اردو
हिन्दी
مئی 3, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein
کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں

اسرائیل، فلسطین جنگ اور ابو خان کی بکری

5 سال پہلے
‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎|‏‏‎ ‎‏‏‎ ‎ فکر ونظر
A A
0
اسرائیل-فلسطین کا قضیہ کیا ہے؟
97
مشاہدات
Share on FacebookShare on TwitterShare on Whatsapp

افتخار گیلانی
اسرائیل کے ایک معروف کالم نویس گڈیون لیوی نے ایک بار وزیر اعظم ایہود براک سے جو 1999سے 2001تک اس عہدے پر فائز تھے، پوچھا کہ اگر وہ فلسطینیوں کی جگہ پر ہوتے، تو ان کے کیا احساسات ہوتے؟ براک نے برجستہ جواب دیا کہ وہ کسی دہشت گرد تنظیم کے ممبر ہوتے۔ ان کے اس بیان نے اس وقت خاصا تنازعہ پیدا کر دیا تھا۔ یہودیوں کاکہنا تھا کہ انہوں نے فلسطینیوں کی عسکری تحریک کو جواز فراہم کردیا ہے، جبکہ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ اسرائیلی وزیر اعظم نے ان کی سبھی تنظیموں کو دہشت گرد وں کے کھاتے میں ڈال دیاہے۔ غزہ سے بس ایک میل کے فاصلے پر اسرائیل کا شہر نگار یعنی فلم سٹی سدیروت ہے۔ بارڈر پر ہونے کی وجہ سے غزہ سے آئے راکٹوں کا نشانہ بھی زیادہ یہی بنتا ہے۔ 2004میں ان راکٹوں کی زد میں دو یہودی بچے چار سالہ آفک زھاوی اور دو سالہ ڈورت بنی سیان ہلاک ہوگئے تھے۔ان کی یاد میں اسرائیلی حکومت نے شہر کے مرکز میں ایک یادگار کے طور پر ان کے مجسمے نصب کئے ہیں اور باہر سے آنے والے صحافیوں اور دیگر وفود کو یہ جگہ دکھا کر باور کرایا جاتا ہے کہ فلسطینی کس قدر ظالم ہیں کہ وہ معصوم بچوں کو بھی نہیں بخشتے ہیں۔

خیر مجھے یاد ہے کہ اس جگہ کا دورہ کرنے کے بعد ایک معمر خاتون کے ساتھ ہماری ملاقات کروائی گئی، جو بتایا گیا کہ آفک کی دادی ہے۔ غزہ شہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے جب وہ کئی سال قبل کے راکٹ حملوں اور اسکے پوتے کی موت کے بارے میں بتا رہی تھی، کہ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا اس نے کبھی سوچا ہے کہ اس جالی دار باڑ کے اس پار جب اسرائیلی فوج کی بمباری سے آفک کی ہی طرح کے شیر خوار بچے ہلاک ہوتے ہیں، تو ایسی ہی کسی دادی کا کلیجہ بھی شق ہوتا ہوگا؟ بڑی بی کچھ دیر تک تو سن ہوگئی۔ مگر پھر صحافیوں اور اسرائیلی افسران کے سامنے ہی حکومت کو کوسنے لگی اور بتایا کہ چند روز قبل بھی ہیلی کاپٹروں نے مشین گنوں سے غازہ میں کسی کو نشانہ بنایا اور اس کے بعد کئی گھنٹوں تک اس شہر کی آبادی کو راکٹوں سے بچاو کیلئے بنائے گئے بنکروں میں رات گذارنی پڑی ۔

تل ابیب میں گڈیون لیوی مجھے بتا رہے تھے کہ اسرائیل کی ہٹ دھرمی کی بڑی وجہ خود اسرائیلی سوسائٹی اور امریکہ کی بے جا پشت پناہی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ کی دوستی بس ایسی ہی ہے، جو اپنے نشہ کے عادی دوست کو اسپتال میں بھرتی کروانے یا اسکا علاج کروانے کے بجائے اسکو مزید نشیلی چیزیں فراہم کروارہا ہو۔ نشہ کا عادی فرد تو خوش ہے مگر یہ کہاں کی دوستی ہے۔ اسرائیل کی مثال اس شخص کی ہے، جو طاقت کے نشہ میں چور ہے اور اسکو سمجھانے کی ضرورت ہے کہ دنیا میں وہی قومیں زندہ و جاوید رہتی ہے جو جیو اور جینے دو کے فلسفہ پر عمل کرتی ہیں، ورنہ ان کا انجام نہایت ہی برا ہوتا ہے اور یہودیوں نے اس کا مزہ بھی چکھا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی انتظامیہ اور واشنگٹن میں موجود یہودی لابی اسرائیل کی بقا کی سب سے بڑی دشمن ہے۔ انہوں نے اسرائیل کو ایک طرح سے ایک خول میں بند کر کے رکھا ہوا ہے، جہاں اسکو صرف اپنی آوا زسنائی دیتی ہے۔ مزید اسرائیلی سوسائٹی ایک طرف فلسطینیوں کے حقوق سے ہی انکاری ہے، دوسری طرف خود کو ہی مظلوم ثابت کرنے پر تلی ہوئی ہے۔

اسرائیلی اسکولوں میں کچے اذہان کو عربوں اور مسلمانوں کے خلاف جس طرح نفرت کی تعلیم دی جاتی ہے، اس سے شاید ہی مستقبل قریب میں کسی تصفیہ کی گنجائش باقی رہتی ہے۔ جس کا میں خود چشم دید گواہ ہوں۔ یروشلم شہر کے نواح میں لاٹرن کے مقام پر 1948میں اردنی افواج کے ساتھ خونریز معرکہ میں 586اسرائیلی فوجی مارے گئے تھے۔ اس جگہ پر پارک میںایک یادگار نصب ہے۔ ان کا دورہ کرتے ہوئے دیکھا کہ پرائمری اسکول کے بچے اپنے استاد کے ساتھ قطار میں بیٹھے ہوئے تھے۔ استاد انگریزی میں عربوں اور مسلمانوں کے خلاف نہایت ہی بلند ، جذباتی اور جوشیلے لہجے میں نفرت گھول رہا تھا۔ اس حد تک کہ ہمارے وفد میں ہی اسوقت دی ٹیلیگراف کے سفارتی مدیر کے پی نیر نے مداخلت کرکے اس استاد کو خوب ڈانٹا۔ اس کو بتایا کہ جنگ میں تو فریقین کا نقصان تو ہوتا ہی ہے، مگر اس نفرت کے ساتھ وہ کیسے جی سکیں گے۔

صحافی لیوی کا بھی کہنا تھا کہ اس نے ایک بار اپنے کالم میں تحریر کیا تھا کہ فلسطینیوں کے ساتھ حیوانوں جیسا سلوک کیا جاتا ہے ۔ اسکی وجہ یہ تھی کہ فلسطین کے مغربی کنارہ کے ایک شہر سے واپسی پر چیک پوسٹ پر ایک ایمبولینس اسرائیلی سیکورٹی دستوں کی کلیرنس کا انتظار کر رہی تھی۔ جب 45منٹ کے بعد بھی اسکیورٹی اہلکار اس ایمبولنس کو چیک کرنے کے بجائے اندر کمرے میں تاش کھیلنے میں محو رہے، تو اس نے اپنی گاڑی سے اتر کر پہلے ایمبولینس ڈرائیور سے باز پرس کی۔ اسنے کہا کہ یہ تو روز کا معمول ہے، یہ اہلکار اپنی مرضی سے گھنٹوں انتظار کروانے کے بعد گاڑی چیک کرنے کے بعد روانہ ہونے دیتے ہیں۔ پھر اسنے سیکورٹی اہلکاروں کے کمرے میں گھس کر ان سے سوال کیا کہ اگر اس ایمبولنس میں انکے والد یا کوئی قریبی رشتہ دار اسپتال میں بھرتی ہونے کیلئے جا رہا ہوتا، تو ان کا رویہ کیسا ہوتا؟ یہ سن کر انہوں نے اس اسرائیلی صحافی پر بندوقیں تان دیں،او رپوچھا کہ آیا اسنے کیسے یہودی اور فلسطینی کا موازنہ کیا؟

جب اس نے فلسطینیوں کے ساتھ روا رکھے اس سلوک کو حیوانیت بتایا تو اگلے دن ان کے اخبار حارث کے دفتر پر حیوانوں کے حقوق کیلئے سرگرم کارکنوں نے حتجاج کیا۔ یعنی وہ فلسطینیوں کو حیوانوں کے برابر حقوق دینے کے بھی روادار نہیں تھے۔

خیر 11روز کی جارحیت نے نے غزہ کو ایک ملبے کے ڈھیر میں تبدیل کرکے 66 بچوں سمیت 248 افراد کو شہید تو کردیا، مگر ڈاکٹرذاکر حسین کی مشہور کہانی ابو خان کی بکری کی طرح ،متفقہ اعتراف ہے کہ حماس نے اسرائیل کو ناکوں چنے چبوائے۔ ذاکر حسین کی کہانی کے آخر میں بھیڑیے اور ابو خان کی بکری چاندنی کی رات جنگ میں بکری ہلاک ہوجاتی ہے۔ صبح ٹہنیوں پر بیٹھے پرندے بحث کر رہے ہوتے ہیں کہ اس جنگ میں کس کی فتح ہوئی۔ سبھی کہتے ہیں کہ بھیڑیے نے میدان مار لیا، مگر ایک جہاندیدہ اور معمر پرندے کا اصرار تھا کہ چاندنی جیت گئی۔ اس کی آزادی کی لگن اور اس پر قربان ہونے کی تڑپ کے علاوہ رات بھر اپنے ننھے سینگوں کے ساتھ بھیڑیے کے ساتھ معرکہ آرائی نے چاندنی کو فاتح بنالیا۔

ٹائمز آف اسرائیل کے کالم نگار ڈیوڈ ہوروز کے مطابق اسرائیل لڑائی تو جیت گیا ، مگر جنگ ہار گیا ہے۔ان کے مطابق اسرائیل کو بڑی طاقتوں کی طرف سے جو سفارتی امداد ایسے اوقات میں مہیا ہوتی تھی، و ہ اس بار اس سے محروم تھا اور دنیا بھر میں اس کے خلاف ایک ماحول بن گیا تھا، جو اب کسی وقت یہودی مخالف رویہ اختیار کر سکتا ہے۔دوسری طرف نیا موڑ یہ تھا کہ اسرائیل میں آباد عرب آبادی بھی اس بار اس ظلم کے خلاف کھڑی ہوگئی۔ ماضی میں یہ 23فیصد عرب اسرائیلی آبادی فلسطینی تنازعہ سے خود کو لاتعلق رکھتی تھی۔ اس کے علاوہ ایک اور خاص بات یہ رہی کہ سوشل میڈیا کی بدولت یورپ اور امریکہ میں رائے عامہ خاصی حد تک اسرائیل کے خلاف منظم ہوگئی۔ امریکہ میں مقیم یہودی آبادی کے ایک طبقہ نے بھی اس قتل و غارت کے خلاف آواز بلند کی۔

دوسری طرف ترکی کی پر جوش سفارت کاری اور روس و ایران کی پس پردہ دھمکیوں نے بھی اپنا اثر دکھا کر اسرائیل کو جنگ بندی پر آمادہ کروادیا۔ روس نے لبنان میں ایران کے حمایت یافتہ حزب اللہ کو اسرائیل کے خلاف محاذ کھولنے سے باز رکھا ہوا تھا۔ مگر بتایا جاتا ہے آئس لینڈ میں منعقد آرکٹک کونسل کی میٹنگ کے دوران روسی وزیر خارجہ سرگئی لاروف نے امریکی ہم منصب انٹونی بلنکن کو بتایا کہ وہ اب مزید ایران کوحزب اللہ کو اسرائیل پر راکٹ حملوں سے باز نہیں رکھ سکے گا۔ اور اگر غزہ کی طرز پر اسرائیل نے ان حملوں کے جواب میں فضائی حملے کئے، تو روس شام اور لبنان کو فضائی کور فراہم کردیگا۔ روس کی یہ دھمکی خاصی کار گر ثابت ہوئی۔ ترکی کے صدر رجب طیب اردوان نے اس دوران کئی بار اپنے روسی ہم منصب پوٹن سے فون پر بات کرکے ا ن سے مداخلت کی اپیل کی تھی۔

امریکی تھنک ٹینک اٹلانٹک کونسل کے مڈل ایسٹ شعبہ کے انچارج شالوم لیپنی کے مطابق اسرائیل کو جلد ہی فلسطینی اتھارٹی کے سربراہ محمود عباس کے ساتھ سلسلہ جنبانی شروع کردینا چاہئے، تاکہ حماس کی مقبولیت کو لگام دی جاسکے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس جنگ نے یہ بھی ثابت کردیا ہے کہ پچھلے کئی برسوں سے اسرائیل اور کئی عرب ممالک کی طرف سے فلسطینی ایشو کو پس پشت ڈالنے کی جو کوششیش ہو رہی تھی، وہ ناکام ہوگئی ہے اور بتایا ہے کہ یہ قضیہ کو حل کئے بنا شاید ہی مشرق وسطیٰ میں امن قائم ہو سکے گا۔

قارئین سے ایک گزارش

سچ کے ساتھ آزاد میڈیا وقت کی اہم ضرورت ہےـ روزنامہ خبریں سخت ترین چیلنجوں کے سایے میں گزشتہ دس سال سے یہ خدمت انجام دے رہا ہے۔ اردو، ہندی ویب سائٹ کے ساتھ یو ٹیوب چینل بھی۔ جلد انگریزی پورٹل شروع کرنے کا منصوبہ ہے۔ یہ کاز عوامی تعاون کے بغیر نہیں ہوسکتا۔ اسے جاری رکھنے کے لیے ہمیں آپ کے تعاون کی ضرورت ہے۔

سپورٹ کریں سبسکرائب کریں

مزید خبریں

US Iran War Strategic Defeat News
مضامین

امریکہ – اسرائیل – ایران جنگ میں امریکہ کی اسٹریٹجک ہار پہلے سے طے

23 مارچ
Hormuz Strait Iran Speech
مضامین

ایران میں قیادت کی تبدیلی اور مجتبیٰ خامنہ ای: ایک تجزیاتی مطالعہ

12 مارچ
Modi Israel Gaza Questions Debate
مضامین

پی ایم مودی کے دورہ اسرائیل میں غزہ کے مصائب کا ذکر تک نہ ہونے پر سوالات اٹھ رہے ہیں۔ کیا چاہتا ہے بھارت ؟

28 فروری
  • ٹرینڈنگ
  • تبصرے
  • تازہ ترین
Humayun Kabir Owaisi Video Row

ہمایوں کبیر کے خفیہ ویڈیو نے اویسی پر بی جے پی کی بی ٹیم کے الزام کو تقویت دی، اتحاد ٹوٹا ، سیاسی بصیرت پر بھی سوال

اپریل 10, 2026
یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

یوپی کے 558 مدارس میں مڈ ڈے میل کون کھا رہا ہے؟ چونکاتی گراؤنڈ رپورٹ

اپریل 10, 2026
DD News Anchor Controversy News

پبلک ٹیکس سے چلنے والے ‘ڈی ڈی نیوز’ کے اینکر نے کہا” ساورکر کے چپل کی دھول بھی نہیں راہل گادھی

اپریل 13, 2026
طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

طالبان ميں پھوٹ کی خبريں، حقيقت يا پروپيگنڈہ؟

ستمبر 19, 2021
امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
دہلی میں بڑھتے جرائم پولیس الرٹ

دہلی-NCR میں جرائم کے واقعات میں اضافہ، پولیس الرٹ

اپریل 21, 2026
امریکہ ایران کشیدگی خبر

ایران–امریکہ مذاکرات میں محدود پیش رفت، اختلافات بدستور برقرار: قالیباف

اپریل 19, 2026

حالیہ خبریں

امریکہ ایران کشیدگی خبر

امریکہ–ایران کشیدگی ایک بار پھر سرخیوں میں، جنگ بندی میں توسیع کے باوجود بڑے معاہدے کا مستقبل خطرے میں

اپریل 22, 2026
الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

الیکشن سے قبل سیاسی بیان بازی تیز، کئی بڑے لیڈرز آمنے سامنے

اپریل 21, 2026
Latest News | Breaking News | Latest Khabar in Urdu at Roznama Khabrein

روزنامہ خبریں مفاد عامہ ‘ جمہوری اقدار وآئین کی پاسداری کا پابند ہے۔ اس نے مختصر مدت میں ہی سنجیدہ رویے‘غیر جانبدارانہ پالیسی ‘ملک و ملت کے مسائل معروضی انداز میں ابھارنے اور خبروں و تجزیوں کے اعلی معیار کی بدولت سماج کے ہر طبقہ میں اپنی جگہ بنالی۔ اب روزنامہ خبریں نے حالات کے تقاضوں کے تحت اردو کے ساتھ ہندی میں24x7کے ڈائمنگ ویب سائٹ شروع کی ہے۔ ہمیں یقین ہے کہ یہ آپ کی توقعات پر پوری اترے گی۔

اہم لنک

  • ABOUT US
  • SUPPORT US
  • TERMS AND CONDITIONS
  • PRIVACY POLICY
  • GRIEVANCE
  • CONTACT US
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN

Welcome Back!

Login to your account below

Forgotten Password?

Retrieve your password

Please enter your username or email address to reset your password.

Log In

Add New Playlist

کوئی نتیجہ نہیں ملا
تمام نتائج دیکھیں
  • ہوم
  • دیس پردیس
  • فکر ونظر
    • مذہبیات
    • مضامین
  • گراونڈ رپورٹ
  • انٹرٹینمینٹ
  • اداریے
  • ہیٹ کرا ئم
  • سپورٹ کیجیے

.ALL RIGHTS RESERVED © COPYRIGHT ROZNAMA KHABREIN