ہوئے یوگی نے کہاکہ پہلےقبرستان کے لیے فنڈ جاری کئے جاتے تھے اور باؤنڈری بنائی جاتی تھی لیکن اب سرکار مندروں کے تزئین کاری کے لیے رقم خرچ کرتی ہے ۔
ایودھیا میں دیوالی کے موقع پر اپنے خطاب کے دوران یوگی نے کہا کہ اتر پردیش میں ایک بڑی تبدیلی دیکھی جا رہی ہے۔اس سے پہلے سرکاری فنڈ کااستعمال قبرستانوں کی دیوار بنانے کے لیے کیا جا تا تھا ۔ اب اس کا استعمال مندروں کی ترقی کے لیے ہوتا ہے ۔
انہوں نے کہاکہ یہ نظریات میں تبدیلی ہے ۔ جو لوگ قبرستان کی فکر کرتےتھے وہ وہیں پیسہ بھی لگاتے تھے ، جو لوگ مذہب اور ثقافت کی فکر کرتےہیں وہ پیسہ کا استعمال اس کی ترقی میں کررہے ہیں ۔
سی ایم یوگی کے اس بیان کو اس لیے اہم مانا جا رہا ہے کیونکہ اتر پردیش میں اسمبلی انتخابات قریب ہیں۔ پانچ سال پہلے سال 2017 میں انتخابی مہم کے دوران پی ایم مودی نے بھی فتح پور میں ایک ریلی میں ایسی ہی بات کہی تھی۔ انہوں نے ایس پی پر حملہ بولتے ہوئے کہا تھا ’’ اگر گاؤں کو قبرستان دیا جاتا ہے تووہاں شمشان بھی ہونا چاہئے۔ اگر رمضان کے وقت بجلی رہتی ہے تودیوالی میں رہنی چاہئے ۔ اگرہولی میں بجلی رہتی ہے توعید میں بھی رہنی چاہئے۔کسی کے کوئی امتیازی سلوک نہیںہونا چاہئے۔‘‘
بدھ کو یوگی نے کہا تھا کہ ایودھیا میں رام مندر کے علاوہ مرکزی حکومت 500 سے زیادہ مندروں کی تزئین و آرائش کر وارہی ہے۔ انہوں نے کہا تھا کہ رام مندر کی تعمیر میں حائل تمام رکاوٹیں بھی ہٹا دی گئی ہیں۔ اب رام مندرکو بننے سے کوئی بھی طاقت روک نہیں سکتی ہے ۔









