غزہ میں حملہ آور اسرائیلی فوج کو شدید مزاحمت کا سامنا ہے، 12 فوجیوں کی ہلاکت کے بعد قابض افواج پسپا ہونے پر مجبور ہوگئی۔
ایرانی میڈیا کے مطابق غزہ پر حملہ آور اسرائیلی افواج کو فلسطینی مزاحمت کاروں کی جانب سے شدید مزاحمت کا سامنا ہے۔غزہ کے قصبے زیتون میں اسرائیلی فورسز پر مزاحمت کاروں کے پے در پے حملوں میں 12 اسرائیلی فوجی ہلاک جبکہ 4 لاپتہ ہوگئےجھڑپوں کے دوران شدید فائرنگ کا تبادلہ ہوا، لاپتہ اسرائیلی فوجیوں کے حوالے سے تاحال کوئی اطلاعات موصول نہیں ہوئی ہیں۔ان جھڑپوں میں ناکامی کے بعد اسرائیلی حملہ آور فورسز زیتون کے علاقے سے پسپا ہوگئی ہیں۔
جھڑپوں کے دوران اسرائیلی افواج نے گن شپ ہیلی کاپٹرز اور توپ خانے بھی استعمال کیے تھےاسی دوران اسرائیلی صحافیوں نے سوشل میڈیا پلیٹ فارموں پر ایسی خبریں پھیلائیں جن کے مطابق غزہ کے اندر کئی "سخت نوعیت کے سکیورٹی واقعات” رونما ہوئے جن میں اسرائیلی فوجیوں کی ہلاکتیں ہوئیں۔ ان میں سب سے نمایاں واقعہ الزیتون محلے میں ہونے والا گھات کا تھا، تاہم اسرائیلی فوج کی جانب سے کوئی با ضابطہ اعلان سامنے نہیں آیا
اطلاعات کے مطابق امکان ہے کہ اسرائیلی فوج نے "ہنیبل پروٹوکول” نافذ کر دیا ہے۔ اس ضابطے کے تحت اگر کسی اسرائیلی کو قید کر لیا جائے تو فوج کو بھاری ہتھیار استعمال کرنے کی اجازت ہوتی ہے تاکہ قیدی کو لے جانے والوں کو موقعِ واردات سے نکلنے سے روکا جا سکے، خواہ اس سے قیدی کی جان کو خطرہ لاحق ہو۔ یہ اطلاع ترک اناضول نیوز ایجنسی نے دی۔ٹی وی پر نشر ہونے والے مناظر میں ہیلی کاپٹروں کی شدید پروازیں دکھائی گئیں جبکہ غزہ کی فضا میں روشنی پھیلانے والے بم گرائے گئے اور مسلسل جھڑپوں کی آوازیں سنی گئیں۔
یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چند گھنٹے قبل ہی القسام بریگیڈز کے ترجمان ابو عبیدہ نے اسرائیل کو خبردار کیا تھا کہ غزہ شہر پر قبضے کی اس کی کوشش اسے اپنے فوجیوں کے خون سے قیمت چکانی پڑے گی۔
ٹیلیگرام پر جاری بیان میں ان کا کہنا تھا "غزہ پر قبضہ نئے اسرائیلی فوجیوں کے پکڑے جانے کے امکانات کو بڑھا دے گا۔انھوں نے مزید کہا کہ "اسرائیلی قیدی ہمارے مجاہدین کے ساتھ ہی محاذِ جنگ پر رہیں گے، وہی خطرناک حالات اور وہی طرزِ زندگی جھیلیں گے جو ہمارے مجاہدین جھیل رہے ہیں۔”








