نئی دہلی:(ایجنسی)
وزیر اعظم کے پرنسپل سکریٹری پی کے مشرا کےساتھ چیف الیکشن کمشنر کی میٹنگ کو سابق سی ای سی نے غلط قرار دیا ہے۔ ’انڈین ایکسپریس ‘کی رپورٹ پر کم ازکم پانچ سابق چیف الیکشن کمشنروں نے اپنا ردعمل ظاہر کیا ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ اس طرح کی میٹنگ اور آرڈر الیکشن کمیشن کی شبیہ کو داغدار کر سکتے ہیں۔
’انڈین ایکسپریس‘ کی رپورٹ میں اس بات کا ذکر کیا گیا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر کے ساتھ دو دیگر معاونین کو پی ایم او کی طرف سے میٹنگ کےلیے بلایا گیا۔ سینئر افسران نےیہ بھی بتایا تھا کہ سی ای سی سشیل چندر اس طرح بلائےجانے سے خوش نہیںتھے۔ اس کے بعد 16 نومبر کوایک آن لائن میٹنگ ہوئی۔ اس کے بعدسشیل چندر اوردو دیگر ساتھی بھی پی کے مشراکےساتھ غیر رسمی بات چیت میں شامل ہوئے۔
وزارت قانون کی جانب سے الیکشن کمیشن کو خط بھیجا گیا جس میں کہا گیا کہ انتخابی اصلاحات کے حوالے سے کچھ ضروری بات چیت کرنی ہے اس لیے چیف الیکشن کمشنر کو اجلاس میں شرکت کرنا ہوگی۔ الیکشن کمیشن کے عہدیداروں نے خط کی زبان پر بھی اعتراض کیا تھا اور کہا تھا کہ یہ ’سمن‘ کی طرح لگتا ہے۔
حکومت کے اس طرح کے خط اور سی ای سی سے ملاقات کو غلط قرار دیتے ہوئے سابق سی ای سی ایس وائی قریشی نے کہا کہ یہ قابل برداشت نہیں ہے۔ اگر عدالتی اصلاحات پر کوئی بات چیت ہوتی ہے تو کیا وزیر اعظم براہ راست سی جے آئی کو میٹنگ میں بلائیں گے؟ وزیراعظم بھی سی ای سی کو اس طرح کسی میٹنگ میں نہیں بلا سکتے۔ یہ ان کے دائرہ اختیار سے باہر ہے۔
بتادیں کہ قریشی جولائی 2010 سے جون 2012 تک چیف الیکشن کمشنر کے عہدے پر تھے۔ ’اس طرح کی ملاقات شکوک و شبہات کو جنم دیتی ہے۔ ہمارے افسران سب کچھ جانتے ہیں۔ وہ تمام انتخابی اصلاحات نافذ کرتے ہیں۔ اس کے لیے افسران کو ٹریننگ بھی دی جاتی ہے۔ اس لیے افسران کو میٹنگ میں بلایا جائے اور براہ راست سی ای سی کو بلاوا بھیج دینا چاہئے۔









